Daily Mashriq

نہیں جناب! یہ فاشزم نہیں ہے

نہیں جناب! یہ فاشزم نہیں ہے

ایک دوست کالم نگار نے حکومت کے کارپردازان کے مزاج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سوال اُٹھایا ہے کہ کیا پاکستان کو ایک فاشسٹ ریاست بنانا جا رہا ہے۔ انہوں نے اگرچہ کھل کر بات نہیں کی مگر دبے لفظوں میں اور اشاروں کنایوں میں جو کہا ہے اُس سے اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت ان کی نگاہ میں فاشزم کی راہ پر ہے۔ آج نہیں تو کل یہ سوال بہرحال سامنے آنا تھا کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت احتسابی عمل کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے چنانچہ جن لوگوں کو یہاں نمائشی احتساب کی عادت پڑی ہوئی تھی انہیں کڑے احتساب کا عمل فاشزم کی صورت ہی دکھائی دیگا۔ اس میں کوئی شک نہیں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کے سینوں میں ایک خواہش برسوں سے پنپ رہی ہے کہ یہاں کوئی اتاترک اور خمینی آجائے جو اصلاح احوال کیلئے چار پانچ افراد کو تہہ وتیغ کردے۔ عوام کا ایک بڑا حصہ جو مملکت خداداد پاکستان میں برسوں سے محروم ومحکوم ہے یہ سمجھتا ہے کہ وطن عزیز کے مسائل کبھی حل نہیںہو سکتے جب تک کہ مملکت کے وسائل اور سیاست پر قابض مخصوص گروہ کی اجارہ داری ختم نہیںکی جاتی، یہ سوچ قطعی طور پر غلط نہیں ہے۔ قیام پاکستان کا مقصد اجارہ داریوںکا خاتمہ نہ ہوتا تو حضرت قائداعظم تحریک پاکستان کے ہنگام استحصالی طبقے کو مخاطب کر کے یہ نہ کہتے کہ قیام پاکستان کا مقصد اگر آپ لوگوں کے نزدیک یہ ہے کہ آپ غریب عوام کا استحصال کر سکیں تو میں مطالبہ پاکستان سے باز آتا ہوں۔ پاکستان بن گیا تو بتدریج یہاں ایک مراعات یافتہ طبقہ وجود میں آتا گیا۔ سیاستدانوں‘ کاروباری افراد‘ بیوروکریسی‘ جیوڈیشری اور جاگیرداروں پر مشتمل اس مراعات یافتہ طبقے نے ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دینے کو اپنی بقا کیلئے ضروری خیال کیا۔ یوں ایک طرف یہ طبقہ تھا جس کے ہاتھ میں اختیارات اور وسائل تھے اور دوسری طرف باقی ماندہ عوام تھے جو ہر گزرتے دن کیساتھ مغلوب اور مجبور ہوتے تھے۔ مراعات یافتہ طبقہ سیاسی اعتبار سے منقسم ہوا بھی تو محض اس حد تک کہ اپنے اقتدار کو محفوظ بنانے کیلئے مخالف کو بعض حدود میں مقید کیا جائے۔ مخالف کو اپنی حدود میں رکھنے کیلئے پاکستان میں نام نہاد احتساب کا ڈھول پیٹا گیا اور تماشہ لگا کر اسے راتوں رات ختم کر دیا گیا۔ ہر فوجی احتساب کا اختتام کنگز پارٹی کی صورت میں برآمد ہوا جبکہ ایک دوسرے کو چور کہنے والے سیاستدانوں نے اپنے شروع کردہ نام نہاد احتساب کو ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ کے دیوتا کے قدموں تلے روند ڈالا۔ اُس وقت عوام انگشت بدنداں رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑ کر قومی دولت بازیاب کرنے کا دعویٰ کرنے والے باہوں میں باہیں ڈالے ایک دوجے کی مالاجپنے میں مصروف ہیں۔ اب ایک طرف تو یہ جمہوریت کا ماڈل ہے جو ایک دوسرے کو لوٹ مار کی یکساں سہولت دیتا ہے جبکہ دوسری طرف عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت اس سوچ کو لیکر چل رہی ہے جو وطن عزیز کے محروم‘ محکوم اور مغلوب طبقے کی سوچ ہے کہ جب تک ملکی وسائل اور اختیارات پر قابض گروہ کو قانون کے نیچے لیکر نہیں آیا جائے گا پاکستان میں مساوات پر مبنی خوشحال معاشرے کا قیام ممکن نہیںہوگا۔ پاکستان کی بقاء‘ سلامتی اور ترقی کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ مجرم ذہنیت کے لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے خواہ ان کا تعلق اشرافیہ کے کسی بھی طبقے سے ہو۔ اس ضمن میں روا رکھی جانے والی کوئی رورعایت ہمارے ہاتھوں سے اس موقع کو ضائع کر دے جو قدرت نے آج ہمیں عطا کیا ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ احتساب کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا گیا لیکن آج پاکستان کی عدلیہ‘ فوجی قیادت اس ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہیں کہ پاکستان میں لوٹ مار کے کلچر کو فروغ دینے والوںکو کسی صورت معاف نہیں کرنا ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ احتساب عدالتوں میں برسوں چلنے والے مقدمات کا انجام کیا ہوا‘ آج اعلیٰ عدالتیں ماضی کی طرح ریلیف نہیں دے رہیں اور نہ فوجی قیادت کی طرف سے مفاہمت کا دباؤ ہے۔ فاشزم پارلیمانی جمہوریت کو جس طرح بلڈوز کرتا ہے اس کا عملی مظاہرہ حکومت کے دس ماہ میںکہاں دیکھنے میں آیا؟ مسئولین نے پارلیمان میں اکثریتی جماعت کو دوتہائی اکثریت دلوانے کیلئے ایک قانون منظور کیا تھا‘ کیا پاکستان میں اب تک ایسی کوئی کوشش دیکھنے کو ملی ہے؟ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد جس تواتر سے وفاقی کابینہ کے اجلاس منعقد کئے‘ کیا ماضی میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔ نام نہاد جمہوریت تو اُس دور میں تھی جب ہر حکم کا محور محض وزیراعظم کی ذات تھی عدالت عظمیٰ کو آئین کی تشریح کرنا پڑی کہ وفاقی حکومت کا مطلب وزیراعظم نہیں ہوتا بلکہ وفاقی کابینہ ہوتی ہے۔ کیا وہ فاشزم نہیں تھا؟ پارلیمان کو اہمیت نہ دینا اور شخصی فیصلے کرنا کیا نواز شریف عہد کی خرابیاں نہ تھیں؟ اس تناظر میں سابق وزیراعظم کو فاشسٹ کیوں نہیں کہا جاتا؟ فاشزم کے دلائل کا سارا زور فقط طاقت کے استعمال پر ہے‘ مخالفین کرپٹ اور چور ہوں تب بھی ان پر کیا ریاستی طاقت کا استعمال جمہوری حکومت کو نہیںکرنا چاہئے کیونکہ اس سے اس پر فاشسٹ حکومت کا لیبل لگ سکتا ہے؟ یہ کیسی عجیب منطق ہے، کیا پاکستان کو ان خطوط پر چلانا چاہئے جن پر محترم آصف زرداری اور نواز شریف اس کو چلاتے رہے ہیں؟ کیا اہل سیاست کا اس طرح کا گٹھ جوڑ ایک دوسرے کی لوٹ مار اور جرائم کو تحفظ دینے کے علاوہ کوئی اور قومی خدمت سرانجام دے سکتا ہے؟ کیا اس اجتماعی شر سے کوئی خیر برآمد ہو سکتی ہے؟

متعلقہ خبریں