Daily Mashriq


یک رنگ اہل سیاست کے نرالے رنگ

یک رنگ اہل سیاست کے نرالے رنگ

وقت ملک میں سیاسی حکومت کی بجائے نگران حکومتیں قائم ہیں۔ انتخابات کے انعقاد کے بعد عوامی مینڈیٹ کے ساتھ حکومتوں کا قیام عمل میں آئے گا جس سے عوام کی جانب سے توقعات وابستہ کرنا فطری امر ہوگا۔ ملک میں دس سال سے جمہوریت کی گاڑی ضرور پٹڑی سے نہیں اتری لیکن عوام بہتری کے راستے کی طرف اب بھی دیکھ رہے ہیں۔ عوام کو اپنے مسائل کے حل سے سروکار ہے اس امید پر عوام وقتاً فوقتاً مختلف جماعتوں اور بعض صوبوں میں مسلسل ایک ہی جماعت کو اقتدار سونپنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات ہی نکلتا ہے۔ نگران حکومتوں کا نہ تو مینڈیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ ان سے سوائے پر امن انتخابات کے انعقاد سے زیادہ کی توقع کی جاسکے اور انتخابات میں ان کے کردار کے غیر جانبدار ہونے کی توقع وابستہ کی جائے۔ نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جس تسلسل کے ساتھ تعلیم و تحقیق اور ڈیجیٹل لائبریریوں کے قیام پر زور دیتے رہتے ہیں اور جن خیالات کا وہ اظہار کرتے ہیں اس سے ان کی اس حوالے سے شدید خواہش اور سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ ان خیالات کو عملی شکل دینے کے لئے جس اختیار اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس مختصر مدت حکومت میں ممکن نہیں اور نہ ہی نگران وزیر اعظم ‘ وزرائے اعلیٰ اور ان کی کابینہ سے اس امر کی توقع وابستہ کرنا حقیقت پسندانہ امر ہوگا کہ وہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کر جائیں اور نہ ہی آمدہ حکومت سے ان اقدامات کو اختیار کرنے کی امید ہے۔ شاید سیاسی اور نگران حکومت کا فرق ہی یہ ہو کہ نگران دور میں شعبے کے ماہرین ‘ تجربہ کار اور جہاندیدہ افراد کو مسند سونپا جاتا ہے اور سیاسی حکومت میں قابلیت و اہلیت اور چنائو کا معیار‘ سیاسی وابستگی اور لیڈر شپ سے قربت ہے۔ اگرچہ ہر دور حکومت میں ایسا ہی ہے کہ کسی ڈاکٹر کو صحت کی وزارت نہیں دی جاتی۔ ماہر امور مالیات کو خزانے کی کنجی نہیں ملتی۔ کسی پروفیسر اور محقق کو تعلیم کی وزارت نہیں دی جاتی لیکن گزشتہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہی تعلیم اور صحت کا شعبہ تھا مگر افسوسناک امر یہ رہا کہ تعلیم کی وزارت پر اعلیٰ ثانوی درجے کی سند کے حامل شخص کو بٹھایا گیا جبکہ محکمہ صحت کا حال اس سے بھی برا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ صورتحال صرف ایک حکومت ہی میں نہیں رہی ہر سیاسی حکومت ایسا ہی کرتی رہی ہے کہ ڈاکٹر کو ہائوسنگ کی وزارت دے دی اور وکیل کو خزانے کی کنجی تھما دی‘ سپیکر کی سیٹ قانون اور آئین سے ناواقف شخص کے حوالے کردی۔ سیاسی حکومتوں میں میرٹ ‘ معیار اور اہلیت کے مطابق کابینہ کی تشکیل نہ ہونا مشکلات کا بڑا سبب اور ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ جس شخص کو متعلقہ محکمے کی شد بد کا علم نہ ہو ان کو اختیار سونپنا بندر کے ہاتھ میں استرا دینے کے مترادف ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھ کر ہر شخص خود کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے اور محکمے میں متعلقہ شعبے سے واقفیت اور تجربہ رکھنے والے عمال سے مشاورت کی زحمت ہی نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے آوے کا آوا بگڑا ہوتا ہے اور کوشش کے باوجود اصلاح کی مساعی ناکامی سے دو چار ہوتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اصلاح اور بہتری کے خواہشمندوں کو بالخصوص اور سیاسی قائدین کو بالعموم اس امر کی ضرورت کا پاس رکھنے سے اب آنکھیں موند لینے کا رویہ ترک کردینا چاہئے۔ یہ ایک زریں موقع عوام کے پاس آیا ہے کہ ہر سیاسی کارکن اپنے اپنے قائد اور پارٹی رہنمائوں سے اس امر کا مطالبہ کرے کہ اقتدار ملنے کی صورت میں وہ کابینہ کی تشکیل میں سیاسی مصلحت پر اہلیت کو فوقیت دے گا اور ممکنہ طور پر اہل شعبے کی سمجھ رکھنے والے دستیاب ممبر اسمبلی کو وزارت اور محکمہ کا انتظام سونپے گا۔ اب تو وہ موقع چلا گیا لیکن سیاسی جماعتوں کو اصولی طور پر ایسے ماہر افراد کو اپنی صفوں میں شامل کرنے اور ان کو کامیاب بنا کر اسمبلیوں میں لانے کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے شعبوں میں تجربہ کار ہونے کے ساتھ ساتھ نیک نام بھی ہوں۔ چونکہ تقریباً ہر سیاسی جماعت سے کئی اہم رہنما ایک سے زائد نشستیں پر انتخاب لڑ رہے ہیں اور ان کا ایک سے زائد حلقوں سے کامیابی بعید نہیں اس لئے ان کے پاس ایک زریں موقع ہے کہ وہ اپنے مضبوط حلقوں سے اور خاص طور پر وہ جماعتیں جن کو صوبوں اور مرکز میں حکومت سازی کا موقع میسر آئے ان کو اصولی طور پر محولہ قسم کے امیدواروں کو ضمنی انتخاب میں ٹکٹوں کے اجراء کا ابھی سے وعدہ کرلیناچاہئے۔ اگر سیاسی جماعتوں کے دعوئوں اور وعدوں کو دیکھا جائے تو ہر سیاسی جماعت قوم کے درد میں مبتلا ہے اور ان کے پاس قومی مسائل کا شافی حل موجود ہے لیکن اگر ان کے عمل اور فیصلوں کا جائزہ لیا جائے تو سوائے اقتدار کی کرسی کے ان کی کوئی اور ترجیح نہیں۔ جب تک عملی طور پر تبدیلی کے لئے پوری منصوبہ بندی نہ ہو اور اس پر عمل درآمد کی نیت خالص نہ ہو کوئی بھی سیاسی جماعت برسر اقتدار آجائے عوام کے مسائل و مشکلات وہیں کے وہیں رہیں گے اور انتخابی عمل سے عوام کی بیزاری بڑھتی جائے گی۔

متعلقہ خبریں