اللہ پاک کی خوشنودی

اللہ پاک کی خوشنودی

آپ نے مسجد میں نماز کے بعد بہت سے لوگوں کو دعا کرتے دیکھا ہوگا اکثر لوگ ایک دعا ضرور کرتے ہیں : یا اللہ تو راضی ہوجا! اگر بندے سے اللہ پاک راضی ہوجائے تو پھر اسے اور کیا چاہیے یہ بہت بڑی نعمت ہے جو توفیق الہٰی سے ہی حاصل ہوتی ہے یہی اللہ پاک کی خوشنودی ہے جو نصیب والوں کو ملتی ہے اللہ کی خوشنودی کی طرف جس راستے سے پہنچاجاتا ہے اسے رزق حلال کہتے ہیں حلال کی تاثیر یہ ہے کہ دل نرم پڑ جاتا ہے زرا سی غلطی ہوجائے تو دل خوف خدا سے کانپ اٹھتا ہے اپنے گریبان میں جھانکنے کی توفیق عطا ہوجاتی ہے دوسروں سے زیادہ اپنی غلطیوں پر نظر رہتی ہے اپنی اصلاح کی فکر ہر وقت دامن گیر رہتی ہے۔ عید تو آتی ہے لیکن عید کی سچی خوشیوں سے ہم محروم ہی رہتے ہیں دوست سے ان کی طمانیت کی وجہ پوچھی تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ عید کی نماز پڑھ کر واپس آیا تو آرام سے سو گیا کہ چلو دو تین گھنٹے آرام ہی کر لیا جائے گرمی کی شدت بھی زیادہ تھی لیکن ابھی آنکھ لگے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ شریک حیات نے آواز دی کہ اٹھو دروازے پر کوئی مہمان ہے گھڑی پر نظر ڈالی تو آٹھ بج رہے تھے سوچا یار یہ کونسا مہمان ہے جو صبح سویرے منہ اٹھائے عید ملنے چلا آیا ہے بہرحال اٹھ کر دروازہ کھولا تو ہمارے سکول کا چوکیدار اپنی تین چار سالہ پوتی کے ساتھ کھڑا تھا اسے ریٹائر ہوئے بھی آٹھ دس برس ہوچکے ہیں کمزوری سے اس کا ناتواں جسم لرز رہا تھا عصا کے سہارے پر کھڑا تھا بائیں ہاتھ سے پوتی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا کچھ عرصہ پہلے سنا تھا کہ اس پر فالج کا شدید حملہ ہوا تھا اس کی عیادت کا ارادہ تو کیا تھا لیکن پھر دنیا کے دھندے آڑے آتے رہے اور میں اس کی عیادت سے محروم ہی رہا اب جو اسے اپنے دروازے پر کھڑے دیکھا تو دل خوشی سے جھوم اٹھا اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ اس نے عید کے پہلے دن اتنے بابرکت مہمان سے نوازا ہے اسے آگے بڑھ کر گلے لگایا عید کی مبارکباد دی جلدی سے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا دادا پوتی کو قالین پر بٹھایا حال احوال پوچھا وہ بار بار کہتا تھا کہ صاحب میں نے صبح سویرے آکر آپ کی نیند خراب کردی ہے مجھے اتنی جلدی نہیں آنا چاہیے تھا میں اسے ہر بار کہتا تھا کہ تم نہیں جانتے تمھارے آنے کی مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے تمھار ا دل چاہتا تھا تو تم آئے ہو ! دادا پوتی زیادہ سے زیادہ دس منٹ ہی بیٹھے ہوں انھوں نے ڈھنگ سے کچھ کھایا پیا بھی نہیں وہ میرے اصرار پر کہتا تھا کہ ڈاکٹروں نے سب کچھ بند کر رکھا ہے پرہیز نہ کروں تو بیماری مزید پریشان کرتی ہے !عید ملنے کے بعد وہ تو رخصت ہوگیا لیکن مجھے سکون و اطمینان کی لازوال دولت عنایت کرگیا بس یار کیا بتائوں مجھے اپنے سکول کے چوکیدار کے آنے کی کتنی خوشی ہوئی بس بیان سے باہر ہے! ہم اپنے دوست کی خوشی دیکھ کر خود بھی خوشی محسوس کر رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ یہی تو حقیقی خوشی کا راز ہے کہ اللہ پاک کے ان بندوں کا احترام کیا جائے جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوتے ہیں اور ہم جیسے کم فہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان سے بہتر ہیں یہی تو وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے اللہ پاک ہمیں فراواں رزق عطا کرتا ہے ہم ان کی خدمت کر کے اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں دوست کی بات سن کر ہمیں اپنا وہ ٹھیکیدار دوست یاد آگیا جس سے عید ملنے ایک مزدور آیا تو اس نے اس کی خوب خاطر تواضع کی اپنے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اسے اپنا ایک قابل احترام مہمان سمجھا مزدور کے پائوں میں پھٹی پرانی چپلی تھی اور تن پر بوسیدہ لباس تھا اس نے مزدور کو رخصت کرتے ہوئے اچھی خاصی عیدی بھی دی اور اپنی چپلیوں کا نیا جوڑا اور ایک عدد جوڑا کپڑوں کا بھی دیا مزدور کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں ہوگیا وہ تشکر کے آنسو تھے ٹھیکیدار نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے کہا یہ تو کچھ بھی نہیں ہے تم میرے بھائی ہو تمھارے مجھ پر بہت زیادہ حقوق ہیں دعا کرو کہ اللہ پاک ہمیں ان حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے!ہمیں جب بھی اس قسم کے واقعات سننے کا موقع ملتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ انھیں دوستوں کے ساتھ شیئر کیا جائے! چلتے چلتے یہ واقعہ بھی پڑھ لیں: گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھائو لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے بارہ درہم۔ اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا : مجھے ایک کیلو کیلے چاہییںکیا بھائوہے ؟ دکاندار نے کہا کیلے تین درہم فی کیلو ۔دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، دکاندار نے اشارے سے گاہک کو تھوڑا انتظار کرنے کو کہا، عورت خریداری کرکے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑ بڑائی: اللہ تیرا شکر ہے میرے بچے انھیں کھا کر خوش ہوں گے۔ عورت کے جانے کے بعد دکاندار نے گاہک سے مخاطب ہوکر کہا اللہ گواہ ہے میں نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے اب مجھے یہ طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کر پھل دیدوںمیں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے کسی کی محتاجی کا احساس بھی نہ ہو میں یہ تجارت اللہ پاک کے ساتھ کرتا ہوںاور اس کی رضا اور خوشنودی کا طالب ہوں۔ گاہک کی آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے آگے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا : بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جو اس تجربے سے گزرا ہو!۔

اداریہ