Daily Mashriq


مون سون، لاہور دور نیست

مون سون، لاہور دور نیست

مون سون شروع ہوتے ہیں لاہور میں طوفانی بارش نے تباہی مچا دی۔ آٹھ افراد بارش کے باعث مختلف حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ شہر کی متعدد بڑی چھوٹی شاہراہیں ‘ گلیاں ‘ محلے ڈوب گئے۔ لاہور کے مشہور جی پی او چوک میں مال روڈ پر دو جگہ سے سڑک بیٹھ گئی ‘ بڑے شگاف پڑ گئے اور اورنج ٹرین کا زیرِ زمین سٹیشن تباہ ہو گیا۔ سولہ گھنٹے تک لگاتار بارش سے تین سو ملی میٹر پانی برسا اور محکمہ موسمیات کی پیش گوئی ہے کہ بارش دو دن اور جاری رہے گی۔ یہ صورت حال باعث تشویش ہے ۔ لیکن اس پر ہمارے رائے عامہ کے قائدین سیاسی سرمایہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ اس ریکارڈ بارش کو قدرتی آفت سمجھا جانا چاہیے ‘ لیکن اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے اور ان کے ازالے کی ذمہ داری اہل سیاست ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بعد اعتزاز احسن بڑے زیرک اور ذی فہم آدمی ہیں ۔ ان کے بیان کی سرخی یہ ہے کہ ایک بارش نے شریفوں کی کرپشن کا پول کھول دیا ہے لیکن یہ محض ایک بارش نہیں بلکہ ریکارڈ بدترین بارش ہے۔ وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ کی حکومت نے لاہور شہر کو شدید بارش سے بچانے کے لیے پیش بندی نہیں کی۔ یا وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اورنج لائن ٹرین کے زیر زمین سٹیشن کی تعمیر ناقص ہوئی لیکن اس کے لیے انہیں مزید مطالعہ کی ضرورت ہے اور مبینہ کرپشن کے مزید شواہد پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے اس بیان کے حوالے سے کہ انہوں نے لاہور کو پیرس بنا دیا ہے کہا ہے کہ پیرس بارش سے نہیں ڈوبتا‘ شہباز شریف کا ترقی کا دعویٰ دھوکا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا بیان اور بھی وجہ کے لائق ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بارش سے ہونے والی تباہی کی ذمہ دار نگران حکومت ہے‘ ہمیں گئے تو ایک مہینہ گزر چکا ہے‘‘۔ اگر یہی بارش اور یہی نقصان ایک مہینہ پہلے ہو جاتا تو کیا شہباز شریف اس نقصان کی ذمہ داری قبول کر لیتے؟ پچھلے دنوں کراچی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی میں امن قائم کیا اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ اس میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ جب رینجرز کراچی میں بدامنی کے خلاف کارروائی کر رہے تھے تو اس وقت وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی ۔ اب چونکہ لاہور میں نگران حکومت ہے اس لیے بارش کے نقصانات کی ذمہ داری نگران حکومت کی ہے۔ حالانکہ اس میں حقیقت صرف اتنی ہے کہ آج پنجاب میں نگران حکومت کام کر رہی ہے، اسے صرف ایک مہینہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے لاہور کو یا صوبے کے دوسرے علاقوںکو بارشوں اور سیلابوں سے بچانے کے لیے جو اچھے یا بعض کام کیے گئے ہیں وہ ن لیگ ہی کی حکومت کی ذمہ داری سمجھی جانی چاہیے۔ اور نج ٹرین کا منصوبہ ن لیگ کی حکومت کا تھا ، اس پر عمل درآمد بھی ن لیگ نے کروایا اور اس کی تعمیر اگر اس قدر ناقص ہوئی کہ بارش کی وجہ سے سڑک پھٹ گئی اور اورنج ٹرین کا زیرِ زمین سٹیشن ڈوب گیا تو اس کی ذمہ داری بھی نگران حکومت پر ڈالی جا رہی ہے۔ پھر یہ طعنہ دیا جا رہا ہے کہ لاہور میں بارش تباہی مچا رہی تھی اور نگران وزیر اعلیٰ 14گھنٹے بعد شہر کے دورے پر پہنچے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ میاں شہاز شریف جہاں سیلاب آتا تھا لمبے بوٹ پہن کر پہنچ جاتے تھے لیکن کیا ان کے جانے سے سیلاب رک جاتا تھا؟ وہ لوگوں سے کیمروں کے سامنے خطاب کرتے تھے اور واپس لاہور آ جاتے تھے۔ اور سیلاب اپنی رفتار سے چلتا رہتا تھا۔ اگر حسن عسکری بارش ہوتے ہی ملتان سے واپس لاہور پہنچ سکتے تو کیا طوفانی بارش رک جاتی اور مال روڈ میں شگاف نہ پڑتا؟ وزیر اعلیٰ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ سیلاب زدہ یا آفت زدہ علاقوں میں سرکاری پروٹوکول کے ساتھ پہنچ جائے‘ وہاں تقریر کرے۔ وزیر اعلیٰ کاکام یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو اپنے صوبے کے ہر علاقے کی صورت حال سے آگاہ رہے ‘ آفات کے حوالے سے بھی اور عمومی سرکاری کارگزاری سے بھی۔ اس طوفانی بارش کی ذمہ داری نہ شہباز شریف کی ہے ‘ نہ حسن عسکری کی البتہ اورنج ٹرین کے زیر زمین سٹیشن کی تباہی میاں شہاز شریف کے دور کی منصوبہ بندی اور تعمیراتی کام کے معیار کی طرف ضرور اشارہ کرتی ہے۔ یہ منصوبہ کئی ارب روپے کی لاگت میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس میں کتنا نقصان ہوا ہے اور منصوبہ کس قدر پیچھے چلا گیاہے اس بارے میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ سامنے نہیں آیا تاکہ اس منصوبے اور اس کی تعمیر میں جو خامیاں ‘ کمزوریاں‘ کوتاہیاں یا کرپشن ہو تو وہ منظر عام پر آئے۔ امید کی جانی چاہیے کہ ہمارے اہلِ سیاست اس بھاری نقصان اور دیگر عمارتوںکو اس شگاف سے لاحق ہونے والے خطرات پر بھی متوجہ ہوں گے۔ مون سون کا آغاز صرف لاہور یا پنجاب سے نہیںہوا ۔ یہ موسم ہر سال آتا ہے اور سارے پاکستان میں آتا ہے۔ دریاؤں اور پہاڑی نالوں میں سیلاب آتے ہیں ، خدا کرے کہ ملک کے باقی حصوں میں اس قدر تیز بارشیں نہ ہوں لیکن صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں ‘ پشاور یا نشیبی علاقوںمیں بھی مون سون کا موسم ہر سال تباہی پھیلاتا ہے۔ اور ہر سال وعدے کیے جاتے ہیں کہ آئندہ ان نقصانات کی پیش بندی کر لی جائے گی۔ اب کی بار تو پشاور شہر ریپڈبس ٹرانسپورٹ کے انتظار میں کھدا پڑا ہے۔ ان کھدائیوں میں پانی بھرے گا تو زیر زمین کہاں تک پھیلے گا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پہاڑی نالوں اور شمال سے آنے والے دریاؤں میں کتنی طغیانی آ سکتی ہے اس کا اندازہ کیا جا ناچاہیے اور پانی کے نکاس کے راستے صاف ہوں تو جلدی بہہ سکتا ہے۔ سیلابوں سے گزشتہ برسوں کے دوران بڑا تجربہ حاصل ہو چکا ہے جس کی بنا پر پیش بندی اور امدادی سرگرمیوں کا بندوبست پہلے سے کیا جا سکتا ہے۔ لاہورمیں طوفانی بارش ہوئی لیکن مون سون کے موسم میں لاہور ملک کے کسی علاقے سے دور شمار نہیں کیا جا سکتا ۔ ارباب اختیار کو یاد رکھنا چاہیے کہ لاہور دور نیست۔

متعلقہ خبریں