Daily Mashriq

کارروائی روایتی نہیں ہونی چاہئے

کارروائی روایتی نہیں ہونی چاہئے

وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی بے نامی اثاثہ جات ظاہر کرنے کی ایمنسٹی اسکیم کی مدت پوری ہوتے ہی ملک بھر میں بے نامی جائیدادوں کو ضبط کرنے کیلئے کریک ڈاؤن کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس کی ابتداء حزب اختلاف کے سیاستدانوں سے کرنے کی بجائے اگر حکومتی جماعت یا پھر دیگر افراد سے کیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ جاری ماحول اور علاوہ ازیں بھی ہر مثبت اقدام کو بھی شک کی عینک اور سیاسی تعصب کی نظر سے دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے اور یہ عادت بلاوجہ نہیں پڑی اس کی کئی ایک وجوہات اور عوامل ماضی سے لیکر حال تک یکساں اور باربار دہرائے گئے ہیں۔ ان مصلحتوں کے باعث کارروائی احتیاط سے ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اب ملک میں کوئی بے نامی دار نہیں رہے گا۔ لیگ کے سینیٹر چوہدری تنویر کی 6 ہزار کنال بے نامی اراضی واگزار کرالی، کراچی میں آصف زرداری کی بے نامی جائیدادوں کو منجمد کیا تھا۔ وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ اس بار بھی ویسا ہی ہوگا جیسا پہلے ہوتا آیا ہے لیکن اب کارروائی کا وقت شروع ہوگیا۔ چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کا کہنا ہے کہ اثاثہ جات اسکیم سے ایک لاکھ دس ہزار افراد فائدہ اُٹھا چکے، مزید25 ہزار پائپ لائن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم سے فائدہ اُٹھانے والوں کی تعداد ایک لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ ہو جائے گی۔ دوسری طرف ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اثاثہ جات اسکیم سے70 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہو چکا ہے، پچھلے سال اسکیم سے84 ہزار افراد نے استفادہ کیا تھا۔ گزشتہ سال اسی اسکیم کے تحت124 ارب50 کروڑ روپے کا ریونیو جمع ہوا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے چالیس ہزار روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی رجسٹریشن اور بند کرنے کا جو قدم اُٹھایا تھا وہ ایک سنجیدہ قدم ثابت ہو رہا ہے اور اس اقدام کے مقاصد حاصل ہونا یقینی امر نظر آتا ہے۔ بے نامی دار اکاؤنٹس تک رسائی اور تحقیقات کے ضمن میں حکومت اور بینکنگ کے شعبے کے اقدامات کے باعث حقیقی اور بے نامی دار اکاؤنٹس کی تفریق ہوگئی ہوگی لیکن شاید رازداری کے قانون کے باعث یا مصلحتاً اس کے اثرات ونتائج سامنے نہیں لائے گئے۔ بے نامی جائیدادوں کے مالکان کو نوٹسز کا اجراء چونکہ پہلا مرحلہ ہے لیکن اصل کامیابی ان کو باقاعدہ قانونی اور عدالتی کارروائی کے بعد ضبط کرکے نیلامی کے ذریعے رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوگی جو یقینا مشکل اور صبرآزما معاملہ ہے۔ جن کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں ان کی تعداد معدودے چند افراد کی ہونے کیساتھ ساتھ ان کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان میں سے بعض اہم شخصیات نیب میں مقدمات بھگت رہے ہیں اور معاملہ عدالتوں میں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بے نامی جائیدادوں کے اصل مالکان اور فرضی ناموں سے کھولے گئے اکاؤنٹس میں بھاری رقوم کے حامل افراد کی فہرست کی حکومت کے پاس موجودگی کا جو دعویٰ کیا تھا وہ لسٹ یا پھر کم ازکم اس فہرست کا کچھ حصہ سامنے لایا جائے اور ان کیخلاف عملی کارروائی شروع ہونی چاہئے تاکہ اس اقدام کے حوالے سے شکوک وشبہات اور اس مہم کے مستقبل کو بھی ماضی کی اس طرح کی مساعی کیساتھ جوڑنے کی نوبت نہ آئے۔ ہمیں بجاطور پر توقع ہے کہ موجودہ اقدامات ماضی کی کارروائیوں سے مختلف ہوں گے اور ہر گزرتے دن کیساتھ مالیاتی جرائم میں ملوث عناصر کا احتساب اور ان کے غیرقانونی طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی ضبطگی اور رقوم کو منجمد کرنے کی کارروائیاں یقینی بناکر عوام کو حوصلہ افزاء پیغام دیا جائے گا کہ ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے اور ٹیکس ادا نہ کرنے والے عناصر سے وصولی کے ذریعے قومی خزانے میں رقوم جمع ہوں گی، ایف بی آر کا محصولات کی وصولی کا ہدف پورا ہوگا اور قوم پر غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ عوام ہر بار اس قسم کی مہم میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں اور امیدیں وابستہ کرتے آئے ہیں۔ عوام نے قرض اتارو ملک سنوارو کی مہم کو بھی سنجیدگی سے لیا تھا، ڈیم بنانے کی مہم میں بھی مثبت حصہ ڈالا تھا مگر حکمرانوں کے اقدامات سے ان کو مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ عوام کو اس حکومتی اقدام میں بھی پوری دلچسپی ہے اور امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام بجاطور پر توقع کر رہے ہیں کہ اس مہم کو بتدریج اس سطح پر لایا جائے گا کہ آمدنی سے عدم مطابقت کے حامل اور آمدنی وٹیکس ادائیگی کی شرح کے برعکس طرززندگی اور سہولیات کیساتھ رہنے والے شہریوں سے آمدنی اور ذریعہ آمدن کا ضرور سوال ہوگا اور بدعنوانی وغیرقانونی طور پر پیسہ بنانے والے افراد سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ جب تک تسلسل کیساتھ اور اس سطح تک کارروائی نہیں ہوتی اور ملکی خزانے میں خطیر رقم جمع ہونا شروع نہ ہو، معاملات وضابطگی کی انتظامی اور عدالتی کارروائیوں کی تکمیل کے ذریعے اس سکیم کو کامیاب ثابت نہیں کیا جاتا اس وقت تک اسے پوری طرح تسلیم کئے جانے کا سوال جواب طلب ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں