Daily Mashriq


قومی غیرت' قومی قیادت اور ریمنڈ ڈیوس

قومی غیرت' قومی قیادت اور ریمنڈ ڈیوس

ثابت ہو گیا ہے کہ ہماری حکمران کلاس ملک اور قوم کے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے کام کرتی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس جیسے قاتل کی رہائی کے لیے اس وقت کی حکومت ' اپوزیشن مسلم لیگ ن اور فوج کی اعلیٰ قیادت نے کیا کردار ادا کیا وہ اب راز نہیں ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں ان تمام پاکستانی اہل سیاست اور فوجی کرداروں کو بے نقاب کیا ہے جو اس کی رہائی کے لیے سرگرداں رہے۔ جنہیں ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہیں ہوا کہ قومی غیرت و حمیت کے تقاضے کیا ہوتے ہیں۔ کیا حکومت اور اپوزیشن سب اس بات کے لیے کوشاں تھے کہ کس طرح ریمنڈ ڈیوس قانون کی گرفت میں آنے سے بچ جائے۔ ریمنڈ ڈیوس نے لکھا ہے کہ کیسے صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی اُسے سفارتی استثنیٰ دلوانے کی کوشش کر رہے تھے مگر اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آڑے آ گئے۔ حق بات یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی وہ واحد شخص تھے جنہوں نے قومی وقار اور غیرت کے تقاضوں کو سمجھ کر سٹینڈ لیا جس کے لیے انہیں وزارت خارجہ کی قربانی بھی دینا پڑی۔ شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم اور صدر کو برملا کہا کہ وقت امریکہ کے سامنے سر جھکانے کا نہیں بلکہ سر اٹھانے کا ہے لیکن شاہ محمود کی کسی نے نہ سنی۔ شاہ محمود قریشی نے اپنا فرض ادا کیا اور آج وہ تاریخ کا روشن باب ہیں۔ قحط الرجال کی دُہائی میں پاکستانی بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں کہ کوئی تو تھا کہ جس نے حکومتی صفوں میں رہ کر بھی حق کا علم بلند کیا اور قومی غیرت کی بات کی۔ شاہ محمود قریشی نے امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کی جانب سے امریکیوں کو بے تحاشا ویزے دینے کو بھی چیلنج کیا اور یہ وہ تھے جنہوں نے دفتر خارجہ کو بعد ازاں ہدایت کی کہ ویزوں کے اجراء میں سختی کی جائے۔ ان کے احکامات کے بعد پاکستان میں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں اور بدنام زمانہ بلیک واٹر کے کارندوں کے داخلے میں رکاوٹ پیدا ہوئی ورنہ قبل ازیں حسین حقانی نے صدر زرداری کی جانب سے دیے گئے خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے شہروں کو بلیک واٹر اور سی آئی اے کے اہلکاروں سے بھر دیا تھا۔ غالباً 2010ء کی بات ہے جب دفتر خارجہ نے 300نان ڈپلومیٹک سٹاف جن کو امریکی ڈیفنس آفیشلز ظاہر کیا گیا تھا کو ویزے دینے سے انکار کیا اور اس ضمن میں امریکی دباؤ کو برداشت کیا۔ شاہ محمود قریشی کی اس جرأت پر آج بحیثیت پاکستانی ہمارے سر فخر سے بلند ہیں لیکن جن ظالموں نے قومی غیرت کو پس پشت ڈال کر ایک قاتل کی رہائی کے لیے اقدامات اُٹھائے ان کے کردار کی وجہ سے ہمارے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔ صدر زراری اور وزیر اعظم گیلانی کے علاوہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں جو سرگرمی دکھائی اُس کی وجہ سے آج پاکستانی قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بحیثیت ادارہ فوج کی بدنامی ہوئی ہے اور یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ سیاستدانوں کے ساتھ مل کر فوجی قیادت بھی وہ کام کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے جس سے قومی وقار کو دھچکا لگتا ہے۔ پاکستانی قوم اپنی فوج سے والہانہ محبت کرتی ہے اور اہل سیاست کی نسبت فوجی قیادت کو قومی مفادات کا زیادہ بہتر محافظ سمجھتی ہے۔ صدر زرداری کے دور میں جب کیری لوگر بل پر فوجی قیادت نے مزاحمت کی تو قوم نے اس کو سراہا ، بعد ازاں میموگیٹ کے مقدمے میں بھی جنرل کیانی اور جنرل شجاع پاشا نے عدالت عظمیٰ میں بیان حلفی داخل کیے کہ قومی مفاد کمپرومائز ہوا ہے تو عوام نے اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ان عناصر نے بھی منفی کردار ادا کیاجن سے اس کی توقع نہ تھی ۔ اس وقت کی اپوزیشن مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے بارے میں بھی یہ افسوس ناک بات سامنے آئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے وہ بھی آن بورڈ تھے۔ نواز شریف نے اپنے اقتدار میں آنے کی راہ ہی اس طرح ہموار کی کہ وہ امریکی مفادات کے سامنے کھڑے ہونے کی بجائے اس کی تعمیل کے لیے کام کرتے رہے۔ نواز شریف نے بحیثیت اپوزیشن لیڈر وہ کردار ادا نہ کیا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ مسلم لیگ ن مشرف دور میں مسلسل کہتی رہی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ نہیں ہے لیکن جیسے ہی مشرف حکومت ختم ہوئی اور زرداری عہد کا آغاز ہوا مسلم لیگ ن اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی۔ بطور اپوزیشن اگر مسلم لیگ ن امریکہ کو ٹف ٹائم دیتی تو ملکی مفادات کا زیادہ بہتر تحفظ ہو سکتا تھا مگر لیگی قیادت نے بحیثیت اپوزیشن اپنا قومی فریضہ انجام دینے سے گریز کیا۔ میاں نواز شریف کے ارادوں کے بارے میں اُس دن واضح ہو گیا تھا جب آپ اپنی پوری مرکزی ٹیم کے ہمراہ رچرڈ ہالبروک سے ملنے امریکی سفارت خانے پہنچ گئے تھے۔ رچرڈ ہالبروک صدر اوبامہ کی جانب سے پاکستان و افغانستان کے لیے متعین خصوصی نمائندے تھے لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت نے ان کی بہت عزت افزائی کی۔ یہ وہ نواز شریف تھے جو اپنے جلسوں میں فخریہ اس بات کا ذکر کرتے تھے کہ انہوں نے امریکی سفیر کو ملاقات کے لیے کتنا انتظار کروایا تھا۔ ماضی کے نواز شریف اور جلاوطنی کے بعد نمودار ہونے والے نواز شریف میں فرق سمجھنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف اور صدر زرداری ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور دونوں امریکی مفادات کو پاکستان میں حکومت کرنے کے لیے تحفظ دینا ضروری سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں