Daily Mashriq

سردی میں دن سرد ملا

سردی میں دن سرد ملا

جاڑے کا موسم اپنے عروج پر ہے۔ پشاور کا کم سے کم درجہ حرارت1سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ صفر سنٹی گریڈ پر قلفیاں جمنے لگتی ہیں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ لیکن موسموں کے تیوروں پر نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ پشاور ہی میں نہیں سارے ملک میں اب کے جو جاڑے کا موسم آیا اس نے گزشتہ برسوں کے ریکارڈ توڑ کر رکھ دئیے ، اور لوگ اف جاڑہ ، اف سردی کہتے رہ گئے ، اب کے جو لوگوں نے بدلتے موسموں کا رونا رویا اس میں سردی کے علاوہ دھند کا مسئلہ بھی سامنے آیا ، موٹر وے پر ٹریفک کا چلنا نہ صرف محال ہوگیا ، بلکہ ممکنہ حادثات کے خدشات کے پیش نظر اسے ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا ، اصل میں دھند کے اندھا دھند نزول کو فضا میں پائی جانے والی گرد اور دھویں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ، کہتے ہیں کہ فضا میں تیرتے پانی کے وہ قطرے جو بھاپ بن کر اڑنے لگے تھے اگر زیادہ اونچائی پر جاکر برف کے ننھے زوں کا روپ اختیار کرتے تو ہم انہیں فضا میں تیرتے بادلوں کا نام دیتے ، لیکن فضا میں اڑتے گردو غبار اور دھول دھویں نے انہیں فضا میں زیادہ بلندیوں تک اڑنے ہی نہ دیا اور وہ گرد آلود فضاؤں میں پھیلے زروں کی لپیٹ میں آکر سطح زمین کے قریب ہی منڈلانے لگے اور یوں ان کی موجودگی نے فضاؤں کو ناقابل برداشت حد تک دھندلا کر رکھ دیا اور ہم سب اس سردی سے کپکپانے اور ٹھٹھر نے لگے جو فضائی آلودگی سے چپک جانے والی برف کی صورت میں ماحول کو یخ بستہ کرنے کا باعث بننے لگے ، دھند کو انگریزی میں فوگ کہا جاتا ہے اور وہ دھند جو دھویں اور دھول کے سبب پیدا ہو سموگ کہلاتی ہے ، سو ہم گزشتہ دنوں زمین پر اترنے والی دھند کو فوگ کی بجائے سموگ کہنے پر مجبور ہوئے اور اس کے ستم برداشت کرکے نہ صرف سردی کے ہاتھوں ٹھٹھرتے رہے بلکہ ہمارا کھلے مقامات پر سب کچھ دھندلاجانے کی وجہ سے پیدل یا سواری پر چلنا پھرنا تک محال ہوگیا ، اور ایک رپورٹ کے مطابق اس ناروا دھند کی وجہ سے متعدد ٹریفک حادثات اور قیمتی جانوں کا زیاں بھی برداشت کرنا پڑا ، سردی کا موسم سال میں ایک بار آتا ہے ، بہت سے لوگ اس موسم سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے کسی بھی بہانے کو ضائع کرنا نہیں چاہتے ، جن دنوں ہم پشاور میں دھند او ر کہر کا رونا رورہے تھے ان ہی دنوں ہمیں اپنے چند بہت ہی پیارے جاننے والوں کی جانب سے ایس ایم ایس موصول ہونے لگے کہ وہ ملکہ کوہسار مری میں ہونے والی برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے اپنے بال بچوں کے ہمراہ پہنچے ہوئے ہیں ، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ، ہر بار جب ملکہ کوہسار یا ہمارے ملک کے پر منظر مقامات جب برف کی سفید چادر اوڑھنے لگتے ہیں تو ملک کے گوشے گوشے سے موسموں کی نیرنگیوں سے لطف اندوز ہونے والے ان مقامات پر پہنچ کر قدرت کے ان حسین نظاروں کا حصہ بن جاتے ہیں جنہیں پہاڑوں پر ہونے والی برف باری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ملک بھر سے برف باری کے موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے آنے والے ان ٹیکنی کلر لوگوں کی وجہ برف باری کے چٹے سفیدموسموں کے مناظردھنک رنگ بن جاتے ہیں ، مقامی لوگوں کے ہاں میلہ لگانے کی غرض سے آنے والے یہ لوگ ان کے لئے چاندی اور سونا بن کر آتے ہیں ، ہوٹلوں میں رہائش کی غرض سے کمروں کا ملنا محال ہی نہیں ہوجاتا ، بلکہ سیربینوں کے شوق آوارگی کے سبب ہوٹل والے ان کو منہ مانگے دام کے عوض شب بسری یا سستانے کے لئے کمرے مہیا کرتے ہیں بدلتے موسموں کے ان تیوروں اور پر منظر مقامات کی سیر کے لئے کشاں کشاں چلے آنے والی بھیڑ کے سبب وہاں ہر چیز کے دام بڑھ جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہاں پہنچنے والے مہنگائی کا رونا رونے کی بجائے ہر چیز منہ مانگی قیمت پر خرید کر خوش ہوتے رہتے ہیں ۔ کسی زمانے میں ہم اپنے شہر پشاور میں رہ کر سردیوں کے موسم سے گھر بیٹھے لطف اندوز ہوا کرتے تھے ۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ سردیوں کے موسم میں پانی کی سطح پر برف کی تہہ جم جایا کرتی تھی جسے ہم 'ککر 'کہتے تھے۔ یہ' ککر 'رات کے پچھلے پہر جمتی اور صبح سویرے ہم بیدار ہوکر ٹھٹھرتے موسم کا لطف اٹھانے نکلتے تو نہر کے پانی پر جمی ہوئی ککر کو دیکھ کر ہمیں گمان ہونے لگتا کہ پانی نے اپنے وجود پر شیشہ نما برف کا تختہ اوڑھ لیا ہے۔ جن دنوں کی ہم بات کر رہے ہیں ان دنوں گھر گھر فریج یا ڈیپ فریزر نہیں ہوتے تھے۔ سردیوں کی یخ بستہ راتوں سے فائدہ لینے والے اپنے گھر کی چھتوں پر کھلے آسمان کے نیچے کسی ٹرے پرات یا لگن میں پانی رکھ دیتے۔ پانی اپنی سطح ہموار رکھنے کی غرض سے گول یا مستطیل نما برتن میں پھیل کر کھلے آسمان کے نیچے رات گزارتا۔ اور پھر ٹھٹھرتے موسم کے زیر اثر وہ اس قدر سکڑ جاتا کہ صبح دم وہ مائع سے ٹھوس حالت میں تبدیل ہوکر شیشہ نما برف بن چکا ہوتا۔ جس کے چورے کو ہم توتیا موتیا بنا کر کھاتے ، توتیا موتیا فالودے کی ایک قسم کو کہتے تھے جو ہماری گلیوں اور بازاروں میں عام ملتا تھا جو ہم بڑے شوق سے کھاتے تھے ، اوراب کے جب یہی توتیا موتیا دھند بن کر ہم پر نازل ہوا تو ہم اسے شامت اعمال سمجھ کر کہنے لگے

سردی میں دن سرد ملا

ہر موسم بے درد ملا

متعلقہ خبریں