Daily Mashriq

پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں پرچم کشائی کافی نہیں

پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں پرچم کشائی کافی نہیں

تئیس مارچ کے یوم پاکستان کی پریڈ کی اسلام آباد میں خطرات کے باوجود مناسب جگہ پر انجام دہی کے بعد جشن آزادی کی مرکزی تقریب اور پرچم کشائی ایوان صدر کی جگہ پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں کرنے کی چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی تجویز مناسب اور قابل عمل ہے، وطن عزیز کے عوام جمہوریت پر یقین ضرور رکھتے ہیں اور ان کا آمریت سے نفرت کا اظہار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں مگر ارکان پارلیمنٹ پر بھی عوام اپنے ہی منتخب کئے ہونے کے باوجود بھی اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں اور نہ ہی ان کی کارکردگی سے خوش ہیں اس لئے صرف پرچم کشائی کی تقریب کی منتقلی ہی کافی نہ ہوگی بلکہ ارکان پارلیمنٹ کو ملک کے عوام کو آزادی کے حقیقی ثمرات سے مستفید کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہم علامتی اور رسمی طور پر ہی چیزوں کو دیکھنے اور معاملات کی انجام دہی کو کافی سمجھتے ہیں۔ اس سوچ میں تبدیلی اور کردار کی اصلاح کے بغیر آمریت سے چھٹکارے اور عوامی جمہوری حکمرانی کی علامت کے طو رپر پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد بے معنی ہی ہوگا۔
پختونوں کی توہین قابل برداشت نہیں
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا پی ٹی وی پر پختون برادری کی توہین پر مبنی پروگرام کا سخت نوٹس لینا سانپ گزرنے کے بعد لیکر پیٹنے کے مترادف ہے وزیر مملکت کواگر سخت اقدام ہی مطلوب تھا تو توہین کرنے والے کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی معطل کرلتیں۔ جن کا اصرار ہے کہ پی ٹی وی قومی ادارہ ہے اور غیر جانبدار ایڈیٹوریل پالیسی پر کاربند ہے یہ بات تو صحافت کی الف ب سے واقف ہر شخص کو معلوم ہے کہ غیر جانبدار ایڈیٹوریل پالیسی میں کسی ذات برادری اور گروہ کی توہین کی گنجائش تو کجا احتیاط کے تحت کوئی ایسا مواد شائع نشر اور ٹیلی کاسٹ کر نے کی گنجائش نہیں جس میں توہین کا شائبہ موجود ہو محولہ واقعے میں تو پختون برادری کی سر اسر توہین کی گئی ہے اگر پی ٹی وی واقعی قومی ادارہ ہوتا اور اس کی پالیسی پر عمل درآمد کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات موجود ہوتے تو اس کی نوبت نہ آتی اسے غلطی اور سہوقرار دے کر بھی بری الزمہ ہونے کی گنجائش نہیں ۔
انسداد بھتہ خوری سیل سے وابستہ توقعات
خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری کے باوجود استحکام امن کیلئے اقدامات کی ضرورت سے غافل نہیں ہوا جا سکتا ۔ دہشت گردی پر مبنی حالات دوران اور بعد ازاں شہریوں سے بھتہ اور تاوان کی وصولی بھی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کا اخراجات پوری کرنے اورآمدنی کا ایک منظم ذریعہ بن چکا تھا خیبر پختونخوا پولیس کی مقدور بھر اقدامات کے باوجود اس مسئلے پر مکمل طور پر قابو پانے میں ناکامی کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں جو اپنی جگہ ،ہر کال وصول کرنے والے کوپولیس کی جانب سے اندرون خانہ معاملات طے کرنے کا عام مشورہ اور پولیس کی بھتہ خوروں کے خلاف بھر پور کارروائی میں کامیاب حکمت عملی اختیار نہ کئے جانے کے باعث نہ صرف عوام کا اعتماد متزلزل ہوا تھا بلکہ صوبے سے کاروبار سرمایہ اور افراد کی منتقلی بھی ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ اس صورتحال میں کسی ایسے انتظام کی ضرورت کا شدت سے احساس ہورہا تھا جس کا فوج اور پولیس کے انسداد بھتہ خوری کے مشترکہ نظام کے قیام کے بعد پورا ہونے کی قوی امید ہے ۔ ہمارے تئیں اس مقصد کیلئے جو مشترکہ اور باہم تعاون پر مبنی انتظام کیا گیا ہے اس سے جہاں شہریوں کا اعتماد بڑھے گا وہاں بھتہ کی کالیں کرنے والوں کو اب اس امر کا یقین کی حد تک خوف فطری امر ہوگا کہ مشترکہ نظام اور فوج کے وسائل و مہارت اور سہولیات کو بروئے کار لانے سے وہ کسی بھی وقت گرفت میں آسکتے ہیں ۔ شہری بھی اب پہلے کی طرح غیر یقین کا شکار ہو کر سفارش تلاش کرنے کی بجائے اب براہ راست شکایت نمبر سے فوری رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں گے ۔ اس نئے انتظام سے شہریوں کی توقعات کی وابستگی فطری امر ہے عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کا انحصار خصوصی سیل کی کار کردگی پر ہوگا جس کا ابھی اظہار سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی ایسی کامیاب کارروائی سامنے آئی ہے جس سے اس انتظام کے مئو ثر ہونے کی حقیقت سامنے آئے ۔ بہرحال خوش آئند اور قابل اطمینان اقدام ہے جس سے عوام کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔

اداریہ