Daily Mashriq

لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے ای رانجھا ہوئی۔ اپنے جلسوں‘ بیانات اور پریس کانفرنسوں یہاں تک کہ ٹی وی ٹاک شوز میں پنجاب میں میٹرو بس کیخلاف بولتے اور اسے کرپشن کی غلاظت سے لتھڑا ہوا منصوبہ قرار دینے کے بیانئے کو خدا جانے کس بزرجمہر کے ’’نیک‘‘ مشورے پر سائیڈ لائن پر رکھنے بلکہ اس پر (تب) غیراعلانیہ ’’یوٹرن‘‘ لیتے ہوئے بلاسوچے سمجھے پشاور پر میٹرو بس کا عذاب نازل کرنے کی سوجھی، جس کے بعد گزشتہ تین برس سے یہ بدنصیب شہر (منزہ عن الکرپشن) منصوبے کی زد پر ہے اور اب تو اس کیلئے حتمی تاریخ کے اعلان سے گریز کی پالیسی اختیار کرلی گئی ہے کہ ہر دوچار ہفتے بعد کسی نہ کسی سیکشن پر کسی نہ کسی کمزوری‘ خرابی‘ نقص یا پھر بعض مقامات پر ہیرونچیوں کی دستبرد کی وجہ سے اس کے جنگلوں کے غائب ہونے کی خبروں کی وجہ سے منصوبے کی تکمیل پر سوال اُٹھ جاتے ہیں۔ ہم نے اس منصوبے کو منزہ عن الکرپشن تو ضرور قرار دیا ہے کہ ہمیں وہ لطیفہ یاد آیا ہے جب ایک مریض ڈاکٹر کے پاس جا کر معائنہ کروانے کے بعد دوائی تجویز کرواتا ہے اور بازار سے دوا لا کر گھر میں رکھ دیتا ہے‘ یعنی استعمال نہیں کرتا۔ کسی کے پوچھنے پر صورتحال کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ ڈاکٹر کو فیس دینا اس لئے ضروری تھا کہ اس نے زندہ رہنا ہوتا ہے‘ اسی طرح کیمسٹ سے دوائی خریدنا بھی لازمی تھا کہ اس بے چارے نے بھی آخر زندہ رہنا ہوتا ہے‘ کمائی نہیں کرے گا تو بھوک سے مر جائے گا اور میں دوائی اسلئے نہیں کھاتا کہ ابھی مجھے بھی مرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ امید ہے منصوبے کو منزہ عن الکرپشن قرار دینے کی ہماری حکمت عملی سے آپ اتفاق کریں گے۔ البتہ محولہ منصوبے کو ہم نے منزہ عن الخطاء قرار نہیں دیا کہ جو مسائل‘ کمزوریاں‘ خرابیاں‘ نقائص اس میں وقتاً فوقتاً نکل کر سامنے آرہے ہیں ان کی بناء پر اس کو منزہ عن الخطاء کیسے اور کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے۔ شکیل جاذب نے کیا خوب کہا ہے

تم سے کیا شہر کے حالات کی تفصیل کہوں

مختصر تم کو بتاتا ہوں میاں خیر نہیں

کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ہمارا تعلق بھی اس گروہ کیساتھ ہے جو عمل پہلے کرتا ہے اور سوچتا بعد میں ہے۔ مثلاً اگر بی آر ٹی کی منصوبہ بندی کرنے والے اس منصوبے پر اربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے پرانے دور کے ڈبل ڈیکر بسوں اور میٹرو بسوں کو پہلے ہی سے موجود سڑکوں کو مزید کشادہ کرکے چلانے کی منصوبہ بندی کر لیتے تو اس سے کہیں کم اخراجات ہوتے اور ٹریفک کے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی۔ ہماری اور ہمارے بعد کی نسل کے لوگوں کو جی ٹی ایس یعنی گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کا وہ سنہرا دور یقینا یاد ہوگا جب اندرون شہر ہشتنگری میں جی ٹی ایس کے اڈے (موجودہ مولوی جی ہسپتال) سے پورے صوبے کے علاوہ لاہور تک لگژری بسیں‘ کابل کیلئے اعلیٰ ترین لگژری بس سروس کیساتھ ساتھ شہر اور یونیورسٹی تک عام بسوں کے علاوہ ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں مگر خدا جانے کس کی حریص نظریں اس عظیم ادارے کو کھا گئی کہ اس دور میں بھی بعض سیاسی مگر حریص لوگوں کی نہ صرف اس ادارے کی صوبے کے مختلف شہروں میں موجود مرکزی مقامات پر اڈوں کی صورت قیمتی جائیدادوں اور لاتعداد بسوں کو اونے پونے تقسیم کرکے کرپشن کے نئے سنگ میل عبور کرنے کی فتورزدہ نیتوں کی وجہ سے اور کچھ ادارے کے اندر بھی بعض کرپٹ عناصر کی ملی بھگت سے ادارے کو نیست ونابود کر دیا گیا تھا اس لئے اگر بی آر ٹی کی جگہ جی ٹی ایس ہی کی طرز پر شہر کے مخصوص روٹ پر آنے والی جائیدادوں کو جس طرح بی آر ٹی کیلئے ہٹاکر سڑکوں کو کشادہ کیا گیا اس پر تو اسی طرح عمل کیا جاتا البتہ یہ جو مختلف جگہوں پر انڈر ویز اور فلائی اوورز بنانے پر کثیر رقم خرچ کردی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہوئے صرف سڑکوں کی کشادگی پر اخراجات کر دئیے جاتے تو نہ اتنی رقم ضائع ہوتی نہ شہر پر گزشتہ تین سال سے نازل ہونے والے عذاب سے عوام زچ ہوکر فریاد کناں ہوتے‘ نہ اتنی مدت لگتی بلکہ اب تک یہ منصوبہ کب کا چالو ہوچکا ہوتا۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ جس طرح اب پرائیویٹ اور کھٹارہ بسوں کو یا تو معاوضے دیکر ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے یا پھر اچھی حالت والی بسوں کو متبادل روٹس پر ڈال دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہی کیا جاتا‘ یوں نہ صرف میٹرو بسوں اور ڈبل ڈیکر میٹروز کیلئے مخصوص روٹ پر آسانیاں فراہم ہوتیں اور عوام کیلئے بہترین ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا لیکن کیا کیا جائے کہ ہم میں بلاسوچے سمجھے تقلید کرنے اور پھر غلط فیصلے کرکے ان پر اڑ جانے کی جو خاصیت ہے اس سے رجوع کرنے کی اخلاقی جرأت کا فقدان ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے حالانکہ اپنی غلطی پر نادم ہونے سے انسان کی عزت وتوقیر میں اضافہ ہوتا ہے اس سے کوئی سبکی نہیں ہوتی۔

سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا

لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

متعلقہ خبریں