Daily Mashriq


پاکستان جاگ رہا ہے

پاکستان جاگ رہا ہے

کی سیاست آج کل حیران ہے ۔ ششدر ہے ، انگشت بدانداں ہے ۔ اس نے ہمیشہ سیاست دانوںکے بلند وبانگ دعوے سنے ہیں ، جھوٹ کے انبار دیکھے ہیں ، انتخابات میں نوٹوں کا کاروبار دیکھا ہے ۔ مردہ لوگوں کے ووٹ ڈالتے دیکھے ہیں ، زندہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرکوں او ربسوں میں سوار دیکھا ہے تاکہ وہ چوہدری اور وڈیرہ سائیں کی مرضی سے ووٹ ڈال سکیں۔ انتخابی مہم کے دوران لوگوں کو گرمی اوردھوپ میں بیٹھے دیکھا ہے جبکہ سیاست دان ایئر کنڈیشنڈ کنٹینروں کے اندر سے تقاریر کیا کرتے ہیں ۔ جلسہ گاہوں نے بے مول ووٹر اور بلٹ پروف شیشے کے پیچھے چھپا سیاست دان بھی دیکھا ہے ۔ انتخاب کے دنوں کے کرشمے ایسے نہیں کہ ہمیں ان کے بارے میں اچنبھا محسوس ہو ۔ یہ معمول کی باتیں ہیں اور معمول کی باتوں میں کم ہی کچھ ایسا ہوتا ہے جس پر ابرو چڑھائے جائیں ۔ انتخابات کی تیاریاں ، پورے پاکستان میں جاری ہیں ، ہر شخص مقدور بھرا س کیفیت کا شکار ہے ۔ تجزیے بھی بے شمار سنائی دیتے ہیں ۔ سیاست دان اپنی اپنی کارروائیاں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے نظر آتے ہیں ۔ اور ہم جیسے لوگ حیران ہیں ۔ ایک صاحب نے کل مجھے ایک پیغام لاہور کے حوالے سے بھیجا ، اسے پڑھ کر میں کتنی ہی دیر ہنستی رہی ۔ لکھا تھا ، تیز بارش ہوئی جس کے نتیجے میں پیرس دھل گیا اور نیچے سے لاہور نکل آیا ۔ یہ اور بات ہے کہ اس تیز بارش میں کہیں کہیں ایسا پرانا لاہور بھی نکل آنے کو بیتاب تھا جس کے باعث سڑکوں میں شگاف پڑ گئے اور پرانا لاہور زندہ ہونے کو تیار ہوگیا ، بہر حال یہ باتیں تو بارش کی ہیں اورا س وقت موضوع سخن انتخابات ہیں ۔ ان انتخابات میں کئی باتیں نئی ہونے کی امید تو ہمیں ایک عرصہ سے ہے ۔ کئی پرانے بُرج عدالت عالیہ گرا چکی تھی ۔ انہوں نے اپنی بد عنوانیوں کی جو دُھول اڑا رکھی تھی کئی بار تو ساون کو برستے دیکھ کریوں لگتا ہے کہ بس اسی سب کو دھوڈالنے کے لیے چھاجوں مینہ برس رہا ہے ۔ پھر خیال آتا ہے کہ عدالت کی جانب سے احتساب شاید حضرت عیسیٰ ؑ کے صلیب پر چڑھا ئے جانے کے بعد کی وہ بارش ہے جس میں ہرطرف بیماری اور تکلیف کا خاتمہ ہوگیا تھا ، کوڑھیوں کے کوڑھ دھل گئے تھے اور بیماروں کو شفا مل گئی تھی ۔ بائیبل میں اس بارش کا ذکر موجود ہے ۔ روز اخباروں میں نت نئی خبریں بھی دکھائی دیتی ہیں ۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنی تاحیات نااہلی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی لندن میں پراپرٹی کے حوالے سے جس مقدمے کا سامنا کر رہے تھے اس کا بھی فیصلہ سر پر آن کھڑا ہوا ہے ۔ کئی بڑے پرانے نام نیب کی تحقیقات کی چھلنی میں سے گزررہے ہیں اور بقیہ کوڑا کرکٹ ، منتخبین کے نام پر عمران خان اکھاڑ کر کے لے گئے ہیں ۔

اس سارے منظر میں صرف ایک بات نئی ہے ۔بالکل نئی ، وہ عوام جن کے بارے میں ہمیشہ سے یہ غم وغصہ ظاہر کیا جاتا رہا کہ یہ درست نمائندوں کو نہیں چنتے ، جن کے بارے میں ، میں نے خودکئی بار یہ لکھا کہ لوگوں کے رویوں کودیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی سحر کا شکار ہوں ، معمول بن کر رہ گئے ہوں ، جن کو اس ملک میں ہوتی ہر غلطی کا نقصان بھی تھا اور اس کے ذمہ داربھی وہی تھے کیونکہ اپنے چھوٹے چھوٹے مفاد کے لیے وہ لیٹروں کے ساتھ ملے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں میں ایک واضح تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ یہ لوگ جاگ رہے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیدار ہوگئے ہیں ۔ کئی سیاست دان امیدوار اپنے حلقوں میں گئے ہیں تو انہیں خاصے مشکل سوالات اور رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لوگ نہ صرف سوال کرتے ہیں بلکہ اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔

حال ہی میں بلاول بھٹو کو اپنی سیاسی مہم کے دوران لوگوں کے غصے کو برداشت کرنا پڑا ۔ مسلم لیگ (ن) کے کئی سیاست دان مشکلات بھگت رہے ہیں ۔ وہ اپنے حلقوں میں جاتے ہیں تو لوگ انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ، وہ نہ صرف ان سے گزشتہ سالوں کا حساب مانگتے ہیں بلکہ جلے دل کے پھپولے بھی پھوڑتے ہیں ۔ ان کایہ رد عمل نہ صرف سیاست دانوں کے لیے نیا ہے بلکہ کوفت کا باعث بھی ہے ہمارے سیاست دانوں کو تو حکمرانی کی عادت ہے ۔ ان کے لیے لوگوں کا یوں سحر سے جاگ اٹھنا بھی حیران کن ہے ۔ اور ایسے انکے گریبان تھامنا اس سے بھی زیادہ پریشانی کا باعث ہے ۔ انہیں تو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے ۔ اور وہ یہ سمجھ نہیں سکتے کہ مسئلہ کیا ہے ۔ مسئلہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ پاکستان اب نیند سے جاگ رہا ہے ۔ اور یہ ایسے سیاست دانوں کے لیے مسئلہ ہے ۔

متعلقہ خبریں