Daily Mashriq

حفاظتی اقدامات کے بغیر کشتی رانی پر پابندی لگائی جائے

حفاظتی اقدامات کے بغیر کشتی رانی پر پابندی لگائی جائے

شانگلہ کی یونین کونسل کماچ نصرت خیل تورخر سے ہری پور آنے والی مسافروں سے بھری کشتی کے حادثے کی وجوہات گنجائش سے زیادہ افراد اور مال مویشی لادنے یا پتھر سے ٹکرانے کی وجہ سے مویشیوں کے خوف کے مارے ایک طرف ہونے کے باعث ہو یہ ایک افسوسناک ترین واقعہ ہے۔ عوام کی سہولت اور دشوار علاقوں تک دریا کے راستے رسائی کے اس ذریعہ یعنی کشتی کے حادثے کے باوجود اس ذریعہ سفر کا ترک کرنا یا اس پر پابندی تو ممکن نہیں لیکن مسافروں کی جان ومال کے تحفظ کیلئے حفاظتی اقدامات اور اصول وضع کرنے میں اب لمحہ بھر کی تاخیر کی گنجائش نہیں۔ گنجائش سے زیادہ سواریاں بٹھانا سڑک کے حادثات کی بھی بڑی وجہ رہی ہے۔ کشتی کے اس افسوسناک حادثے کی بنیادی وجہ بھی کشتی کا بہت زیادہ بھاری ہونے کے باعث توازن کھو دینا اور ممکنہ خرابی پیدا ہونا ہی نظر آتا ہے، بہرحال اصل وجہ سامنے آنا باقی ہے۔ کشتی کے کسی چٹان اور بھاری پتھر سے ٹکرانا ناممکن تو نہیں لیکن ملاحوں کو راستوں کا بخوبی علم ہوتا ہے اور وہ مقررہ راستوں ہی پر سفر کرتے ہیں، ایسے میں کسی چٹان سے ٹکرانے کا امکان کم ہی ہوسکتا ہے۔ بہرحال ایک افسوسناک واقعے کے نتیجے میں اڑتیس افراد ڈوب گئے، حادثے میں بچ جانے والے افراد غالباً مشاق تیراک ہی ہوں گے اس قسم کے حادثے میں امدادی ٹیموں کا موقع پر پہنچنا اور امدادی کام شروع کرنے میں بہت زیادہ وقت صرف ہونا فطری امر ہے۔ اس طرح کے حادثات کی روک تھام کیلئے کشتی کی گنجائش وسعت کے جائزے کے بعد ملاحوں کو اتنے ہی افراد بٹھانے اور بوجھ ڈالنے کا پابند بنانے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ساتھ ہر کشتی میں حفاظتی جیکٹس کی نہ صرف موجودگی بلکہ حفاظتی جیکٹ پہنے بغیر کشتی میں سواروں کو ممنوع قرار دیا جائے تاکہ خدانخواستہ کسی ممکنہ حادثے کے نتیجے میں فوری ڈوبنے کا امکان کم سے کم ہو۔ اس واقعے کی تحقیقات اور حادثے کی وجوہات کے تعین کے بعد آئندہ کیلئے حفاظتی اقدامات کیلئے باقاعدہ قاعدے اور ضابطے وضع کئے جائیں اور ان امور کی نگرانی کی جائے، خلاف ورزی کے مرتکب ملاحوں کو سزا دی جائے اور جرمانہ کیا جائے۔

بار بار کریک ڈاؤن کیوں؟

کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت دیگر رہنماؤں کیخلاف دہشتگردوں کی مالی معاونت کے مقدمات کا اندراج اور محکمہ انسدادِ دہشتگردی پنجاب نے دہشتگردی میں ملوث کالعدم تنظیموں کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کی کارروائی پہلی مرتبہ نہیں کی بلکہ ہر دور میں بوقت ضرورت یہ تکلف ہوتا رہا ہے۔ یہ کارروائی پہلی مرتبہ ہوتی تو اسے سنجیدہ قدم قرار دیا جاسکتا تھا۔ ہر بار کے اس طرح کے اقدامات اور پھر خاموشی اور اچانک اس طرح کی کارروائی پھر دہرانے سے خود حکومتی اقدامات مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ ان تنظیموں کی سرگرمیاں جاری تھیں باربار کی کارروائیاں ازخود اس امر کا اعتراف ہیں کہ حکومتی اقدامات سنجیدہ نہیں تھے اور اگر ایسا نہیں تو پھر اس قسم کی کارروائیوں کے اعادے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے اور دنیا ہمارے اقدامات سے مطمئن کیوں نہیں ہوتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے اور یکبارگی کارروائی کے بعد مزید امکانات کو سرے سے معدوم بنانے کو یقینی بنایا جائے۔ ایک ہی اقدام بار بار اٹھا کر خواہ مخواہ جگ ہنسائی کا پھر موقع نہ آنے دیا جائے، جو لوگ قانون کا احترام کرنے اور معمول کی زندگی گزارنے پر آمادہ ہوں ان کو اس کا پورا پورا موقع دیا جائے اور حکومت ان کی اعانت کرے جو لوگ قانون کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں انہیں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

ضروری تفصیلات کی حفاظت کا انتظام

پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بیرون ممالک سفر کرنے والوں کی تفصیلات اکٹھی کرنے مسافروںکو کسٹم ڈیکلریشن فارم کی فراہمی اور ضروری تفصیلات کا ڈیٹا مرتب کرنے کا اقدام مختلف امور ومعاملات کی نگرانی کیلئے موثر اقدام ضرور ثابت ہوگا لیکن اس سرگرمی کے دوران موبائل فون رجسٹرڈ کرنے والے مسافروں کے ڈیٹا کے افشا ہونے جیسے امکان کو قطعی طور پر ختم کرنے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہوگی۔ ملکی مفاد میں اس طرح کے اقدامات کی افادیت سے انکار ممکن نہیں اس کی حساسیت اور مکمل رازداری کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جاسکا تو خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں خاص طور پر اس سے باہر جانے والے مسافروں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ متعلقہ حکام حساس معلومات کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کی ذمہ داری پوری کریں گے اور مسافروں کی شناخت اور ان کے ذاتی معلومات صیغہ راز میں رہیں گی۔

متعلقہ خبریں