Daily Mashriq

تربیلا جھیل: مسافر، سامان بردار کشتیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار

تربیلا جھیل: مسافر، سامان بردار کشتیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار

ہری پور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے تربیلا جھیل میں مسافراور سامان بردار کشتیوں سمیت سیروتفریح کےلیے استعمال ہونے والی تمام کشتیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی۔

اس ضمن میں انہوں نے مقامی انتظامیہ کو خصوصی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی جس کے تحت وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کشتیوں میں گنجائش سے زائد افراد کو سوار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام مسافروں کے لیے لائف جیکٹ موجود ہوگی۔

خیال رہے کہ 3 جولائی کو ہری پور میں تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں 50 سے زائد مسافروں کو لے جانے والی کشتی ڈوب گئی تھی جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

واقعے کے بعد وزیراعلیٰ نے تربیلا جھیل کے قریب گاؤں کا دورہ کیا تھا، جہاں حالیہ واقعہ میں زخمی ہونے والوں کا علاج کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں 4 بچوں کی لاشیں جھیل کی سطح پر تیرتی ہوئی ملی تھیں۔

علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے فی کس 5 لاکھ اور زخمی ہونے والوں کےلیے ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاک فوج اور ریسیکو 1122سمیت مقامی غوطہ خوروں نے امدادی آپریشن جاری رکھا، تاحال انہیں کوئی لاش نہ مل سکی۔

دوسری جانب اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص نصراللہ نے بتایا کہ اس کے خاندان کے 5 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اس حادثے سے قبل ایک اسکول ٹیچر نے کشتی میں سوار لوگوں اور جانوروں کی ویڈیو بنا کر اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کی جو حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

زندہ بچ جانے والے ایک شخص جان عالم نے بتایا کہ 40 سے 50 مسافروں کے علاوہ کشتی کے مالک نے 5 بھینسیں اور 24 بکرے، بکریاں بھی کشتی پر سوار کرلی تھیں۔

کشتی الٹنے کے بعد بچ جانے والے نصیب نامی شخص نے بتایا کہ کشتی میں موجود مویشیوں کی نقل و حرکت کے باعث کشتی ڈگمگائی اور الٹ گئی۔

شانگلہ کے ایک سماجی کارکن عباداللہ خان خان نے بتایا کہ ڈوبنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق دیدل کماچ سے ہے اور یہ تمام لوگ آپس میں قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔

متعلقہ خبریں