مشرقیات

مشرقیات

عبیداللہ بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ : میں اور ابوالعباس ایک بڑی جماعت کے ساتھ خلیفہ واثق کے وزیر محمد بن عبدالملک زیات کے پاس قید تھے۔ واثق ان دنوں شدید بیمار تھا ہم اس مشکل سے خلاصی سے ناامید تھے کہ اچانک واثق کی بیماری بڑھ گئی وہ چھ دن تک لوگوں کے سامنے نہیں آیا پھر ابو عبداللہ احمد بن ابی دائود واثق کی خدمت میں حاضر ہوا۔ واثق نے اس سے کہا: اے ابو عبداللہ !میرے ہاتھ سے تو دنیا اور آخرت دونوں چلی گئیں۔
اس نے کہا :ہرگز نہیں امیر المومنین ۔واثق نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کی قسم ایسا ہی ہے دنیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو کہ ''موت کے آنے سے چلی جائے گی اور آخرت ان برے اعمال کی وجہ سے چلی گئی جو میں نے کئے''۔ تو کیا تمہارے پاس اس کا کوئی علاج ہے؟
اس نے کہا :جی امیر المومنین محمد بن عبدالملک زیات نے کئی''عمال و کاتبوں'' کو معزول کردیا ہے اور ان کو قیدخانوں میں بند کردیا ہے وہ لوگ بہت بڑی تعداد میں ہیں اور ان کے پیچھے ہزاروں ہاتھ ہیں جو اللہ کے سامنے دعا کیلئے اٹھتے ہیں شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت عطا کرے۔ واثق نے ابن زیات سے ان لوگوں کی اور قیدخانے میں بند دوسرے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے رقعہ میں لکھا اور ساتھ میں مشورہ اور رجوع نہ کرنے کی تاکید کی ۔
پھر اپنے قاصد ایتاخ کو حکم دیا کہ وہ رقعہ لے کر جائے اور اس کو اس وقت تک کوئی نام نہ کرنے دے جب تک ان لوگوں کو رہا نہ کردے۔
جب ایتاخ ہمارے پاس آیا تو ہمیں اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ وہ کسی شر کے ارادے سے آیا ہے مگر اس نے ہمیں رہا کردیا اور ہمیں پوری صورتحال سے آگاہ کیا۔
پھر ابن ابی دائود رات کے وقت دوبارہ خلفیہ واثق کے گھر آئے ۔ واثق نے ان سے کہا: اے ابو عبداللہ! میں نے تمہارے مشورے سے برکت حاصل کی اور بیماری میں بھی تخفیف اور نشاط محسوس کیا۔ ابن ابی دائود نے کہا: امیر المومنین! وہ ہاتھ جو آپ کی بد دعا کیلئے اٹھتے تھے وہ اب صبح و شام آپ کے حق میں دعا کیلئے اٹھنے لگے ہیں اور ان کی وجہ سے آپ کی رعایا میں سے ابھی ایک بڑی تعداد آپ کیلئے دعا کرتی ہے مگر یہ کہ وہ ویران گھروں میں بری حالت میں رہ رہے ہیں نہ تو ان کے پاس بستر ہیں نہ لباس نہ سواریاں نہ زمینیں بھوک اور کمزوری کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ اس کے تین یا چار دن بعد واثق انتقال کرگئے اس طرح مظلوموں کی دعائیں رنگ لے آئیں اور واثق کی مشکل آسان ہوگئی۔

متعلقہ خبریں