Daily Mashriq

صوبے کے حقوق کیلئے پارلیمانی جرگہ کی مثبت تجویز

صوبے کے حقوق کیلئے پارلیمانی جرگہ کی مثبت تجویز

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کا صوبائی حقوق کے حصول کیلئے پارلیمانی جرگہ تشکیل دینے کا مطالبہ اور مشترکہ مفادات کونسل میں آفتاب غلام نبی(اے جی این)قاضی فارمولے کو تبدیل کرنے کی سازشیں کرنے پر تشویش کا اظہار کے ساتھ ساتھ اے جی این قاضی فارمولے کے تحت415ارب روپے کے بقایاجات کیلئے سخت موقف اپنا نے کا مشورہ حکومت کیلئے قابل توجہ امر ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بطورحکمران جماعت تحریک انصاف کے رہنما مصلحت پسندی کا شکار ہو سکتے ہیں وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ کی اپنی داخلی مجبوریاں ہوں گی جو اپنی جگہ حزب اختلاف جن مسائل پر پارلیمانی جرگہ تشکیل دینے کا مطالبہ کررہی ہے اس سے کوئی سیاسی مفاد وابستہ نہیں اصولی طور پر حکومت اور حکمران جماعت کو اس سے اختلاف نہیں ہوسکتا ایسے میں جب حزب اختلاف صوبے کے حقوق کیلئے آواز بلند کر ہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کیلئے اچھا موقع ہے کہ وہ اسی بہانے وفاقی حکومت سے صوبے کے حقوق کی بات کرے اور پن بجلی کے خالص منافع کی جو رقم ان کے ذمے ہے اس کی ادائیگی کا مطالبہ کرے یا پھر وزیراعلیٰ پارلیمانی جرگہ کی تشکیل سے اتفاق کریں اور پارلیمانی جرگہ کے اراکین کی وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات کرائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق کی جو بھی بات کرے گا اور صوبے کے عوام کے قانونی حق کے حصول کیلئے جو بھی آواز اٹھائے گا وہی صحیح معنوں میں عوام کی نمائندگی کا حقدار ہوگا۔

مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی

ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کو آرڈینیٹر کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے دوران مقررہ ہدف کے99فیصد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے ان کے مطابق اگست 2019ء کی پولیو مہم میں ہدف کا91فیصد حاصل کیا گیا تھاجبکہ ماہ دسمبر میں 99فیصد کا حصول ممکن ہوا ہے ان کا دعویٰ ہے کہ ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے زیرسایہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ ہیلتھ کی براہ راست نگرانی میںموقع پرفیصلوں اور فوری اقدامات کیلئے انسداد پولیو کے ضلعی کنٹرول رومز کو فعال اور بااختیار بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میںپولیو مہم کے دوران بچوں کے مقررہ ہدف کا حصول ممکن ہوا ہے ۔ایمرجنسی آپریشن سنٹر کو آرڈینیٹرکے دعوئوں کو عمل کی کسوٹی پر پرکھنے سے یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ ان کے اتنے قابل تحسین اقدامات اور اکیانوے سے ننانوے فیصد مہم کی کامیابی کے باوجود صوبے کے مختلف اضلاع سے بیک وقت پانچ بچوں پولیو زدہ ہوگئے ہیں۔چونکہ اعدادوشمارانہی کے فراہم کردہ ہیں اس لئے ان کو مشکوک بھی قرار نہیں دیا جا سکتا اکیانوے سے لیکر ننانوے فیصد کامیاب مہم پر تو پولیو وائرس سے ایک بچے کو بھی متاثر نہیںہونا چاہیئے کیونکہ ضروری نہیں کہ جو بچے کسی وجہ سے پولیو قطروں سے محروم ہو جائیں وہ خدانخواستہ لازمی طور پر پولیو وائرس کا شکار ہوں گے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیو مہم اتنی کامیابی سے چلانے کے باوجود پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میںاضافہ کیوں ہورہا ہے اتنے کیسز تو دہشت گردی کے دنوں میں سامنے نہیں آئے جب پولیو مہم کے دوران جانوں کی قربانی تک دی گئی اور اس دور کا سب سے پر خطر کام پولیو مہم تھی۔اب جبکہ اضلاع میں نگرانی کا عمل مربوط اور فعال اور پولیو کے انسداد کے مراکز مقررہ ہدف کے حصول میں بھی کامیابی حاصل کر رہے ہیں تو حیرت انگیز طور پر نتیجہ الٹا آرہا ہے۔اس ساری صورتحال کا از سر نو جائزہ لینے اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والے حالات پر غور کر کے سامنے آنے والی خامیوں ،خرابیوں،بے ضابطگیوں اور ممکنہ جعلی مہم و جعلی اعدادوشمار اور دیگر صورتحال کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پولیو کے ختم ہونے کی بجائے پھیلنے کو موثر طریقے سے روکا جاسکے۔

ہندکوان تحریک کا قیام

ہندکوزبان کی ترویج وفروغ کیلئے ہندکوان تحریک اور صحافیوں کی ٹیم کی تشکیل اپنی جگہ احسن ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہندکو کے فروغ اور ترویج ہر ہندکوان کا فرض ہے اس مقصد کیلئے تحریک کا آغاز خوش آئند ہے ہمارے تئیں ہندکو یا کسی بھی زبان کی ترویج اور اسے فروغ دینے کیلئے ایک نمائندہ اور مضبوط پلیٹ فارم ہی سے مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو زبان وادب کے نام پر گروپ بندی اور ڈیڑھ انچ کی مسجد بنانے کا رویہ ہی زبان وادب کے فروغ میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں جن لوگوں سے ترویج اور فروغ کی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں اگر وہی گروپ بندی کا شکار ہو جائیں گے تو زبان وادب کی ترویج اور خدمت کیسے ہوگی؟۔

متعلقہ خبریں