Daily Mashriq

عمران خان اور ایک گرد آلود فائل کا آسیب

عمران خان اور ایک گرد آلود فائل کا آسیب

وزیراعظم عمران خان کا دورۂ امریکہ ترتیب کے مراحل میں ہے اور گمان غالب ہے کہ امریکہ میں ان کو کشمیر کے حوالے سے ڈومور کے تقاضے کیساتھ ایک پرانی اور گردآلود فائل تھمائی جائے گی۔ یہ فائل ہے یا آسیب جو اچھے بھلے پاکستانی حکمرانوں کو کھا جاتی رہی ہے۔ یہ وہی فائل ہے جو ماضی میں میاں نوازشریف کو تھمائی گئی تھی اور وہ اس فائل کو تھام کر طاقت کی راہوں پر کشاں کشاں چلتے جانے کہاں سے کہاں نکل گئے تھے۔ پھر ان کے دوست اور مربی انہیں دھونڈتے ہی رہے مگر وہ بہت دور جا چکے تھے۔ نوازشریف طاقت کے مدار سے نکل گئے تو یہی فائل جنرل پرویز مشرف کے آگے سجا دی گئی۔ مشرف بھی اول اول کسمسائے لجائے شرمائے کیونکہ ان کے خیال میں یہ نوازشریف کا راستہ اور پیروی تھی اور اس وقت وہ نوازشریف سے الرجک تھے مگر پھر ایک روز انہوں نے فائل بغل میں داب لی۔ بس فائل کیساتھ جڑی نحوستوں نے انہیں تنگ کرنا شروع کیا۔ یہ امریکہ کی کشمیر فائل کا ذکر ہو رہا ہے جو لازمی طور پر دورۂ امریکہ کے دوران عمران خان کو بھی پیش کردی جائے گی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں تو بات اس حد تک آگے بڑھ گئی تھی کہ بقول خورشید محمود قصوری پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر سمجھوتے میں تین ماہ باقی رہ گئے تھے کہ منظر بدل گیا۔ امریکہ کی سرپرستی میں کشمیر پر جس سمجھوتے کی کوشش جاری تھیں وہ کیمپ ڈیوڈ طرز کا ہے، جس میں بنیادی فریق فلسطینی عوام کو نظرانداز کر کے مصر اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کرانے کی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر معاہدہ کرایا جانا ہے۔ جب پاکستان اس مسئلے سے مصر کی طرح الگ ہوگا تو پھر کہیں آگے جاکر دہلی اور سری نگر سمجھوتہ یعنی اوسلو طرز کے معاہدے تک بات پہنچے گی اور اوسلو معاہدے کے ڈھائی عشرے بعد فلسطینی لیڈر بیانات دے رہے ہیں کہ ان کیساتھ اوسلو سمجھوتے کے نام پر ہاتھ ہوگیا ہے۔ پاکستان کا اصولی مؤقف یہ رہا ہے کہ کشمیری اس مسئلے کے پہلے اور بنیادی فریق ہیں۔ پاکستان اور بھارت اپنے طور پر کشمیریوں کو نظرانداز کرکے اول تو کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے اور اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا بھی ہے تو کشمیریوں کے مسترد کئے جانے کی صورت میں یہ معاہدہ غیرمؤثر ہوگا۔ شملہ معاہدہ اسی انجام سے دوچار ہو چکا ہے۔ کشمیر میں ایک مزاحمت اُبھرنے تک شملہ معاہدے کا چرچا رہا مگر جب اصل فریق میدان میں نکل آیا تو اس کے بعد یہ معاہدہ وقت کے دھندلکوں میں گم ہو کر رہ گیا۔ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم کا ایک چونکا دینے والا مضمون ’’پاکستان اور امریکہ چین سرد جنگ ‘‘ کے عنوان سے ایک انگریزی اخبار میں شائع ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چونکہ ایشیا اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں اپنا سارا زور بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک بالادست طاقت بنانے کے پلڑے میں ڈال چکا ہے اسلئے امریکہ نے کشمیریوں کی جائز اور قانونی تحریک کو اسلامی دہشتگردی کے تناظر میں دیکھنا اور جوڑنا شروع کر دیا ہے، امریکہ ا س تحریک اور کشمیریوں کی خواہشات اور عشروں پر محیط ان کی جدوجہد کو ایک محدود کینوس میں دیکھنے کا عادی ہو گیا ہے۔ اسلئے امریکہ مسئلہ کشمیر کا جو حل بنا کر پیش کریگا اس کی بنیاد امریکہ کا یہی بدلا ہوا تصور کشمیر اور تصور تحریک ہوگا۔ اسلئے عمران خان کو کشمیر پر ڈومور کی تھمائی جانے والی فائل وہی ہوگی جو نوازشریف اور جنرل مشرف کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی اب اگلے ہاتھوں میں منتقل ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے دورے میں ابھی بہت دن باقی ہیں کہ دفتر خارجہ کے ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر یکطرفہ سمجھوتہ نہیں کرے گا بلکہ کشمیریوں کی مرضی کو مقدم رکھا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت آئے مسئلہ کشمیر کو سائیڈ لائن نہیں کرسکتی۔ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جزو ہے اور کوئی بھی اسے الگ نہیں کر سکتا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں طاقت کے کئی مراکز کی بات کی جاتی ہے دفترخارجہ کے اشارے اور عندئیے ہی پاکستان کی اصل اور حقیقی سوچ اور پالیسی کے عکاس سمجھے جاتے ہیں۔ اسلئے عین ممکن ہے کہ کشمیر پر پرانی فائل عمران خان کو بھی پیش کی جائے مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ عمران خان یا تو شکرئیے کیساتھ فائل لوٹا دیں گے یا اسے لیکر طاق نسیاں میں سجا دیں گے۔ امریکہ نے جنوبی ایشیا میں پوری طرح بھارت کی لائن اپناکر اپنے غیرجانبدار کردار کو شدید زک پہنچائی ہے۔ جب وہ سات عشرے سے زیادہ عرصے پر محیط جدوجہد کو ’’اسلامک ٹیررازم‘‘ جیسی تنگ اور سطحی عینک سے دیکھے گا تو پھر اس کی طرف سے جو حل پیش کیا جائیگا اس میں آزاد اور غیرجانبدار ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ میرواعظ عمر فاروق نے اپنی ماضی کی روایت کے عین مطابق بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کیا کردی کہ بھارت کے حکمران اس میں اپنی ذہنیت کے عین مطابق حالات اورکشمیریوں کے مزاجوں کی تبدیلی، مودی کی سخت گیر پالیسی کے کمالات تلاش کرنے لگے ہیں۔ بھارت کے وزیرداخلہ امیت شاہ کو کشمیر میں ایک بدلی ہوئی فضا نظر آرہی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایسی پالیسی اپنائیں گے کہ کشمیری خود بھارت کو گلے لگائیں گے۔ بھارت طاقت کے ذریعے کشمیرکو شہرخموشاں میں بدل رہا ہے۔ جس دن بھارت نے کشمیر کی خصوصی شناخت کیساتھ چھیڑچھاڑ کی تو یہ سارا منظر بدل کر رہ جائے گا۔ بھارت نے کشمیر میں امن کے کئی مواقع انہی خوش فہمیوں اور عارضی منظروں کے باعث ضائع کئے ہیں۔ اب بھی اس بات کا امکان کم ہی دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت اس موقع سے فائدہ اُٹھائے گا۔

متعلقہ خبریں