Daily Mashriq

پاک امریکہ تعلقات

پاک امریکہ تعلقات

قصر ر بیض میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی کی بات چیت دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ امریکہ بھارت کی زباں بول رہا ہے اور امریکی سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئر مین سنیٹر جان مکین کی وزیرستان اور اسلام آباد میں اظہار خیال کا جائزہ لیا جائے تو لگتا یہی ہے کہ امریکی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس ضمن میں پاکستانی اقدامات پر پوری طرح سے مطمئن اور متفق ہے اور امریکی قیادت کو پاکستان کی قربانیوں اور اقدامات کی نہ صرف قدر ہے بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون اور مدد پربھی تیا ر ہے امریکی قیادت آگ اورپانی کے ملاپ کی کرشمہ سازی ہی کرتے ہیں وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کبھی پاکستان سے اعتماد کے تعلقات اور دستگیری کی نہ تو تاریخ رکھتا ہے اور نہ ہی ان سے اس امرکی توقع کی جاسکتی ہے وقتاً فوقتاً پاک امریکہ تعلقات کو حالات کا جبر اور مطلب براری ہی گرداننا حقیقت پسندی ہوگی جبکہ بھارت کو بھی کسی غلط فہی کا شکار نہیں ہونا چاہیئے لیکن بہر حال اس وقت پاک روس چین تعلقات اور سی پیک کے تناظر میں بھارت سے قربت امریکہ کی مجبوری بن چکی ہے علاوہ ازیں بھی امریکہ کا ایک مسلم ملک کے مقابلے میں ایک متعصب ہندو حکومت کو وقعت دینا فطری امر ہے اس کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف کا اصرار ہے کہ پاک بھارت امریکہ مضبوط پارٹنر شپ ضروری ہے ۔ عالمی گائوں کی صورت اختیار کرتی دنیا میں دنیا کے ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات تجارت اور روابط اب ہر چھوٹے بڑے ملک کی ضرورت اصلی بن چکی ہے امریکہ سے ایک بڑے اور پر اثر ملک کے طور پر تعلقات کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں لیکن امریکہ سے مضبوط شراکت داری کی استدعا اور توقع عبث ہے اگر دہائی قبل ایسا تھا بھی تو اب کم از کم ایساممکن نظر نہیں آتا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ ایسی شراکت داری کے تعلقات رکھے جس کی اسلام آباد کو توقع ہے ۔ خود مشیر خارجہ بھی اس امر کے معترف ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیانی تعلقات کی نوعیت زیادہ بہتر نہیں بدلتے حالات میں جاری تعلقات میں رخنہ نہ آئے تو غنیمت جاننا چاہیئے ۔ ماضی میں امریکہ سے تعلقات کی ضرورت و نوعیت جو بھی تھی بدلتے حالات میں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس نوعیت کے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے جن کو اعتماد پر مبنی قرار دیا جائے امریکہ کا پاکستان کی بدلتی پالیسی او ر خطے کے حالات کے تناظر میں پاکستان پر بھارت کو ہی اہمیت دینا اس کی ترجیحات کا حصہ نظر آتا ہے۔ پاکستان کے مفاد میں بھی اب یہ نہیں رہا کہ وہ روس کی طرف پیٹھ کر کے امریکہ ہی کی طرف رجوع کر تے رہے ۔ اگر دیکھا جائے تو صرف پاکستان ہی کے ساتھ نہیں بھارت سے بھی امریکہ کے تعلقات کی نوعیت مروجہ پالیسی اور مفادات ہی کی حد تک رہنا فطری امرہوگا بھارت جتنا بھ بغلیں بجائے جہاں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہوگی وہاں اس کا جھکائو پاکستان کی طرف اور جہاں خطے میں ابھرتی ہوئی قوتوں اور مضبو ط معیشت کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت سے دوستی سود مند ہو وہاں بھارت کو ترجیح ملے گی جب دنیا کے بڑے ممالک کے بالخصوص اور کم وبیش مفاد پر مبنی پالیسی ہی ملکوں کی ترجیح ٹھیرتی ہے تو کیا بھارت اور پاکستان کیلئے یہ مفید نہ ہوگا کہ وہ سب سے پہلے باہم تعلقات درست کرلیں اس کے بعد اپنے اپنے مفادات ضروریات اور سہولیات کے مطابق دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات طے کر لیں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں اگر عالمی قوتوں کے مقاصد پورے ہوتے ہوں پھر تو ان کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے اگر ایسا نہیں تو پھر امریکہ سے یہ توقع اور مطالبہ کہ وہ کشمیر کا تنازعہ طے کرانے میں کردار ادا کرے گا ۔ حقیقت پسندی پر مبنی سوچ نہیں۔بلاشبہ کشمیر کا مسئلہ بر صغیر پاک و ہند کا وہ ہر دم شعلہ جوالا مسئلہ ہے جس پر پاک بھارت جنگیں ہو چکی ہیں خطے اور کشیدگی کی بنیاد ی وجہ بھی یہی ہے مگر اس کا حل یا تو دونوں ممالک کے پاس ہے نہیں اور اگر اس کا کوئی حل ہے تو اس پر دوسرا فریق رضا مند نہیں ہوتا ۔ امریکہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کے عوا م کے مصائب ختم کرنے کے مطالبے میں کوئی قباحت نہیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر ہر زندہ ضمیر کے ضمیر کو کچو کے لگنا فطری امر ہے مگر دنیا ضمیر اور انسانی حقوق کا پرو پیگنڈہ تو بہت کرتی ہے مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو تہی دستی سرد مہری اور مجرمانہ تغافل ہی سے واسطہ پڑتا ہے سنیٹر جان مکین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کی تعریف اور شمالی وزیرستان کے ناقابل یقین دورے کا تو اظہار کرتے ہیں مگر امریکیوں کی یہ سوچ وقتی اور بر موقع ہی ہوتی ہے جب بھی امریکیوں کا طیارہ ٹیک آ ف کر جاتا ہے تو وہ خود اپنا کہا اور مشاہدہ بھول جاتے ہیں اور ان کو پاکستان پر ڈومو ر کا دبائو ڈالنا ہی مناسب لگنے لگتا ہے اس لئے ان بیانات اور خوشگوار تاثرات سے توقع وابستہ کرنا لا حاصل ہوگا البتہ اگر وہ امریکی سینٹ اور ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے سامنے اس امر کا اعتراف کرلیں اور پاکستان کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ کر نے کیلئے مناسب فورمز پر اس طرح کی آراء کا اظہار کریں تبھی یہ قابل اطمینا ن گردانا جائے گا جس کی توقع ہی عبث ہے ۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بظاہر اور بباطن نوعیت میں بڑا فرق ہے اور جب تک یہ فرق رہے گا تب تک کسی بڑی تبدیلی اور بہتری کی بھی امید نہیں ۔

اداریہ