Daily Mashriq

ہومیو پیتھک طرز احتساب

ہومیو پیتھک طرز احتساب

سال رفتہ میں متعدد واقعات ایسے پیش آئے جنہوں نے ہماری سیاسی جماعتوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آشکار کر دیا ،کوئی لاکھ کہے کہ حکومت کی طرف سے کسی کو کوئی این آر او نہیں دیا گیا اسی طرح اپوزیشن این آراو لینے کی لاکھ نفی کرے لیکن مسلم لیگ ن کے قائدمیاں نواز شریف کا علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانا ،شہباز شریف کے ساتھ ساتھ مریم نواز اور مسلم لیگ ن کے قائدین کا مسلسل خاموش رہنا کئی طرح کے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔اسی طرح حکومت کی طرف سے شفاف احتساب کے دعوے کی قلعی بھی اس وقت کھل گئی جب حراست میں موجود اپوزیشن کے قائدین کی پے در پے ضمانتیں ہونے لگیں۔جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو کیا کسی کو توقع تھی کہ احتساب کی علمبردار جماعت تحریک انصاف کے دور حکومت میں نیب قوانین میں ترمیم کے عمل کو حتمی شکل دی جائے گی ۔نیب کے قوانین میں ترامیم کے صدارتی آرڈیننس کا اچانک نفاذ ثابت کرتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے ا حتساب کے نعرہ سے نظری طور پر نہ سہی مگر عملی طور پر پوری طرح سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ ویسے تو تحریک انصاف کے حکومتی ترجمان اب بھی یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ نیب قوانین میں ترمیم سے احتساب کے عمل پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوگا۔ لیکن ان کے اس قسم کے وضاحتی بیانات پر یقین اس لیے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے ایک معمولی سی بھی دلیل نہیں ہے جبکہ نیب قوانین میں جس قسم کی ترامیم کردی گئی ہیں ان کو پڑھنے کے بعد تو منکشف ہوتا ہے کہ احتساب کے جسم سے اس کی روح کو ہی نکال کر باہر پھینک دیا گیا ہے۔ آخر وزیراعظم عمران خان کو نیب قوانین میں ترامیم کرنے کا آرڈیننس جاری کرنے کی ضرورت کیوںپیش آئی جب کہ پوری دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے اس آرڈیننس سے وزیراعظم عمران خان کی ذات کو تو کسی قسم کا فائدہ ملنے والا نہیں ہے اور نہ اس آرڈیننس کے نفاذ سے تحریک انصاف کو بطور جماعت فقیدالمثال عوامی مقبولیت حاصل ہوسکتی ہے تو پھر آخر کیوں ایک ایسا'' احتساب شکن'' اقدام اٹھایا گیا جو صریح طور پر وزیراعظم عمران خان کے سیاسی نظریات اور تحریک انصاف کے منشور کے یکسر مخالف ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنی حکومت کے اتحادیوں اور اپنی جماعت میں دیگر سیاسی جماعتوں سے آنے والوں کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔اگر یہ اندیشہ درست ہے توپھر یقیناً تحریک انصاف کے عام کارکنوں کے لیے مایوس کن خبر ہے۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت مسند اقتدار پر فائز ہوئی ہے تب سے اب تک یہ پہلا موقع ہے کہ جب تحریک انصاف کے کارکنوں کو اپنی جماعت کے دفاع کے لیے الفاظ نہیں مل رہے ہیں۔دریں حالات کوئی مانے یا نہ مانے لیکن نیب ترمیمی آرڈیننس پر سب سے کمال کا ردعمل تو پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے آیا ہے کہ اکثر اپوزیشن رہنما کہہ رہے ہیں کہ ''عمران خان کو نیب کے پر ہر گز کاٹنے نہیں دیئے جائیں گے اور ہم اپنی آخری سانس تک نیب اور احتساب کے عمل کا تحفظ کریں گے''۔ حالانکہ سچی بات تو ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں اپوزیشن رہنماؤں کو چین اور سکھ کا پہلا سانس ہی اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد آیا ہے لیکن سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے مقابلہ میں ایک دوسرے کو مات دینے اور تحریک انصاف کی حکومت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کے لیے اپوزیشن۔ بہر حال حقیقت احوال جو بھی ہو مگر ایک بات تو بالکل صاف ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے تناظر میں اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے نیب کے حق میں کی جانے والی گفتگو تحریک انصاف کے کارکنوں پر بجلی بن کر گررہی ہے اور وہ دل ہی دل میں سوچ رہے ہیں کہ ان پریہ کیسا کڑا سیاسی وقت آگیا ہے کہ انہیں اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے بھی احتساب کے فیوض و برکات پر ''سیاسی لیکچرز'' سننے کو مل رہے ہیں۔کچھ رجعت پسند جن کا خیال یہ تھا کہ چونکہ نیب آرڈیننس کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے،اس لیے ہوسکتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس آرڈیننس کے خلاف حکم امتناع جاری کرکے اس کو فوری طور پر نافذ العمل ہونے سے روک دے گی۔ان کے لیے بھی بری خبر ہے کہ فی الحال لاہور ہائی کورٹ نے نیب آرڈیننس کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو یہ اعتراض لگا کر واپس کردیا ہے کہ ''سردیوں کی تعطیلات کے باعث فوری طورپر اس درخواست کی سماعت نہیں کی جاسکتی، لہٰذا عدالتی تعطیلات کے اختتام پر ازسرِ نو درخواست دائر کی جائے ''۔یعنی تحریک انصاف کی حکومت نے نیب آرڈیننس کے نفاذ کا وقت بھی '' حسنِ سیاست '' سے ایسا مناسب منتخب کیا ہے کہ احتسابی اداروں کی مدد کے لیے ''قانون '' بھی وقت پر حرکت میں نہ آسکے۔ جونادان دوست اب تک یہ سمجھتے رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کے مشیرسوچ سمجھ کر کوئی کام نہیں کرتے یقیناً اس مرتبہ تو انہیں بھی منہ کی کھانا پڑی ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے این آر اودیا بھی جا چکا اور لیا بھی جا چکا ،اگر کسی کو اب کوئی شک شبہ ہو تو اگلے چند روز میں وہ شکوک بھی دور ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں