Daily Mashriq

قاتل صبح کوئی ایک نہیں سارے ہیں

قاتل صبح کوئی ایک نہیں سارے ہیں

صورتحال بعینہہ تو وہ نہیں ہے تاہم بہت حد تک اس جیسی ہی لگتی ہے ،جس کی وجہ سے اب لوگ بے چین ہو کر دبی زبان میں کہنے لگے ہیں،کہ''مجھے میرا پشاور واپس کردو''۔صورتحال یہ ہے کہ اس سے پہلے ایم ایم اے کے دور سے لیکر اے این پی کے دور تک یہ بیانیہ سامنے آتا رہا ہے کہ پشاور کو پھولوں کے شہر میں ڈھالنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے اس بیانئے پر عمل کرتے ہوئے ارباب سکندر اور ملک سعد شہید فلائی اوورز کی دیواروں پر کاغذی پھولوں کے گملے لٹکا کر عوام کی آنکھوں میں وہ دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی رہی جو شہر کی سڑکوں پر ہر وقت اڑتی رہتی ہے پرویز خٹک دور میں تو سونے پر سہاگہ یوں کیا گیا کہ وہ جو اے این پی دور میں جی ٹی روڈ پر کچھ سبزہ اگانے کی کوشش کی گئی تھی ،ان پودوں کو اکھاڑ کر پھولوں اور باغوں کے شہر کی رہی سہی کسر بھی پوری کر دی گئی یعنی بقول احمد فراز

آکے دیکھو تو سہی شہر مرا کیسا ہے

سبزہ وگل کی جگہ ہے درودیوارپہ خاک

اور پھر بی آرٹی نے تو شہر کی وہ حالت کردی ہے کہ شہری توبہ توبہ کر رہے ہیں کہ یہ کس عذاب میں پھنس چکے ہیں،اب اس صورتحال کو کالم کے آغازمیں جس مسئلے کی مانند قرار دیا گیا تھا اس کا تذکرہ ہو جائے ،یہ ایک میگا سکینڈل تھا جو ایوبی آمریت کے دور میں سامنے آیاتھا بلکہ اس حوالے سے جب روزنامہ انجام(مرحوم) کو روزنامہ مشرق میں ضم کر کے پاکستان کے کئی شہروں سے پریس ٹرسٹ کے تحت شائع کرنے کا بندوبست کیا گیا تھا تو اس اخبار میں یہ میگا سکینڈل ایک تحقیقاتی رپورٹ کی صورت میں شائع کیا گیا تھا جس نے ملکی سطح پر کھلبلی مچادی تھی،یہ قصہ پنجاب کے ایک اہم دریا پر عوام کی سہولت کیلئے ایک نئے پل کی تعمیر کے حوالے سے تھا اس پل پر اس دور میں لاکھوں روپے(جوان دنوں کے اربوں بلکہ کھربوں میں شمار کئے جاسکتے ہیں)خرچ کئے گئے تھے،نہ صرف پل بنانے بلکہ بعد میں اس کی دیکھ بھال پر بھی ہر سال کثیر رقم خرچ ہوتی تھی،اچانک اس علاقے کا چیف انجینئر تبدیل ہوا تو نئے چیف انجینئر نے جو اس پل کی پہلے ہی بہت تعریف سن چکا تھا ،اس نے چارج سنبھالتے ہی پل کی فائلیں منگوائیں اور تمام منصوبے کا جائزہ لیکر ماتحت عملے سے پل دیکھنے کی خواہش ظاہر کی مگرماتحت عملہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا،ہر بار جب نیا چیف انجینئر پل کا معائنہ کرنے کاپروگرام بناتا،ماتحت افسران بات ادھر اُدھر ٹالنے کی کوشش کرتے ،آخر ایک روز چیف نے ایک ماتحت انجینئر کو بلا کر رازدارانہ اندازمیں اس ٹال مٹول کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا جناب اب آپ سے کیا پردہ ،اصل میں پل کا کوئی وجود ہی نہیں ہے وہ بڑا حیران ہوا اورکہا اسے آئے ہوئے بھی کئی ماہ ہوگئے ہیں،اس دوران میں جاری اخراجات کی منظوری وہ بھی دیتا رہا ہے،کل اگر انکوائری ہوئی تو وہ ناکردہ گناہ میں پھنس جائے گا۔اس کا کیا علاج ہے؟ماتحت انجینئر نے کہا جناب آپ فکر نہ کریں،بس ایک بار معائنے کے حوالے سے ریکارڈ پر وزٹ ڈال لیں اور پھر پل کے خطرناک ہونے کی رپورٹ تیار کرلیں گے جس کے بعد اوپر سے اسے عوام کی زندگیوں کیلئے مخدوش قرار دیتے ہوئے کسی بھی لمحے کوئی المیہ ہو جانے کی بنیاد پر گرانے کی اجازت طلب کی جائے گی یوں آپ سے پہلے سابق چیف انجینئر اور ماتحت افراد نے پل کی تعمیر سے لاکھوں کمائے،آپ اسے گرانے کے اخراجات وصول کر کے حساب برابر کردیں،نہ رہیگا بانس نہ بجے گی بانسری ،جب پل ہی نابود ہوجائے گا تو کیسی انکوائری اور کیسی جوابدہی!یعنی بقول سجاد بابرمرحوم

اپنے تاریک گریبان میں جھانکا تو کھلا

قاتل صبح کوئی ایک نہیں سارے ہیں

اس دورکے میگا سکینڈل کا اطلاق تو اگرچہ اس اخباری سرخی پر نہیں کیا جا سکتا جو گزشتہ روز مشرق کے صفحہ اول پر تین کالمی خبر پر جمائی گئی تھی اور یوں تھی کہ''پشاور کے ماضی کی دلکشی اور خوبصورتی بحال کرنے کے پلان کی منظوری''۔ تاہم محولہ خبر نے اہل پشاور کے زخم ایک بار پھر تازہ کردیئے ہیں جو چند برس کے دوران مختلف حکومتوں کی جانب سے اس بد نصیب شہر کے حوالے سے اسی نوعیت کی خبریں چھپتی رہی ہیں اور جن کالب لباب یہی ہوتا تھا کہ پشاور کو پھولوں کا شہر بنا کر دم لیں گے،مگر حکومتیں رخصتی کا سفر اختیار کرنے تک پشاور کو پھولوں کا شہر بنانا تو کجا ،شہر کی گندگی تک کو ٹھکانے لگا نے میں کوئی قابل تعریف اقدام اٹھانے میں بھی کامیاب نہیں رہیں ،لے دے کر پرویز خٹک حکومت نے بی آر ٹی کے ذریعے شہر کا جو حشر نشر کیا اور اب جس کا کوئی علاج دکھائی نہیں دیتا،جبکہ بلین ٹری سونامی(پورے صوبے کے حوالے سے) تقریباً ویسا ہی منصوبہ لگتا ہے جیسا کہ ایوبی دور کا شاندار پل تھا،کیونکہ اب سونامی ٹری سے جان چھڑانے کیلئے مختلف جگہوں پر آگ بھڑکانے کی خبریں بھی آرہی ہیں،تاہم بات پشاورتک محدود رکھتے ہوئے بی آرٹی تک بات کرتے ہیں،اگرچہ منصوبہ موجود ہے تاہم اس نے پشاور کا حلیہ جس طرح بگاڑا ہے یہ منصوبہ اگر بن بھی گیا تو شہر میں ٹریفک کا نظام درست نہیں ہوسکے گا کہ سڑکیں اس قدر تنگ ہو چکی ہیں کہ ٹریفک جام اس شہر کا مقدر رہے گا،اس لیئے اگر شہر کو خوبصورت بنانا ہے تو خدا کیلئے یہ منصوبہ ختم کر کے سڑکیں کشادہ کر دی جائیںاور اہل پشاور کو ان کا اصل پشاور واپس کردیا جائے،

مصحفی ہم تو سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میںتو بہت کام رفوکا نکلا

متعلقہ خبریں