Daily Mashriq

بھارت کی ورکنگ باؤنڈری کی باربار خلاف ورزی

بھارت کی ورکنگ باؤنڈری کی باربار خلاف ورزی

میں ورکنگ بانڈری پر بھارتی سکیورٹی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ایک بچی اور خاتون جاں بحق اور25زخمی ہونے کا واقعہ افسوسناک اور سنگین ہے۔ ماہ صیام کے ان چند دنوں کے اندر بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کی دوسری مرتبہ خلاف ورزی مارٹر گولوں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال بلاوجہ اشتعال انگیزی کے زمرے میں ہی نہیں آتا بلکہ بھارت کی اس مسلسل چھیڑ چھاڑ کے پس پردہ کوئی منصوبہ بھی کارفرما نظر آتا ہے۔ معلوم نہیں کہ بھارت دوسری قوتوں کی شہ پر خطے کا امن خطرے میں ڈالنے کے درپے کیوں ہے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ کوئی دن نہیں جاتا جب بھارت کنٹرول لائن پر کوئی شرارت نہ کرے۔ ایک اندازے کے مطابق امسال بھارت چار سو سے زائد مرتبہ سرحدی خلاف ورزی کا ارتکاب کر چکا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت نے دونوں ملکوں کے مابین سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کو معمول بنا لیا ہے اور بھارتی فوج بدمستی کے عالم میں جب چاہے اندھا دھند فائر کھول کر سرحدی آبادی کو نشانہ بناتی ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ بھارت اس قسم کی صورتحال کیوں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ بھارت ہر بار جنگ کی صورتحال پیدا کرکے خطے کا امن خطرے میں ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت سرحدی کشیدگی میں کمی کی بجائے اضافے کا خواہاں ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جہاں سرحدوں پر پاکستانی شہریوں کے تحفظ کیلئے دفاعی اقدامات پر توجہ دے وہاں اس معاملے کو بھارت کیساتھ مختلف فورمز پر اٹھانے کے علاوہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی اس مسئلے کو اٹھایا جائے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جائے۔ عالمی برادری کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ اس طرح کی صورتحال سے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے جس کا ذمہ دار بھارت ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال میں قیام امن مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں کوشش کرکے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہی بہتر حل ہوگا جب تک اس کیلئے راہ ہموار نہیں ہوتی تب تک دونوں ملکوں کے حق میں بہتر یہ ہوگا کہ وہ تعلقات میں بہتری لانے کیلئے دونوں ممالک کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک آنے جانے میں سہولیات دینے پر توجہ دیں، ویزے کی شرائط میں نرمی کی جائے اور ایک دوسرے کے ملک آنے جانیوالے شہریوں کی بلاوجہ نگرانی اور ہراساں کرنے کا سلسلہ ترک کیا جائے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفری سہولیات میں اضافہ کیا جائے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی وادبی وفود کے تبادلوں میں اضافے پر توجہ دی جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں کے روابط کے فروغ اور خاص طور پر کرکٹ کے روابط کی فوری بحالی پر توجہ دی جائے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات خطے کے امن کیلئے نہایت ضروری ہیں۔ باہم تعلقات میں کشیدگی کا عنصر خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے جس کا جتنا جلد احساس وادراک ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا۔
سگریٹ نوشی سے بڑھتی ہلاکتیں
گزشتہ روز تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا گیا تاکہ لوگوں کے اندر تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونیوالی بیماریوں کیخلاف شعور اُجاگر کیا جاسکے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں10سے24 سال کی عمر کے تقریباً 2ارب افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ جبکہ دنیا بھر میں50لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تمباکو دنیا میں پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونیوالی90فیصد اور تمام اقسام کے کینسر سے ہونیوالی20فیصد اموات کی وجہ ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو نوشی میں کمی کے بجائے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 40فیصد حصہ سگریٹ، پان، گٹکا، بیڑی اور مین پوری سمیت تمباکو سے بنی مختلف اشیا جسم میں اتارتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ سالانہ مرنے والے ان افراد کی تعداد 6لاکھ ہے جو تمباکو نوشی تو نہیں کرتے لیکن اس کا دھواں جذب کرکے دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ سگریٹ اور نشہ آور چیزوں کو اتنا مہنگا کر دیا جائے کہ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو2030تک تمباکو نوشی سے مرنے والوں کی تعداد80لاکھ سے تجاوز کر جائے گی جس میں سے80فیصد افراد کا تعلق غریب ممالک سے ہوگا۔ ایک موزوں اور قابل عمل تجویز ہے۔ گٹکے اور نسوار پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ملک میں منہ کے بڑھتے کینسر پر قابو پایا جائے اور عوامی مقامات پر پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ امر واقع یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلئے جو کردار والدین‘ اساتذہ‘ میڈیا اور معاشرے کو ادا کرنا چاہئے اس کا فقدان ہے۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ چھوٹے چھوٹے لڑکے اور نوجوان سگریٹ نوشی کی بری عادت میں مبتلا ہیں۔ اصولی طور پر کسی دکاندار کو اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سگریٹ فروخت نہیں کرنی چاہئے مگر یہاں سگریٹ تو کیا چرس‘ شراب‘ آئس اور ہر قسم کی نشہ آور اشیاء بہ آسانی دستیاب ہیں۔ باآسانی دستیابی کسی نشے میں اضافے اور اس کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پبلک مقامات پر قانونی طور پر سگریٹ نوشی کی ممانعت ضرور ہے لیکن اس قانون پر عملدرآمد کون کرائے، کیسے کرائے اور سرعام بسوں‘ پارکوں اور عوامی مقامات پر سگریٹ پینے والوں کو کون روکے، کسی کو اس سے غرض نہیں۔ اگر ہمیں اس لعنت کی روک تھام کرنی ہے تو پھر سگریٹ کی ڈبیوں پر اس کے مضر اثرات کی تشہیر کافی نہیں بلکہ اس کا عام زندگی یہاں تک کہ ڈراموں اور فلموں میں بھی اس کے استعمال کی نمائش پر پابندی لگائی جائے۔ والدین اپنے بچوں سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ اپنے شاگردوں کو اس مضر صحت نشہ سے بچنے کی برابر تلقین بھی کریں اور ان پر نظر بھی رکھیں۔ حکومت کو سگریٹ کی فروخت اور سگریٹ نوشی کی ممانعت کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کی ذمہ داری سختی سے نبھانے کو یقینی بنانا چاہئے۔ جب تک اس فعل کو معاشرے میں برا خیال نہیں کیا جائے گا اور اس کی مجموعی طور پر مذمت نہیں کی جائے گی اس لعنت کی روک تھام ممکن نہیں۔

اداریہ