Daily Mashriq

نائن الیو ن کی کہا نی

نائن الیو ن کی کہا نی

ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے میں مارنے کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جہاں ٹرمپ نے پرچم لہرا کر دنیا کو ایک واضح پیغام دیا وہیں اپنے ایک پیغام میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی جیسے شخص کو بہت پہلے مار دینا چاہیے تھا۔امریکی صدر نے ایران سے متعلق ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ آج تک ایران نے کبھی کوئی جنگ نہیں جیتی لیکن مذاکرات میں بھی ایران کو کبھی شکست نہیں ہوئی،عسکری ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی اس ڈپلومیسی کا مطلب ممکنہ طور پر ایران کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دینا ہو سکتا ہے۔ساتھ ہی جنگ کے بارے میںیہ آگاہ کرنا ہے کہ اس نے چونکہ کوئی جنگ نہیں جیتی اس لیے کامیابی کا اس طر ح کوئی امکا ن نہیں ہے ۔ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد امریکی صدر کا یہ پہلا بیان ہے جو ٹوئٹ کی شکل میں سامنے آیاہے، اس سے قبل جنرل قاسم کی ہلاکت پر ٹرمپ نے امریکی پرچم ٹوئٹ کیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے ایک اور پیغام میں کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہزاروں امریکی شہریوں کو زخمی یا قتل کیا تھا اور مزید امریکیوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا لیکن پکڑا گیا۔ جنرل قاسم سلیمانی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر لاکھوں لوگوں کے قتل کا ذمہ دار تھا جس میں حال ہی میں مظاہروں کے دوران ایران میں قتل کیے جانے والے افراد بھی شامل ہیں۔امریکی صدر نے ڈرون حملے کے ذریعے ایرانی کمانڈر کو ہلا ک کرنے کے بعد جوپیغامات کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ امریکاایک عالمی ہیجان بپا کرنے کا ارادہ لیے ہوئے ہے ۔ اور نائن الیو ن کی تاریخ دہر اناچاہتا ہے ، ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایرانی فوجی جنرل کی ہلاکت کے بعد چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی فضائی حملے کو دفاعی کارروائی قرار دیا، امریکی وزیرخارجہ نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو بتایا کہ 'ایران حکومت کے اقدامات سے خطے میں صورتحال غیر مستحکم ہو رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین علاقائی امن کیلئے صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں،فوجی ترجمان نے بتایا کہ آرمی چیف نے افغان امن عمل کی کامیابی پر توجہ مرکوز رکھنے پر بھی زور دیا۔ا مریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں بتایا کہ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، افغانستان کے صدر اشرف غنی، فرانس کے وزیر خارجہ جان ایولودر یان اور جرمنی کے وزیر خارجہ ہایکو ماس سے عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے متعلق ٹیلی فون پر بات چیت کی۔گویا انہوں نے دیگرممالک کی سیاسی قیا دت سے روابطہ قائم کیے جبکہ پاکستان کی کسی سیا سی قیا دت سے بات نہیں کی دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی وزیرخارجہ نے علاقائی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے اثرات پر بات چیت کی۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ جنرل باجوہ نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کو چاہئے کہ وہ علاقائی امن واستحکام کیلئے صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔ مائیک پومپیو نے ایک الگ ٹوئٹ میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق کہا کہ امریکا اپنے عوام اور اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔فرانس کے وزیر خارجہ جان ایو لودریان سے ہونے والی گفتگو کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ 'ایرانی حکومت کی بدنیتی پر مبنی سرگرمی کا مقابلہ کرنا ہمارے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ ترجیح ہے، مشترکہ ترجیح کا مطلب کیالیا جاسکتا ہے کہ امریکا نے جو قدم اٹھایاہے اس میں اسے اپنے یو رپی اتحادیوںکی آشیر با دحاصل ہے۔ انہوں نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے فرانس کے وزیر خارجہ کو کہا کہ 'ہم اپنے عوام اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔علاوہ ازیں امریکا کے سیکریٹری خارجہ نے جرمنی کے ہم منصب سے بھی فون پر بات چیت میں قاسم سلیمانی کی فضائی حملے میں ہلاکت کو 'دفاعی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی 'فوجی اشتعال انگیزی پر جرمنی نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر چین نے امریکا اور ایران کو مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے تحمل کے مظاہرے کا مشورہ دیا ہے۔روس نے بھی ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر ردعمل کا اظہا رکیا ہے اور کہاکہ عراق میں ایرانی جنرل کے قتل سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔شام نے بھی ایرانی جنرل کے قتل کی مذمت کی جبکہ عراقی ملیشیا کے لیڈر سیاستدان مقتدیٰ الصدر نے مہدی آرمی دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔گویا امریکی اقدام سے عالمی سطح پر ایک کشیدگی کی فضاء محسو س کی جا نے لگی ہے اسی بناء پر امریکا نے حملہ کر کے ایرانی جنرل کے قتل کے بعد اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔عالمی ماہرین اور تبصرہ نگاروں نے کہاہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایر ان اورخطے میںجمہو ری قوتو ںکو کمزور کررہے ہیں ۔ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد جو کشیدگی اور حالا ت میں انتہائی خطرناک صورت حال پید ا ہوئی ہے اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ عالمی سطح پر حالات سنگین تر ہو جائیں گے کیو ں کہ ایر ان نے جواب دینے کے عزم کا اظہا ر کیا ہے جس سے آگ بھڑکنے کے امکا نات واضح ہوگئے ہیں اور دنیا کے ہر خطے میں امریکیو ں کی جا ں خطرے میں پڑ گئی ہے اور ایک خوف کا سما ں بھی پید ا ہو گیا ہے ایر ان سلیمانی کے قتل کو تضحیک اور اعلا ن جنگ سے تعبیرکرسکتا ہے کیو ں کہ ایر ان امریکی کا رروائی پر خاموش بیٹھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس کو اندرونی دباؤ اور بیرونی ساکھ کا بھی مسئلہ درپیش رہے گا۔

متعلقہ خبریں