Daily Mashriq

ہم سب مجبور ہیں؟

ہم سب مجبور ہیں؟

کل شیرفروش دودھ دینے آیا تو بڑے دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگا جناب بڑی مجبوری کی حالت میں دودھ کی قیمت میں دس روپے فی کلو کے حساب سے اضافہ کرنے پر مجبور ہوں، کیا کروں ہر چیز مہنگی ہے میرے پاس دو راستے تھے ایک یہ کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے میں پرانی قیمت پر دودھ بیچتا رہوں اور دودھ میں پانی کی مقدار زیادہ کردوں، دوسرا راستہ یہ تھا کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کروں قیمت میں اضافہ کردوں اور گاہک کو معیاری دودھ مہیا کرتا رہوں، میں نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ہے؟ ہم نے شیر فروش کے نیک جذبات کو سراہتے ہوئے کہا تم ایک اچھے انسان ہو جو اس طرح سوچتے ہو! اگر سب تمہاری طرح سوچنے لگیں تو ہمارا معاشرہ اب بھی اطمینان کی دولت سے مالامال ہوسکتا ہے، تلاش رزق میں نانبائی کی دکان پر گئے تو وہ فریاد کے لہجے میں کہہ رہا تھا جناب سوئی گیس کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، پہلے بیس ہزار روپے تک بل آتا تھا اب بات تیس چالیس ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، لگتا ہے دس روپے والی روٹی بیس روپے کی ہوجائے گی! پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگا جناب ہم کیا کریں مجبور ہیں جب آٹا مہنگا ہوگا، گیس مہنگی ہوگی تو روٹی نے بھی مہنگا ہونا ہے، ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہم نے اسے کہا ہم سب مجبور ہیں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے، اب اسے واپس بوتل میں بند کرنا بہت مشکل ہے۔ زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے، سرکاری ملازم کہتا ہے کہ جس تیزرفتاری سے ہماری کرنسی کی قدر کم ہوئی ہے اور مہنگائی بڑھی ہے اس تناسب سے ہماری تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تاجر کیلئے اگر مہنگائی بڑھ گئی ہے تو وہ سارا بوجھ خریدار پر ڈال دیتا ہے لیکن ہم کیا کریں؟ ہماری تنخواہ بھی شوگر کے مریض کی طرح کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جارہی ہے! گیس مہنگی، بجلی مہنگی، روٹی مہنگی، تعلیم مہنگی، ادویات مہنگی! مہنگائی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے! صاحبان اقتدار کہتے ہیں کہ ہم بھی مجبور ہیں ہم کیا کریں قرضے ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں، ہم سود درسود یہ قرضے سالہا سال سے ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یوں کہئے سود ادا ہو رہا ہے اصل زر اپنی جگہ بدستور موجود ہے جو وطن عزیز کی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے! جب ہم اتنی ساریاں مجبوریاں دیکھتے ہیں تو ہمیں ان سب مجبوروں پر یقین کیجئے بڑا رحم آتا ہے، یہاں ہر شخص مجبور ہے جو دودھ میں پانی ملا رہا ہے وہ کہتا ہے جناب مجبور ہوں کیا کروں اخراجات پورے نہیں ہو رہے! درزی نے بھی سلائی کی فیس بڑھا دی ہے اب سوٹ سے سلائی مہنگی ہے، درزی کہتا ہے کہ جناب ہم مجبور ہیں کیا کریں بجلی کے بل بے تحاشہ آرہے ہیں اور لوڈشیڈنگ ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی، ہمارے کاریگر سارا دن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں، اسی طرح دکان کے کرائے بھی روزبروز بڑھ رہے ہیں! بجلی کا بل، کاریگر کی مزدوری، دکان کا کرایہ یہ سب کچھ ہم اپنی جیب سے تو ادا نہیں کرسکتے؟ درزی کی بات سن کر ہمارے ذہن میں عوام کی جیب آگئی اس وقت وطن عزیز میں عوام کی جیب ہی یقینا ہمدردی کا مستحق ہے اگر کسی کو سچ مچ کا مجبور کہا جا سکتا ہے وہ شاید عوام کی جیب ہی ہو سکتی ہے کیونکہ سارا بوجھ اس جیب پر ہی ڈالا جارہا ہے! یہ سب مسائل ہمارے چاروں طرف بنفس نفیس موجود ہیں یہ زندگی کے وہ داغ ہیں جو ہمارے چاروں طرف جلوہ گر ہیں کون کیا کہہ رہا ہے؟ اور جو کہا جارہا ہے اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ؟ یہ جھوٹ اور سچ تو سامنے آتے رہتے ہیں بعض سچ ایسے بھی ہیں جن پر کسی کی نظر نہیں پڑتی یہ تاریکیوں میں جنم لیتے ہیں اور تاریکیوں ہی میں گمنامی کی موت مرجاتے ہیں۔ ان پر کوئی کہانی نہیں لکھی جاتی، کوئی خبر نہیں بنتی، یہی وہ سچ ہوتے ہیں جو سوچنے والوں کو غمگین کر دیتے ہیں۔ وہ جن کے دل میں دکھی انسانیت کیلئے ہمدردی کا جذبہ ہوتا ہے وہ جو صرف اپنے لئے نہیں جیتے! جو غریب کی مجبوریوں، اس کے دکھوں کا مداوا تو نہیں کرسکتے لیکن چپکے چپکے ان بیکسوں اور مجبوروں کیلئے آنسو بہاتے رہتے ہیں بقول خلیل جبران: رات کی تاریکیوں میں بھائی اپنے بھائی کو، باپ اپنے بیٹوں اور ماں اپنے بچے کو پکارتی ہے اور ہم سب کے سب بھوکے پیاسے اور تھکے ماندے ہوتے ہیں۔ رات کے ابتدائی حصہ میں بچہ ماں کو پکار کر کہتا ہے۔ ’’ماں مجھے بھوک لگ رہی ہے‘‘ اور ماں جواب دیتی ہے ’’بیٹا! تھوڑی دیر صبر کر‘‘ آدھی رات کو بچہ پھر ماں کو آواز دیتا ہے ’’اماں میں بھوکا ہوں، مجھے روٹی کھلا دو‘‘ اور وہ جواب میں کہتی ہے ’’بیٹا میرے پاس روٹی نہیں ہے‘‘ صبح کو مرد رزق کی تلاش میںکھیت کی طرف جاتا ہے لیکن وہاں خاک اور پتھر کے سوا کچھ نہیں پاتا، دوپہر کو وہ تھکا ماندہ خالی ہاتھ اپنے بیوی بچوں کے پاس آجاتا ہے۔ صبح کو کسان اپنی جھونپڑی سے نکلتا ہے اور اپنی ماں بہنوں کے زیورات لیکر شہر چلا جاتا ہے کہ انہیں فروخت کرکے گیہوں خریدے لیکن جب سہ پہر کو وہ ایسی حالت میں کہ اس کے پاس سامان خورد ونوش ہوتا ہے نہ زیورات، اپنے گاؤں واپس آتا ہے۔ یہ سادہ لوح کسان بھی کچھ مجبور نوجوانوں کی مجبوریوں کی نظر ہوگیا ہوگا ہم سب مجبور ہیں اسی لئے ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں، ڈس رہے ہیں۔ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو ہڑپ کررہی ہے، سب کے پاس اپنے دفاع میں بھرپور دلائل موجود ہیں، سب اپنی مجبوریاں مختلف دکانوں پر سجائے بیچ رہے ہیں اور جو سچ مچ کے مجبور ہیں ان کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی، ان کے دلوں سے نکلنے والی فریاد کی رسائی ہمارے کانوں تک نہیں ہو پاتی کیونکہ ہم سب مجبور ہیں!۔

متعلقہ خبریں