Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ادریس خولانی ؒ فرماتے ہیں : میں دمشق کی جامع مسجد میں داخل ہوا تو کیا دیکھا کہ موتیوں جیسے چمکدار دانتوں والے ایک نوجوان بیٹھے ہیں ۔ بیس ،یا کچھ زیادہ صحابی ان کے پاس بیٹھے ہوئے علمی مذاکرہ کر رہے ہیں اور جب کسی بات میں اختلاف ہو جائے تو وہ لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اوران کی بات پر عمل کرتے ہیں ۔ میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا ۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت معاذبن جبل ؓ ہیں ۔ دوسرے دن میں علیٰ الصبح وہاں جا پہنچا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مجھ سے پہلے وہاں موجود ہیں ۔ میں نے دیکھا ، وہ نماز پڑھ رہے ہیں ۔ میں نے ان کا انتظار کیا ۔یہاں تک کہ جب وہ نماز پڑھ چکے تو میں ان کے پاس آگیا ۔ انہیں سلام کیا اور عرض کیا : بخدا : میں آپ سے اللہ جل شانہ کی خاطر محبت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : بخدا یہی بات ہے ؟ میں نے عرض کیا ، ہاں ایسی ہی بات ہے ۔ انہوں نے تین بار اس بات کو دہرایا اور میں نے بھی تینوں بار یہی جواب دیا ۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑ کر مجھے متوجہ کر کے فرمایا: مبارک ہو ! خوش خبری سن لو ! اس لیے کہ میں نے اللہ کے رسول اللہ ؐ سے سنا ہے ، آپ نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہوگئی ، جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور میری خاطر ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں اور جانیں قربان کرتے ہیں ۔ طبرانی شریف میں یہ الفاظ بھی ہیں : اور وہ جو میری خاطر ایک دوسرے سے دوستی کرتے ہیں ۔ ***

یحییٰ بن یحییٰ ؒ بیان کرتے ہیں کہ ، جب امام مالک ؒ کا مرض الموت طویل ہو ا اور وقت آخر آنے کو ہوا تو مدینہ منورہ اور دوسرے شہروں سے تمام علماء اور فقہاء امام صاحب کے مکان میں جمع ہوگئے ، تاکہ امام وقت کی آخری ملاقات سے فیض یاب اور ان کی وصیتوں سے بہر ہ مند ہوں ۔ یحییٰ بن یحییٰ ؒ کہتے ہیں کہ اس وقت امام مالک ؒ کی عیادت کرنے والے مجھ سمیت ایک سو تیس علماء حاضرتھے ۔ میں بار بار امام مالک ؒ کے پاس جاتا اور سلام عرض کرتا تھا ، کہ امام نے آنکھیں کھولیں اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم کو کبھی ہنسایا اور کبھی رلایا ۔ اس کے حکم سے زندہ رہے اس کے حکم سے جان دیتے ہیں ۔ اس کے بعد خود ہی فرمایا : موت آگئی اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے ۔ حاضرین نے عرض کیا : اس وقت آپ کے باطن کا کیا حال ہے ؟ فرمایا: میں اس وقت اولیاء اللہ کی مجلس کی وجہ سے بہت خوش ہوں ، کیونکہ میں اہل علم کو اولیاء اللہ گردانتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت انبیاکے بعد علماء سے زیادہ کوئی شخص پسند نہیں ہے ۔ نیز میں اس لیے بھی خوش ہوں کہ میری تمام زندگی علم کے تحصیل اور اس کی تعلیم میں گزری ہے اور میں اس سلسلہ میں اپنی تمام مساعی کو مستجاب اور مشکور گما ن کرتا ہوں ۔ اس لیے کہ تمام فرائض اور سنن اور ان کے ثواب کی تفصیلات ہم کو زبان رسالت ؐ سے معلوم ہوئی ۔

متعلقہ خبریں