Daily Mashriq


نگران وزیراعلیٰ کی تحقیق میں دلچسپی اور معروضی صورتحال

نگران وزیراعلیٰ کی تحقیق میں دلچسپی اور معروضی صورتحال

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر)دوست محمد خان نے کہا ہے کہ ہمیں 21 ویں صدی کے بدلتے ہوئے حالات کا سامنا کرتے ہوئے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہوگا تعلیم و تحقیق کیلئے ہمیں کسی بھی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دینا ،ہماری پہلی اور آخری ترجیح تعلیم و تحقیق ہونی چاہئے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے اس امر کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستانی سائنسدانوں کا بین الاقوامی ایجادات میں بھرپور حصہ رہا ہے ،بد قسمتی سے ہمارے ملک میں عالمی معیار کی لیبارٹریاں موجود نہیں ہیں اگر ہم اپنے ملک میں بین الاقوامی سطح کی جدید لیبارٹریاں اپنے طلبا کو فراہم کر سکیں توطلبا ہمارے لئے نت نئی ایجادات کر سکتے ہیں۔ ہمارا اعلیٰ دماغ اگر امریکہ اور یورپ میں تحقیق کے میدان میں اپنا لوہا منوا سکتا ہے تو اپنے ملک میں کیوں نہیں۔نگران وزیر اعلیٰ کی تعلیم و تحقیق کی اہمیت بارے زرین خیالات قابل توجہ ضرورہیں لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کو ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کا موقع بھی ملتا اور ان کے لب ولہجے کے خلوص کی حقیقت آشکارہ ہو جاتی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نظام تعلیم کی بہتری اور معیار تعلیم وتحقیق پر گفتگو ایک فیشن سے زیادہ کی حقیقت نہیں رکھتی۔ خیبر پختونخوا میں تو صورتحال ابتر ہے جہاں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم دعوے کی حد تک ہے اور تحقیق تو شاید دعوے کی حد تک بھی نہ ہو ۔ صوبے میں تحقیق پر توجہ تو درکنار یہاں خود مغز کھپائی کر کے کوئی چیز ایجاد کرنے پر سرکاری طور پر سر پرستی ملنے کی بجائے حوصلہ شکنی کا رویہ اپنایا جاتا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی جانب سے ہی نہیں ہنرمندوں اور کاریگر وں کے کئی جو ہر سامنے آئے مگر سر پرستی نہ ہونے کے باعث ان کی محنت وریاضت اکارت گئی ۔ جہاں تک جامعات میں تعلیم و تحقیق کا سوال ہے یہاں پر عملی کام کی طرف تو توجہ ہی نہیں دی جاتی کہ طالب علموں کو اس قابل بنایا جائے کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ عملی میدان میں با آسانی داخل ہوسکیں اور تجربے وقابلیت کے بل بوتے پر اعلیٰ مقام پاسکیں۔ اگر صحافت ہی کی مثال دی جائے تو جامعہ پشاور کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبہ کو عملی صحافت کی بنیاد خبر سازی کی عملی تربیت تک دینے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی یوں جو طلبہ میدان عمل میں نکلتے ہیں ان کو میڈیا اور تعلقات عامہ کے اداروں میںیکساں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو جامعہ پشاور اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ایم فل کی کلاسیں صرف وہی طالب علم لے سکتے ہیں جو سولہ سال تعلیم کے بعد بھی بغیر عملی دنیا میں قدم رکھے صرف صبح کے اوقات میں ’’پر پر خانی ‘‘ کرنے کے خواہاں ہوں جس کی وجہ سے ملازمت کے ساتھ تعلیم و تحقیق کے خواہشمند وں کو مہنگے داموں نجی جامعات میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔ محولہ جامعات میں ایم فل سکالروں کے داخلے اور ان کی قابلیت و استعداد کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے جبکہ سب سے مشکل امر یہ ہے کہ ان طالب علموں کو کورس سپروائزروں کے عدم تعاون اور تاخیر در تاخیر کی جس تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے ۔ نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اس ضمن میں مختصر مدت میں اصلاح شاید نہ کر پائیں البتہ اس صورتحال کا جائزہ لیکر وہ ایچ ای سی کو ایک خط تحریر کر کے تحقیق کے شعبے کی خدمت ضرور کر سکتے ہیں۔

بی آر ٹی کی تکمیل کو فوقیت دی جائے

پی ڈی اے کے حکام کا سابق دور حکومت میں بی آرٹی منصوبے میں بھاری مراعات کے حصول کے بعد سرکاری فرائض کی انجام دہی میں سنجیدگی اختیار کرنے کی بجائے سیاسی حکومت کی جی حضوری کسی سے پوشیدہ امر نہیں جنہیں نیب کے نوٹس کے بعد ہوش آیا ہے۔ پی ڈی اے حکام کی اس ضمن میں اب لاتعلقی قابل قبول نہیں ان کے پاس ایسا کرنے کا درست وقت اب گزر چکا ہے اگر ان کی نہیں سنی جارہی تھی اور یقینا ان کی نہیں سنی گئی ہوگی تو پھر انہوں نے ان اعلیٰ افسران سے اتفاق کرتے ہوئے اس وقت عہدے سے علیحدگی کیوں اختیار نہ کی جب ان کو ایک موقع میسر آیا تھا یا پھر وہ منصوبے سے اختلاف اورتحفظات کا پہلے ہی اظہار کرتے، انہوں نے نیب کو جو مراسلہ ارسال کیا تھا یہ بات ان کے حق میں جاتی ہے تو سوال یہ ہے کہ نیب نے اس وقت نوٹس کیوں نہیں لیا اور معاملات کو مزید بگڑنے اور منصوبے کی تکمیل کے مقررہ وقت کے گزرنے کے باوجود عملی طور پر استفسار اور تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں ۔ اب جبکہ نیب کے سامنے صورتحال واضح طور پر سامنے آچکی ہے اور اختلاف اوردبائو کے باعث اس منصوبے سے اعلیٰ افسران کی علیحدگی کی صورت میں ثبوت اور شواہد موجود ہیں تو اس کی تحقیقات میں اب جلد سے جلد پیشرفت ہونی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جامع تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرکے گرفتاریوں سے زیادہ اہم معاملہ اس کی مزید وقت ضائع کئے بغیر تکمیل یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو اور منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے خدشات دور ہوں ۔

متعلقہ خبریں