Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

قادسیہ میں ایرانیوں کے ساتھ جنگ سے چند روز پہلے مسلمانوں کی جماعت کے امیر حضرت سعد بن ابی وقاس کی قیادت میں ایک وفد کسرٰی(ایران) کے بادشاہ یزد جرد کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ وفد اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرے۔جب یہ وفد ایران کے دارالحکومت مدائن پہنچا تو اس نے شاہی دربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔بادشاہ یزد جرد نے انہیں اجازت دی پھر اپنے ترجمان کوبلا کر اس سے کہا:ترجمہ:''ان سے دریافت کرو کہ تم ہمارے ملک میںکس غرض سے آئے ہو!اور کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ جنگ کرنے پر اکسایا ہے ؟شاید تم لوگوں کی ہمارے ملک پر حملہ کرنے کی جرأت اور اس پر قبضہ کرنے کی لالچ اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ ہم اپنی مصروفیات کے باعث تمہاری طرف سے غافل ہوگئے؟''۔حضرت نعمان بن مقرن نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:ترجمہ:''اگر تم لوگ چاہو تو میں تمہاری طرف سے جواب دوں اور اگر تم میں سے کوئی بولنا چاہتا ہو تو میں اسے اپنے آپ پر ترجیح دوںگا''۔سب نے ایک زبان ہو کر کہا:''نہیں آپ ہی جواب دیں''اور پھر ان لوگوں نے کسرٰی(یزدجرد) کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا یہ ہم سب لوگوں کی طرف سے جواب دیں گے۔ حضرت نعمان بن مقرن نے پہلے خدا تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور اس کے رسول اقدسۖ پردرود بھیجا اورپھر فرمایا:ترجمہ:''خدانے ہمارے اوپر رحم فرمایا۔ ہمارے پاس ایک رسول پاکۖ بھیجا جس نے بھلائی کے کاموں کی طرف(ہماری) رہنمائی کی اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ہمیں بری باتوں کی برائی سے آگاہ کیا اور اس کے کرنے سے روکا اور ہم سے اس بات کا وعدہ فرمایا کہ اگر ہم اس کی دعوت قبول کرلیں گے تو خدا تعالیٰ ہم کو دنیا اور آخرت کی بھلائی عطا فرمائے گا۔ہم نے اس کی دعوت کو قبول کرلیا اور زیادہ مدت نہیں گزری کہ تھوڑے ہی عرصے میں خدا تعالیٰ نے ہماری تنگی کو کشادگی سے ہماری ذلت کو عزت سے اور ہماری آپس کی دشمنی کو بھائی چار گی اور محبت اور رحمت میں تبدیل کردیا۔اور رسول اقدسۖ نے ہم کو اس بات کا بھی حکم دیا کہ ہم دوسرے لوگوں کو بھی اس دین کی دعوت دیں جس میں ان کی بھلائی کا راز پوشیدہ ہے۔انہوں ہم کو اس بات کا بھی حکم دیا کہ ہم اس دعوت کو اپنے پڑوس کے لوگوں سے شروع کریں۔اس لئے ہم تم لوگوں کو اس دین میں داخل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔''اگر تم ہماری دعوت قبول کر لو گے تو ہم تمہارے سامنے خدا کی کتاب کو پیش کریں گے اور تم کو اس پر قائم کریں گے تاکہ تم اس کے مطابق حکومت کرو اور پھر ہم تم کو تمہارے حال پر چھوڑ کر واپس چلے جائیں گے۔لیکن اگر تم نے خداکے دین میں داخل ہونے سے انکار کیا تو ہم تم سے جزیہ(ٹیکس) وصول کریں گے اور اس کے بدلے میں تمہاری حفاظت اور حمایت کریں گے اور اگرتم نے جزیہ دینے سے بھی انکار کیا تو پھر تلوار ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گی''۔ (جاری ہے)

متعلقہ خبریں