Daily Mashriq

کچھ کھٹا کھانے پر چہرہ کیوں بگڑ جاتا ہے؟

کچھ کھٹا کھانے پر چہرہ کیوں بگڑ جاتا ہے؟

ایک لیموں لیں، اس کا چھلکا اتاریں اور پھر اسے سپاٹ چہرے کے ساتھ کھا کر دکھائیں۔

کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں؟ ممکنہ طور پر نہیں، کیونکہ جیسے ہی لیموں کا ذائقہ منہ میں جاتا ہے تو اس کی کھٹاس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ چہرے کے مسلز کو آپ کی مرضی کے بغیر حرکت میں لاسکتی ہے۔

سائنسدانوں کو اب تک معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے مگر اس کی وجہ 3 چیزوں میں چھپی ہوسکتی ہے، پروٹون، وٹامن سی اور ہزاروں سال قبل اسے کھانے کا انداز۔

اس کے ترش ذائقے کا براہ راست تعلق تیزابیت یا ایسیڈیٹی سے ہوتا ہے اور ہماری حس ذائقہ کھٹاس کو محسوس کرکے بتاتی ہے منہ میں اس وقت پروٹونز موجود ہیں جس کو ہمارا جسم کھٹے ذاقئے کے طور پر لیتا ہے۔

اس کے جواب میں اپنی بقا کے لیے انسانوں کو وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ہمارے خلیات اور ٹشوز کے افعال معمول پر رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر جاندار کے جسم وٹامن سی خود بنالیتے ہیں مگر انسان ایسا نہیں کرسکتے اور اس کے لیے ہمیں غذا کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

امریکا کی رٹگرز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق چونکہ ہم ہر وقت کھاتے ہیں، اس لیے ہمارا جسم خود وٹامن سی بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا، کیونکہ غذا سے یہ جز جسم کو مل جاتا ہے۔

ویسے یہ ترش غذائیں مزیدار اور جسم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں تو پھر کیوں ان کو کھانے کے دوران چہرہ بگڑ جاتا ہے؟

اس کا جواب سائنسدان یہ دیتے ہیں کہ چہرے پر ابھرنے والی جھریاں درحقیقت ایک طرح کا مسترد کردینے والا ردعمل ہوتا ہے یا یہ خود کو اور دیگر افراد کو سگنل دینے والا ردعمل ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں