Daily Mashriq


یہ اونٹ میرے نہیں

یہ اونٹ میرے نہیں

ہاتھی رکھتا ہے وہ اپنے گھر کے دروازے بھی بڑے رکھتا ہے۔ یہی خیال یا اس سے ملتی جلتی بات اونٹ پالنے والوں یا اونٹ رکھنے والوں کے متعلق بھی کہی جاتی ہے۔ اونٹ رکھنے والے اپنے گھروں کے دروازے اونچے یا لمبے رکھتے ہیں۔ پشاور شہر میں محلہ ساربانان اس زمانے کی یاد تازہ کرتا ہے جب یہاں اونٹ پالنے والے، اونٹوں کی تجارت کرنے والے یا اونٹوں کے ذریعے کاروبار حیات کو چلانے والے اپنے اونٹوں کے ہمراہ رہتے تھے، ان کی دیکھ بھال کرتے تھے یا اپنی روزی روٹی کیلئے ان کا استعمال کرتے تھے۔ پشاور شہر میں ایک سے زیادہ ساربانوں کے محلے موجود تھے اور اب بھی اپنے قدیم یا پرانے ناموں کیساتھ موجود رہ کر زبان حال سے پشاور کے واسیوں کی گزرے وقت کو دہرا دہرا کر یاد کر رہے ہیں۔ ایک محلہ ساربانان تحصیل گور کتھری کے عقب میں چوک گاڑی خانہ کے قریب واقع ہے جبکہ دوسرا محلہ ساربانان مسلم مینا بازار سے منسلک گلیوں میں موجود ہے۔ جہاں ہم اپنے بچپن کے زمانہ میں رسیوں سے بندھے اور دو زانوں بیٹھے، جگالی کرتے اونٹوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں کہا کرتے تھے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ پشاور کے ماضی میں یہاں پائے جانے والے یہ منحنی قد وقامت کے پالتو جانور اب خال خال ہی نظر آتے ہیں، ان کو صحرا کا جہاز یا صحرائی جہاز کہا جاتا ہے، اسلئے ان کا پشاور میں ملنا محال ہو کر رہ گیا ہے، البتہ پاکستان کے صحرائی علاقوں میں اب بھی ان کا راج اور سماج قائم ہے، وہاں یہ بردباری کے کام آتے ہیں، ہم نے انہیں کولہو کے بیل کی طرح دائرے میں گھوم کر کنویں سے پانی نکالتے بھی دیکھا ہے اور لق ودق صحرا کو دوڑکر عبور کرنے کا منظر بھی دیکھا ہے، خطہ عرب کا بیشتر حصہ ریگستان پر مشتمل ہے اسلئے عہد قدیم سے یہ عرب النسل لوگوں کی خدمت پر مامور رہے ہیں، حضو نبی کریمﷺ جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو آپ ایک سفید رنگ کی اونٹنی پر سوار تھے، آپ کے استقبال کیلئے اپنے جان ودل فرش راہ کرنے والے ہر فرد اور ہر قبیلے کے سردار کی خواہش تھی کہ آپ ان کے ہاں مہمان ٹھہریں، لیکن مدینہ منورہ کے قبیلوں کے سرداروں کے فیصلے کے مطابق اس بات کا اختیار آپﷺ کی اونٹنی کو دے دیا گیا کہ وہ جہاں چاہے رک جائے، سو آپﷺ کی اونٹنی اپنی مرضی سے حضرت ایوب انصاری کے مکان کے سامنے جا کر رکی اور وہیں تشریف فرما ہوگئی، صحابی رسول حضرت ایوب انصاری کا مکان جس مقام پر تھا وہیں مسجد نبویﷺ کی تعمیر کی گئی اور وہیں سے آذان بلالی مدینہ منورہ کی فضاؤں میں گونجی اور مسجد نبویﷺ میں نماز پنج گانہ کا آغاز ہوا، حضور نبی کریمﷺ کی ہجرت مدینہ کے اس واقعہ سے آپ اونٹ جیسے جانوروں کی قدر وقیمت اور ان کے تقدس کا اندازہ لگا سکتے ہیں، جب پٹرول یا ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کا رواج نہیں تھا اس زمانے میں اونٹ بردباری اور تجارت کے علاوہ دور دراز کا سفر کرنے کیلئے عام استعمال کیا جاتا تھا اور ہمیں پشاور کے عہد رفتہ کی تصاویر اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ یہاں اونٹوں کے ذریعے تجارت کرنا یا طویل سفر اختیار کرنے کی روش عام تھی، اگرچہ عہد حاضرکے شہر پشاور میں نہ وہ اونٹ رہے نہ ان کا شغل جگالی لیکن جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے کہ ساربانوں یا اونٹوں کے پیشے سے منسلک ساربانان کے محلوں کی موجودگی جنوبی ایشیاء کے صدر دروازے پشاور کی تجارتی گہما گہمی کا پتا دیتی ہے۔ ہمارے اس خیال اور تاریخی حقیقت کو تقویت بخشتی ہے کہ پشاور شہر عہد قدیم سے ایشیاء بھر میں ایک اہم تجارتی منڈی کی حیثیت سے جانا جاتا رہا، شاہراہ ابریشم کے آخری کونے کی وجہ سے اسے چینی تجارت کا بھی مرکز کہا جاتا رہا ہے، جس کا زندہ ثبوت آج کا چوک ابریشم گراں زبان حال سے اپنی شان گم گشتہ کی داستانیں سنا رہاہے، یہاں اونٹوں کے ذریعے قریہ قریہ سے سفر کرکے آنے والوں کے رین بسیروں کیلئے قدم قدم پر سرائے موجود تھیں جہاں دور پار سے آنے والے قافلے ٹھہرتے یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور قصہ گوئی یا قصہ خوانی سے لطف اندوز ہوتے، کچھ اپنی کہتے کچھ ان کی سنتے۔ ہماری یادداشت میں ایسی ایک سرائے پشاور شہر کے بازار کلاں میں مسجد گنج علی خان کے سامنے عہد حاضر کے شاہین بازار کی ابتدائی نکڑ پر موجود تھی اور دوسری سرائے سلیمان کے نام سے مسلم مینا بازار یا قدیم مچھی ہٹہ کے گھنٹہ گھر پشاور والی سائیڈ پر بازار شروع ہونے سے پہلے موجود تھی۔ اب یہ اور اس قبیل کی دیگر سرائے بدلتے حالات کے پیش نظر مارکیٹوں اور پلازوں کا روپ دھار چکی ہیں، عہد رفتہ میں وسیع وعریض رقبوں پر مشتمل ان سرائے خانوں کے دروازے اونٹوں اور ہاتھیوں کے سائز کو مدنظر رکھ کر کشادہ اور اونچے رکھے گئے تھے۔ تحصیل گورکھتری یا گورگھٹری کی تاریخی حیثیت اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اس مقام کو بھی بیتے زمانے کی تاریخ نے ایک سرائے کا نام دیا تھا۔ درہ خیبر عبور کرکے آنے والے تاریخ ساز لشکروں کا پڑاؤ یہیں ہوتا تھا۔ یہیں رکتے تھے، اٹالے بارگاہوں کے جو درہ خیبر کو عبور کرکے اپنا پہلا پڑاؤ پشاور میں کرتے تھے، آج پشاور شہر کے اس ہی بازار کلاں کو ہیری ٹیج ٹریل کا نام دے کر اس کی شان رفتہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مگرکہاں گئے وہ اونٹوں والے جن کو واپس لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔

یہ اونٹ اور کسی کے ہیں دشت میرا ہے

سوار میرے نہیں سارباں نہیں میرا

متعلقہ خبریں