حریص قوم

حریص قوم

لالچ،حرص،طمع اور ہوس ایسی بیماری ہے جو بالآخر کسی بھی قوم کو اخلاقی موت سے دوچار کر کے ہی چھوڑتی ہے اور ٹیکنالوجی کے اس دور میںجبکہ ہر شے واشگاف ہو کر سامنے آ رہی ہے،ہمیں مان لینا چاہئے کہ ہم اخلاقی اعتبار سے مر چکے ہیں ۔ہماری روحیں ہمارے بدنوں میں تڑپ رہی ہیں کیونکہ انہیں ہمارے وجودوں سے گھن آ رہی ہے۔سراسر جھوٹ ہے،بدترین منافقت ہے کہ صرف غریب ہی لالچی ہیں،اتنے حریص کہ مفت کے پٹرول کی ایک بوتل کے لئے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔سچائی یہ ہے کہ کیا غریب کیا امیر سبھی حریص ہیں ،اتنے لالچی کہ اپنے فائدے کے لئے دین،ایمان،خاندان،عزت،شہرت سب کچھ بیچ سکتے ہیں۔احمد پور شرقیہ میں تیل کا ٹینکر الٹا تو تھوڑے سے مفت تیل کے لئے پورا علاقہ امڈ آیا اور دو سو کے لگ بھگ لوگ جل کر کوئلہ ہو گئے۔ہر ٹی وی اینکر نے اسے حرص و ہوس اور لالچ کا شاخسانہ بتایا اور اسے غربت سے جوڑا لیکن بصیرت سے عاری ان اینکروں کی یا تو سمجھ بوجھ ہی اس قدر ہے یا ان میں پورا سچ بولنے کی ہمت ہی نہیں کیونکہ پورا سچ وہی بول سکتا ہے جس میں اپنے گریبان کے اندر جھانکنے کی بھی ہمت ہو۔حقیقت اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ پوری کی پوری قوم ہی لالچی ہے اور اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے رذیل سے رذیل کام کر سکتی ہے۔ریمنڈ ڈیوس نے ہمارے دو لوگوں کو دن دیہاڑے،سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میںگولی مار کر قتل کیا ۔لاہور پولیس اسے پکڑ کر تھانے لے گئی۔ امریکی ایجنٹ کو پیاس لگی تو ایک پولیس اہلکار نے یہ کہہ کر اس کے سامنے قوم کے اخلاقی زوال کا پول کھولا۔'' نو منی نو واٹر''۔ 

مقصد یہ تھا کہ گورا جیب سے سو ڈالر کا نوٹ نکال کر اسے دے تاکہ وہ بیس روپے کی پانی کی بوتل اس کے حوالے کر کے سو ڈالر کا نوٹ جیب میں ڈالے۔تھانے سے جیل تک کے سفر میں پولیس اور جیل اہلکاروں کی مٹھیاں گرم ہوتی رہیں اورریمنڈ ان تمام سہولیات سے مستفید ہوتا رہا جو کسی بھی ایسے پاکستانی قیدی کو خواب میں بھی نہیں مل سکتیں جس کے پاس پولیس کو دینے کے لئے رشوت نہ ہو۔وکیل کرنے کا مرحلہ آیا تو وکیلوں کے ریٹ یکا یک بڑھ گئے۔بیس ہزار ڈالر فیس آفر کی گئی جو پاکستانی بیس لاکھ بنتے ہیں تو کچھ وکیلوں نے یہ عذر پیش کیا کہ اتنی سی حقیر رقم کے لئے وہ اپنی جان کو خطرے میں کیوں ڈالیں چنانچہ زاہد بخاری نامی وکیل نے ایک لاکھ ڈالر کے عوض مقدمہ لڑا جو پاکستانی روپے میں ایک کروڑ بنتے ہیں۔ گویا یہاں بھی لالچ کا عنصر کارفرما رہا۔اگر ہمارے وکیل اس سے دس گنا بھی مانگتے تو امریکی دیتے کیونکہ انہیں اپنا بندہ عزیز تھا اور ہمیں پیسہ جس کے لئے ہم اپنی عزت اور غیرت کے آج تک سودے ہی کرتے آئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ مرنے والوں کے اٹھارہ رشتہ داروں میں سے کچھ لوگ دیت لینے کو تیار نہ تھے چنانچہ ان کے تالیف قلب کے لئے انہیں اس رقم کی جھلک دکھائی گئی جو تعاون کی صورت میں انہیں ملنے والی تھی۔ بڑے نوٹوں کی ہزاروں گڈیاں دیکھ کر سب کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں تو ان کا انکار اقرار میں بدل گیا۔میڈیا بہت شور کر رہا تھا لیکن کچھ ہی دنوں میں بعض '' غیرت مند'' اینکر دلیلیں پیش کرنے لگے کہ جو بھی معاملہ ہوا وہ عین شریعت کے مطابق ہوا۔گویا یہاں بھی تالیف قلب کا کچھ سامان ہوا اور جو کل تک حرام تھا وہ حلال ہو گیا۔اس سارے حلال نامے کے بعد اب ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لئے کاوشوں کا مرحلہ آیا توپاکستان کی عزت اور غیرت کے لئے جانیں نچھاور کرنے کے دعویدار سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔اجلاس اس لئے نہیں بلایا گیا تھا کہ سیاسی اور عسکری قیادت متحد اور متفق ہو کر یہ اعلان کرنے والی تھی کہ امریکی قاتل جاسوس کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اس لئے ہو رہا تھا کہ ریمنڈ کی رہائی کے اسباب حکومت مہیا کرے یا فوج۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ اونر شپ حکومت لے گی،پیسہ بھی وہی مہیا کرے گی اور گرائونڈ پر سارے لوازمات جنرل پاشا پورے کریں گے سو اس فیصلے کے مطابق جنرل پاشا نے اپنی ایجنسی کے ذریعے اٹھارہ لواحقین کودیت لینے پر راضی'' کیا اوریوں ان وارثوں نے عدالت میں بیانات قلمبند کروائے کہ وہ دیت لینے کو تیار ہیں۔جج صاحب کی حالت اس منصف جیسی تھی کہ ''میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی''عدالت کے باہر جو انتظام ہو رہا تھا جج صاحب کو بھی اس کا علم تھا ،اعلیٰ عدالتیں بھی یہ سارا منظرنامہ دیکھ رہی تھیں لیکن کوئی سوموٹو ہوا نہ کوئی ایسی آبزرویشن آئی کہ جس طرح کی طیبہ کیس میں آئی کہ فریقین کی صلح صفائی قابل قبول نہیں۔خلاصہ تحریر یہ کہ کسی نے پیسے کی ہوس میں ایک امریکی قاتل کو بچانے کے لئے کندھا پیش کیا توکسی نے کرسی بچانے کے لئے اسے رہائی دلانے میں کردار ادا کیا کہ ہمارے ہاں کی کرسیاں بھی پیسے کی ڈور سے بندھی ہوتی ہیں۔سیاستدان تو ہوتے ہی ایسے ہیں لیکن زرداری کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں نہ آرمی چیف کو طیش آیا نہ پاشاکو۔ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ مکروہ کھیل کا حصہ بننے کی بجائے استعفیٰ دے کر گھر چلا جائے گا۔حاصل تحریر ۔ہم ایک زندہ،آبرومنداور باوقار قوم ہیں اوراصولوں پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے موت قبول کر لیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں