Daily Mashriq

کوئی اچھی خبر بھی آئے !!

کوئی اچھی خبر بھی آئے !!

جیسے جیسے جے آئی ٹی کے معاملات بڑھتے ہیں ، نت نئی باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں ، کبھی کہیں سے آواز آتی ہے ، کبھی کوئی کس جانب سے پکارتا ہے تو یکدم دل کی بے چینی سوا ہو جاتی ہے ۔ ہم کیسے لوگ ہیں ؟ کیسے ملک میں رہتے ہیں ؟ کیسا نظام ہے ؟ اس ملک میں اتنے لٹیروں کے درمیان ہمارے معصوم بچوں کا کیا مستقبل ہے جنہیں اس معاشرے کے جبر سے بچانے کے لیے کوئی نہیں ۔ کوئی بھی تو نہیں ۔ یہ معاشرہ غنڈے موالیوں کا معاشرہ ہے ۔ اس معاشرے میں سنگ وخشت مقید ہیں اور سگ آزاد ۔ ہم اس معاشرے سے آزاد نہیں ہو سکتے تھے اور ہم نے اپنے بچوں کے قدموں میں اس ملک سے محبت کی زنجیریں اپنے ہاتھوں سے ڈالیں ۔ ہم نے اپنے وطن کا زخموں سے چور چہرہ دیکھا ۔ اور اپنی توانائیوں کا فرہم اسکے چہرے ، اسکے جسم پر لگانے کی کوششیں کی ، کہ کہیں سے اسکے دُکھوں کا کوئی مداوا ہو ۔ اسی جستجو میں بندھے ، ہم نے اپنے بچوں کا فیصلہ بھی اس ملک کی قسمت کے ساتھ کر ڈالا ۔ہم نے انہی نسلوں کو اس وطن کی محبت کے بھنور میں اُلجھا دیا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جہاں ایک وزیراعظم کے خلاف بد عنوانی کا مقدمہ ہے ۔ ان کے خلاف ثبوت ہیں تو انکے چاہنے والوں نے اُلجھا دیئے ہیں ۔ یہ وہ مقدمہ ہے جس کے فیصلے کی کوئی امید نہ اس قوم کو ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی خوف ان حکمرانوں کو ہے جو اس مقدمے سے مسلسل نبرد آزما ہیں ۔ یہاں حکمرانوں کی شوگر مل کے خلاف مقدمے کے بارے میں بات ہونے لگے تو عدالت عظمیٰ کے سامنے ایک گواہ یہ کہنے کی ہمت رکھتی ہے کہ ایک مخصوص نوٹ لکھنے کے لیے اس پر دبائو تھا اور اسی دبائو میں اس نے یہ سب لکھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی اور رضا کارانہ طور پر اس نوٹ پر دستخط نہیں کیئے ۔ یہ وہی نوٹ ہے جو 2016میں میں یہ کہتا ہے کہ تحقیقات 2013میں بند کی جا چکی ہیں ۔ ان خاتون افسر کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ دستخط کرنے سے وہ کسی اصول کو پامال کر رہی ہیں یا کسی بد نیتی کی مرتکب ہو رہی ہیں ۔ نہ ہی انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ سرکاری ریکارڈمیں گڑ بڑ کررہی ہیں ۔ انہیں اس سب سے کوئی احساس جرم بھی نہیں ۔ جانے عدالت عظمیٰ کا اس سب کے حوالے سے کیا فیصلہ ہونے والا ہے لیکن میں اس خاتون افسر کی اس معصومیت پر بہت حیران ہوں ۔ یہ کیا کمال کے لوگ ہیں جو انتہائی معصومیت سے وہ تمام کام سر انجام دے دیتے ہیں جو حکمرانوں کے مفاد میں ہیں اور اس ملک کے لوگوں کے لیے نقصان دہ ہیں ۔ انکے اس بیان کو اگر عدالت بالکل اسی طرح من و عن تسلیم کر لے جس کا امکان تو نہیں لیکن بالفرض محال اگر تسلیم کر لیا جائے تو اس کے بعد سرکاری افسران کو کسی بات میں کسی قسم کی جھجھک ، ضمیر کی خلش یا پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے گا ۔ وہ جو چاہیں دبائو میں آکر کر سکتے ہیں ۔ الٹا کوڈ کی بھی کوئی حیثیت نہیں جو سول ملازمین کو پابند کرتا ہے کہ انہیں کسی قسم کے سیاسی دبائو میں آکر ، کوئی غلط کام کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بات صرف اسی حد تک محدود ہو جاتی تو شاید کچھ شاموں کے ماتم کے بعد ہم بھی چپ کر جاتے لیکن یہاں تو سمجھ میں نہیں آتا ۔ ایسی باتیں سنائی دیتی ہیں کہ دل ڈوبنے لگتا ہے ۔ ابھی تو ایک نیا معمہ جنم لے رہا ہے ۔ یہ وہ معمہ ہے جو ہمیں بار بار یہ یاد دلائے گا کہ جے آئی ٹی کی کی ہوئی تحقیقات کو تحریر کرنے والے کوئی اور ہیں ۔ اور ان پر دستخط کرنے والے کچھ اور لوگ ہیں ۔ انہیں نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کن کاغذات پر دستخط کر رہے ہیں نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ان میں کیا تحریرہے ۔ اور یہ باتیں جانے کیا سوچ کر عوام کے سامنے لائی جارہی ہیں ۔ میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک ایسی جے آئی ٹی جس نے عدالت عظمیٰ کو خود کو دھمکیاں دیئے جانے کی بے شمار کہانیاں بھی سنائیں ، وہ واتنے لا پرواہ کیسے ہوئے کہ اب ان کی جانب سے جو کچھ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، انہیں اسکی خبر ہی نہیں ۔ ہم خاموشی سے ہر کارروائی ملا حظہ کر رہے ہیں ۔ نہ یہ جانتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے نہ اس سے کوئی غرض ہے کہ کونسا انصاف کس کے لیے بہترین ہے ۔ ہم تو بس تماشائی ہیں ۔ 1948میں قائد اعظم کی وفات کے بعد سے ہم جو تماشائی بنے ہیں اس کے علاوہ پھر کوئی مقام راہ میں جچا ہی سنیں ۔ آج بھی ہم اسی خاموشی سے اپنی ہی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں جو زیارت میں اس قوم کے مقدر میں اس وقت لکھ دی گئی جب اوپر کی منزل سے سیڑھیاں اترتے قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے ہی ساتھیوں کو اپنے خلاف باتیں کرتے سنا تھا اور نہایت تاسف سے سوچا کہ ''میری جیب میں سارے کھوٹے سکے ہیں ''اور نہایت خاموشی سے اپنے اسی کمرے کی جانب لوٹ گئے جس سے وہ اپنی انتہائی تکلیف کے باوجود اٹھ کر آرہے تھے ۔ شاید اسی روز سے بے وفائی اور بے بسی ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی اور آج تک ہم اس سب سے جان نہیں چھڑا سکے ۔ یہ ہمارے قائد کا بھی دُکھ تھا اور ہم بھی اسی اذیت کے بھنور میں اُلجھتے ہی رہے ہیں ۔ جانے یہ سب باتیں ایسی ہی ہیں جیسی دکھائی دیتی ہیں یا اپنی بے بسی کے دُکھ نے اس منظر کو ایسے اذیت ناک رنگ دے دیئے ہیں ۔ شاید اپنی ہی بے وقوفی کا احساس اندر ہی اند ر ہمیں کھائے جاتا ہے ۔ جب کوئی بے وجہ ہی واویلا کرتا ہے کہ ہماری عورتوں کو تفتیشی ٹیموں کے سامنے بلایا جارہا ہے تو جانے کیوں سوچ میں کوئی بلبلا کر کہتا ہے ۔ اس ملک کے بچوں کا مستقبل جو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ، جو کسی طور ہمیں لوٹنے اور بر باد کرنے سے باز نہیں آتے جنکی بیٹیا ں بھی انکی اس لوٹ کھسوٹ میں شامل ہیں اور جو ایسے چالاک ہیں کہ ہمیں اور عدالت کو سب معلوم ہونے کے باوجود بھی کسی بار ثبوت کے نیچے آکر کچلے نہ جائینگے ، چند لمحوں کے لیے ہی سہی ، ان کی بیٹیا ں بھی کسی اذیت کا شکار نظر آئیں تو شاید کچھ دل ہلکا ہو ۔ انکے کزن جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں ، انکے دوست انکے سمدھی ، انکے بیٹے کسی بات کا جواب تو دیںشاید عدالت سے ڈرجائیں اور یوں بیدرد ہو کر کبھی آئندہ ہمیں نہ لوٹیں ۔ کاش کوئی معجزہ ہو جائے ۔ کاش کہیں سے کوئی اچھی خبر بھی آئے ۔

اداریہ