Daily Mashriq


ڈھائی محاذوںکی جنگ؟

ڈھائی محاذوںکی جنگ؟

کشمیر کی کنٹرول لائن پر پاکستان اور بھارت کی افواج چھوٹی موٹی جنگ لڑ نے میں مصروف ہیں ۔آئے روز کنٹرول لائن پر شہریوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کی خبریں آتی ہیں اور فوجی نقصان کی تفصیل تو شاید پوری طرح سامنے نہیں آتی مگر تصادم میں فوجی نقصان نہ ہونا کوئی معجزہ ہی کہلا سکتا ہے ۔اب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے سر ی نگر میں کہا ہے کہ ان کے پاس سرجیکل سٹرائیکس کے علاوہ بھی کئی آپشن ہیں ۔جنرل راوت نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا بھارتی فوج دو یاڈھائی ہر محاذ پر جنگ کے لئے تیار ہے ۔دومحاذوں سے ان کی مراد بیک وقت چین اور پاکستان کی افواج کے ساتھ جنگ ہے مگر ڈھائی سے کیا مراد ہے؟ غالباََ وہ بھارتی حدود میں چلنے والی تحریکوں آسام اور کشمیر وغیرہ کو آدھا محاذ سمجھتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ دومحاذ گرم ہوتے ہی یہ آدھا محاذ بھی اُبل پڑے گا ۔امریکہ نے بہت گہری چال چلی ہے ۔نریندر مودی کے دورہ امریکہ میں جہاں بھارت کو ڈرون فروخت کرنے کا فیصلہ کیا وہیں سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کا پرزہ تھما کر ہدف بھی دکھا دیا ۔بھارتی ابھی ا س پر جشن بھی نہ منا پائے تھے کہ انہوں نے سید صلاح الدین سے متعلق انتظامی حکم کا بغور جائزہ لیااور ان کا ماتھا ایک لفظ پر جا کر ٹھنکا ۔وہ جس کاغذ پر خوشی منانے جا رہتے تھے اسی کاغذ کے دودھ میں ''بھارت کے زیر انتظام کشمیر'' لکھ کر مینگنی بھی ڈال دی جو امریکہ کی طرف سے کشمیر کو متنازعہ تسلیم کرنے کے متراد ف ہے ۔جب یہ باریک بات بھارتیوں کو سمجھ آئی کہ تو خط کا آدھا مزہ کرکرہ ہو کر گیا ۔جس کے بعد ہی کئی ایک بھارتی دانشوروں نے یہ بات کی ہے کہ بھارت کو امریکہ کے مقاصد کو آگے بڑھاتے ہوئے چین سے اس قدر مخاصمت مول نہیں لینی چاہئے۔امریکہ نے مودی کو تھمائے جانے والے محضر نامے میںبھارت کے زیر انتظام کشمیر لکھ کر اپنے کچھ کارڈ بچانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ امریکہ نے بھارتی خواہش کے برعکس کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار نہیںد یا ۔اس کے فوراََ بعد ہی امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت کی تھی کہ اس انتظامی حکمنامے سے امریکہ کی کشمیر پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ۔اب پاکستان کا دورہ کرنے والے سینیٹر جان مکین نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا کہ امریکہ کشمیر کو بدستور متنازعہ علاقہ سمجھتا ہے ۔انتظامی خط کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لئے امریکہ کا بار بار کشمیر کو متنازعہ کہنا پڑتا ہے اوریوں امریکہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کی پوزیشن کھو جانے کا دھڑکا ہے ۔امریکہ کو خوف ہو سکتا ہے کہ اگر وہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو چین آگے بڑھ کر دونوں ملکوں کے درمیان اسی طرح مذاکرت کی سیج سجاسکتا ہے جس طرح وہ امریکہ کی ناکامیوں کے بعد کابل اور اسلام آبادکے درمیان مذاکرات اور مصالحت کا ڈول ڈال چکا ہے۔ جنرل راوت کے اس بیان کے بعد یہ سوال پیدا ہو ا کہ کیا واقعی بھارتی فوج دو محاذوں کی لڑائی سے دوچار ہے اور بیک وقت دونوں کا مقابلہ کر سکتی ہے ؟۔چینی فوج کے ترجمان نے جنرل بپن راوت کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ وہ تاریخ کا سبق نہ بھولے۔تاریخ کا سبق 1962میں ہونے والی چین بھارت جنگ ہے جس میں بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔یہ صرف ایک محاذ کی جنگ تھی ۔اس وقت پاکستان اور بھارت کشمیر کے مسئلے پر شدید اختلافات کا شکار تھے اور ایک جنگ لڑ چکے تھے مگر پاکستان پر امریکہ کا اثر رسوخ اس قدر گہرا تھا کہ وہ اس جنگ میں چین کی مدد نہ کر سکا جس کا چینی قیادت کو ہمیشہ قلق رہا ہے۔اس جنگ کے ایک سال بعد 1963میںچیرمین مائو زے تنگ نے پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو سے شکوے کے انداز میں کہا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ جب اکتوبر 1962میں چینی افواج بھارت پر دبائو ڈالے ہوئے تھیں،پاکستان نے کشمیر کو آزاد کرانے کا موقع ضائع کر دیا کیونکہ وہ امریکہ کی طرف دیکھتا رہا۔چین کی طرف سے ماضی کی یاد دلانے کا جواب بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کی طرف سے آیا ہے کہ اس وقت اور آج کے بھارت میں بہت فرق ہے ۔جنرل بپن راوت کی طرف سے دو محاذوں پر جنگ کی بات ایک ایسے وقت میں کی گئی جب چین اور بھارت کی افواج سکم کی سرحدوں پر آمنے سامنے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس میں دونوں ملکوں کے فوجیوں میں ہاتھا پائی ہوتے بھی دکھائی جا رہی ہے ۔اس علاقے میں چین ایک سڑک تعمیر کر رہا ہے اور بھارتی فوج یہاں کچھ پیش قدمی کر بیٹھی ہے ۔جس پر دونوں افواج کے مابین کشیدگی برقرار رہے۔چین نے اسے تاریخی اعتبار سے اپنا علاقہ قراردیا ہے اور بھارتی فوج کے انخلاء کے بغیر کسی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔چین کی فوج تبت میں بھارتی سرحد کے قریب ٹینکوں کی ایک بہت بڑی مشق بھی کر رہی ہے ۔اس طرح ملنے والے اشارے پاک بھارت روایتی کشیدگی کا تناظر وسیع کرکے اسے تکونی بنارہے ہیںیعنی یہ ایک پاک چین بھارت جنگ کی ممکنہ صورت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔امریکہ کی کوشش ہے کہ چین کی طاقت اور اختیار کا سورج پوری آب وتاب سے چمکنے سے پہلے ہی کسی تصادم کے نتیجے میں غروب ہوجائے مگر امریکہ خود ایک ڈھلتی ہوئی چھائوں ہے جو دنیا کو کنٹرول کرنے کی سکت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔اس کا یک قطبی دنیا کا تصور مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں ناکام ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں