Daily Mashriq

والدین و اساتذہ کی ذمہ داریاں

والدین و اساتذہ کی ذمہ داریاں

جدید ٹیکنالوجی اور علوم و فنون نے جہاں دنیا میں انسان کے لئے ماضی کی نسبت نا قابل تصور آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں ہزار مسائل بھی منہ پھاڑے کھڑے کردئیے ہیں۔ بیسوں بیماریوں کا علاج دریافت ہوا ہے تو دسیوں لا علاج و خطرناک نئی بیماریاں خود انسان کے اپنے ہاتھوں انسان کے لئے مصیبت اور وبال جاں بنی ہوئی ہیں۔ پچھلے دنوں بھارت اور پاکستان میں سموگ یا فوگ نے انسانیت کو جس اذیت سے دوچار کیاوہ بھی انسان کے اپنے ہاتھوں کی پیداوار ہے۔ اسی لئے آج بھی یہ موضوع قابل بحث و تحقیق ہے کہ سائنسی ترقی اور نئی تہذیب سے ماقبل کی انسانی زندگی اچھی اور بہتر تھی یا ما بعد کی۔ دونوں طرف بڑے مضبوط دلائل ہیں لیکن آج کی اس نشست میں جن فتنوں کی بات ہوگی ان کا تعلق انسانی فکرو ذہن اور تہذیبی عادات و اطوار سے ہے۔ مغرب نے سائنس کی ایجادات و انکشافات کے ذریعے ایشیاء اور افریقہ کو بری طرح مغلوب کیا اور ایک طویل عرصے تک ان پر حکومت کرتے ہوئے ان کے افکار اور اذہان بالخصوص عقائد اور تہذیبی اقدار کو اپنے حق میں موڑنے کے لئے ہزاروں جتن کئے۔ بر صغیر پاک و ہند پر برطانوی راج کے دوران اس خطے کے مسلمانوں کو جس ذہنی اذیت اور کوفت سے دوچار کیاگیا وہ فتنہ قادیانیت ہے۔ استعماری دنیا کو مسلمانوں کی طرف جو سب سے بڑا خطرہ ہمیشہ نظر آیا ہے وہ جذبہ مزاحمت و مقاومت ہے۔ یہ جذبات جہاد و شہادت میں مضمر ہیں۔ نبی اکرمۖ کی عقیدت و محبت اور صحابہ کرام کی قربانیاں مسلمانان عالم کو ہمیشہ اپنے عقائد اساسیہ کی حفاظت کا جذبہ عطا فرمانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لئے کل بھی اور آج بھی ختم النبوتۖ کے عقیدے کو مسلمانوں کے ہاں متشکک بنانے کے لئے گہری اور زمین دوز کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبکہ عقیدہ ختم النبوتۖ یعنی نبی اکرمۖ پر ہر قسم کی نبوت اور وحی کی تکمیل و اختتام اور آپۖ کا آخری نبی اور رسولۖ ہونا اسلام کے ان بنیادی اور بدیہی عقائد میں سے ہے جس پر آپۖ کی بعثت کے بعد ہرز مانے اور مکان میں تمام عام و خاص' عالم و جاہل اور شہری اور دیہاتی مسلمان پکا ایمان رکھتے ہیں اور بہت سے غیر مسلم بھی مسلمانوں کے اس عقیدے کو جانتے اور مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے اس عقیدے یعنی ختم النبوتۖ پر قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بہت واضح اور قطعی انداز میں دلائل وشواہد موجود ہیں۔ قرآن کریم کے اولین مفسرین سے لے کر موجودہ صدی تک سارے مفسرین کے ہاں قرآن و حدیث سے اخذ شدہ خاتم النبیین ۖکا مفہوم و معنیٰ یہی ہے کہ آپۖ آخری نبی ہیں۔

ائمہ اربعہ' امام روزاہی' علامہ ابن حزم' امام غزالی' امام بغوی' علامہ جار اللہ زمخشری' قاضی عیاض' علامہ شہرستان' فخر الدین رازی' ابن کثیر' ابن تیمیہ' جلال الدین سیوطی ' علامہ شوکانی' شاہ ولی اللہ الغرض مشرق و مغرب کے مسلمان علماء و فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ نبی کریمۖ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ مستقل طورپر بند ہوچکا ہے اور اب جو بھی ایسا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور دجال ہے۔ ہندوستان پر برطانوی سامراج کے دوران سب سے بڑا فتنہ جو پیدا ہوا وہ مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کی صورت میں رونما ہوا۔ اس جھوٹے شخص نے 1901ء میں دعویٰ نبوت کرنے سے لے کر 1908ء میں اپنی وفات تک جو کچھ بے بنیاد' فضول اور بے تکی باتیں اپنے قول و تحریر سے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے پھیلائیں اس کو حکیم نور الدین بھیروی اور ان کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے ''تذکرہ'' کے نام سے جمع کرکے ضعیف العقیدہ لوگوں کو ورغلانے کی مہم چلائی جو آج تک جاری ہے۔ لیکن علماء ہند و پاکستان نے جس مجاہدانہ للہیت کے ساتھ اس فتنے کو دنیا کے سامنے آشکار کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن اس سلسلے میں حکومتی سطح جن دو شخصیات نے اہم ترین کردار ادا کیا وہ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق ہیں۔ بھٹو صاحب جیسے لبرل سیاستدان کے ہاتھوں اتنے بڑے کارنامے کا پایہ تکمیل تک پہنچنا یقینا مملکت خداداد پر اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور یہ اس عظیم ملک کے قیام میں لاکھوں شہداء کے مقدس خون کا اعجاز بھی ہے۔ بھٹو صاحب جب پارلیمنٹ سے منظور شدہ آئینی ترمیم پر دستخط کر رہے تھے تو بجا فرمایا تھا کہ '' میں اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہوں'' (اللہ ان کو ختم النبوتۖ کے صدقے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے)۔دوسرا عجیب و حیران کن امر یہ ہے کہ آئینی طور پر غیر مسلم قرار د ئیے جانے کے باوجود وہ سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے اسلامی شعائر اور اصطلاحات اور مقدسات کے ناموں کا برابر استعمال کر رہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ 1984ء جاری کرکے ان پر اسلامی شعائر کے استعمال کی پابندی لگا دی اور حقیقت یہ ہے کہ قادیانیت کو اس آرڈیننس نے جڑ سے اکھاڑ کر پاکستان کو بڑے خطرے سے محفوظ کیا۔ لیکن ان لوگوں نے اپنے بیرونی آقائوں اور سر پرستوں کے ذریعے بیرونی دنیا میں جال پھیلا کر اکا دکا ہمارے نوجوانوں کو مادی ترغیبات کے ذریعے پھنسانے اور مملکت خداداد کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیا لہٰذا والدین' اساتذہ اور ملک و قوم کے ذمہ داران کا فرض ہے کہ اپنی جواں نسلوں کو آج جدید و قدیم فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لئے قرآن و حدیث اور حب رسولۖ و صحابہ کی تعلیمات سکھانے کا انتظام جاری رکھیں۔

متعلقہ خبریں