Daily Mashriq

ریوینیو نقصانات کی وجہ درآمدات میں کمی ہے، ایف بی آر

ریوینیو نقصانات کی وجہ درآمدات میں کمی ہے، ایف بی آر

اسلام آباد: قومی ٹیکس ادارے نے اعتراف کیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس ریوینیو 114 ارب روپے کے ہدف کو مکمل نہیں کرپایا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ جولائی سے دسمبر 2019 کے درمیان بہت بڑا ریوینیو نقصان ہوا ہے جس کی وجہ درآمدات میں کمی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ درآمدات میں 5 ارب ڈالر تک کی کمی سے ایک جانب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورتحال میں بہتری آئی ہے تاہم دوسری جانب حکومت کے لیے ریوینیو وسائل میں کمی کا سبب بھی بنے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہر ایک ارب ڈالر کی کمی کی وجہ سے تقریباً 56 ارب روپے کے ٹیکسز کا نقصان ہوا ہے اور حساب کیا جائے تو تقریباً 280 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق مالی سال 20-2019 کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس کلیکشن 2083 ارب روہے رہی جو گزشتہ سال کی کلیکشنز سے زیادہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دو سہ ماہیوں میں 16-2015 کے بعد ٹیکس وصولی میں سب سے زیادہ شرح نمو دیکھی ہے، اصل ہدف 2 ہزار 367 ارب روپے تھا جسے بعد میں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران دبے ہوئے معاشی سرگرمیوں کے پیش نظر 2 ہزار 197 ارب روپے میں تبدیل کیا گیا لیکن دوسری سہ ماہی میں بھی دبے ہوئے معاشی رجحان برقرار رہے تاہم یہاں تک کہ نظرثانی شدہ ہدف بھی پورا نہ ہوسکا اور 114 ارب روپے کی کمی سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی ٹیکس وصولیوں میں بڑے پیمانے پر کمی کے باوجود ، بنیادی طور پر سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی وصولی میں بہتری کی وجہ سے یہ کمی 114 ارب روپے رہی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال کے آخری چھ مہینوں میں معاشی سرگرمی میں متوقع اضافے اور درآمدات کے امکانی استحکام کے ساتھ توقع کی جارہی ہے کہ ایف بی آر رواں سال غیر معمولی ٹیکس وصول کرے گا۔

ایف بی آر کے مطابق گھریلو صارفین سے سے ٹیکس وصولیوں کو بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں اور ٹیکس ادارت اس سال درآمدی ٹیکسوں پر اپنے ٹیکس انحصار کو 56 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد تک لے جانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

کاروباری برادری کو خدشہ ہے کہ مزید ریوینیو میں کی کمی کی وجہ سے سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے جیسے مڈکورس اقدامات ضروری ہوجائیں گے کیونکہ حکومت کی جانب سے ٹیکس کے بوجھ میں مزید اضافے پر کوئی اعتبار نہیں جو پہلے ہی تاجر برادری، اور شہری برداشت کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں