Daily Mashriq


کاغذات نامزدگی کی سخت سکروٹنی ہونی چاہئے

کاغذات نامزدگی کی سخت سکروٹنی ہونی چاہئے

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے کاغذات نامزدگی بحال کرکے اب انتخابات میں کوئی تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا کے ریمارکس سے ملک کی سیاسی فضا پر انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے چھائی ہوئی غیر یقینی کی کیفیت کا خاتمہ ہو جانا چاہئے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اب انتخابات کے بروقت انعقاد کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی دکھائی نہیں دیتی۔ کاغذات نامزدگی کی وصولی بھی شروع ہوگئی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکروٹنی ایف آئی اے‘ نیب‘ ایف بی آر اور اسٹیٹ بنک سے کرانے کے انتظامات کرلئے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے اس امر کی توقع ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں کوئی نادہندہ‘ قرض خواہ‘ سزا یافتہ یا نیب زدہ نہ ہو گوکہ کاغذات نامزدگی میں پارلیمان کی جانب سے تبدیلی کے بعد شفافیت کے تقاضوں کو محدود کیا گیا ہے اور سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اپنے لئے پیشگی آسانیاں اپنے آپ ہی طے کرلی تھی جن کو لاہور ہائی کورٹ نے عام انتخابات2018 کیلئے پارلیمنٹ کی جانب سے نامزدگی فارم میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے آئین کی شق62 اور63 کے مطابق ترتیب دینے کا حکم دے دیا تھا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلے میں کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار ہے لیکن عوامی نمائندوں کی چھان بین آئین کے آرٹیکل62،63 کے تقاضوں کے تحت ہونی چاہئے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر نئے کاغذات نامزدگی میں ان شرائط کو لازم قرار دے اور مکمل چھان بین کے بعد امیدوار کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر رہنمائی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما ایاز صادق نے بھی انتخابات کیلئے نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا تھا کہ ایوانِ زیریں کے کسٹوڈین ہونے کے ناطے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان کی جانب سے منظور کئے گئے قانون کیخلاف آنیوالے فیصلے پر اپیل دائر کریں۔ بعد ازاں نگران وزیراعظم ناصر الملک نے اٹارنی جنرل آفس اور وزارت قانون کو ہدایت کی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ کے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف فوری اپیل دائر کی جائے اور اس کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے جائیں۔ اگر ملکی مفاد اور قوم کی بہی خواہی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو آئین کی شق62 اور63 پر مکمل عملدرآمد اور اس پر پورا اترنے والے امیدوار کو ہی انتخاب لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے اور اس ضمن میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی عوامی تائید بھی حاصل ہونا فطری امر ہے۔ مگر بہرحال پارلیمان کے بنائے گئے قانون میں ترمیم کے اختیار کا مسئلہ بھی اپنی جگہ قانونی نکتہ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انتخابات کے التواء کا معاملہ تھا جس کی کسی طور گنجائش نہیں ہونی چاہئے تھی۔ بہرحال یہ مرحلہ طے ہو چکا۔ الیکشن کمیشن کے پاس جو اختیارات کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کیلئے اس وقت موجود ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے استعمال میں رورعایت نہ دی جائے اور سخت گیری کیساتھ تمام متعلقہ محکمے اپنا اپنا کام ذمہ داری سے سر انجام دیں تو بھی ایسے عناصر کے امیدوار بننے کی روک تھام ممکن ہوگی جو کسی نہ کسی صورت قوم سے خیانت کے مرتکب ٹھہرتے ہوں۔

متعلقہ خبریں