Daily Mashriq

کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا

کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا

ابو بن ادھم ایک صوفی بزرگ گزرے ہیں جن کے بارے میں ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک رات وہ کمرے میں اچانک چکا چوند روشنی ہونے سے جاگ اٹھے تو انہوں نے ایک فرشتے کو رجسٹر میں کچھ لکھتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے پوچھا اس رجسٹرمیں کیا لکھ رہے ہیں تو فرشتے نے جواب دیا اس میں ان لوگوں کے نام لکھ رہا ہوں جنہیں اللہ سے محبت ہے ، بن ادھم نے پوچھا اس فہرست میں میرا بھی کہیں ذکر ہے ، جواب نفی میں آیا تو کہا ، آپ میرا نام ان لوگوں میں درج کیجئے جنہیں اللہ کے بندوں سے پیار ہے ، فرشتے نے ان کا نام لکھا اور نظروں سے اوجھل ہوگیا ، اگلی رات پھر ان کی آنکھ کھلی تو کمرے میں اسی طرح چکا چوندتھی اوروہی فرشتہ رجسٹر میں ایک اور فہرست تیا رکر رہا تھا ، ابو بن ادھم نے پوچھا یہ کن لوگوں کی فہرست ہے ؟ فرشتے نے یہ کہہ کر رجسٹران کے آگے کر دیا کہ یہ ان لوگوں کے نام ہیں ، جن سے اللہ خود پیار کرتا ہے ، بن ادھم نے فہرست پر نظر ڈالی تو ان کا نام سب سے اوپر درج تھا ۔رجسٹر دکھاتے ہی فرشتہ پھر نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔ اس واقعے کو انگریزی کے ایک شاعر نے ایک نظم کی صورت میں ڈھالا ہے ، جو ہمارے زمانہ طالبعلمی میں انگلش پوئمزیعنی انگریزی نظموں کی کتاب میں بھی شامل تھی ۔ اور ہمارے اساتذہ کرام اس کو پڑھاتے ہوئے ہمیں یہ درس دیا کرتے تھے کہ اللہ کے بندوں سے محبت کا نتیجہ اللہ کے قرب میں نکلتا ہے جبکہ اردو زبان میں اسے ایک شعر میں یوں باندھا گیا ہے کہ
خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں
بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو
خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
اللہ کی خوشنودی کے حصول کیلئے اس کے بندوں سے پیار کے ہزار ہا طریقے ہو سکتے ہیں اور مسلم امہ میں جا بجا اس کے مظاہر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ، خصوصاً ماہ رمضان میں دنیا بھر کے مسلمان زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات کے ذریعے اپنے بھائی بندوں کی امداد کرتے ہوئے سکون اور راحت محسوس کرتے ہیں ، ان سرگرمیوں کی ابتداء نہ جانے کب سے ہوئی اور اسلام کے ابتدائی ایام میں بعض ناقابل فراموش واقعات کے بارے میں پڑھ کر آج بھی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ،ان عظیم ہستیوں کی خود تنگدست ہوتے ہوئے بھی اپنے غریب اور ضرورت مند بھائیوں کی امداد کرنے سے انسانیت پر ایمان پختہ ہوجاتا ہے جبکہ آج ان سرگرمیوں کو مربوط انداز میں بعض اسلامی ممالک میں جس طرح آگے بڑھایا جارہا ہے ان کی جھلکیاں سعودی عرب اور دیگر کچھ اسلامی ریاستوں میں آسانی کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں ۔ خصوصاً رمضان شریف میں عمرے کیلئے جانے والے زائرین اور حج کے موقع پر دنیا بھر سے جمع ہونے والے لاکھوں مسلمان اس صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں ، عمرے کے موقع پر بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی ؐ میں جو دستر خوان افطاری کے وقت بچھائے جاتے ہیں ان کے بارے میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی طوالت کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر کئی کلو میٹر کی لمبائی بن جاتی ہے ، اس مقصد کیلئے سعودی عرب کے صاحبان استطاعت افراد ان کیلئے بھاری رقوم فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ ادارے اپنے ورکروں کی مدد سے افطاری کا اہتمام کرتے ہیں ۔ سعودی عرب کی دیکھا دیکھی اب گزشتہ کئی برس سے دیگر اماراتی ریاستوں اور خلیجی ممالک میں بھی مساجد میں دستر خوان بچھائے جاتے ہیں اور ہر روزہ دار کو اس کا حصہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسم محمد ؐ شاد رکھتا ہے مجھے
اب یہ سر گرمی پاکستان میں بھی شروع ہوچکی ہے اور پشاور میں بھی کئی ایک گروپ جو بزرگوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہیں ذاتی طور پر مل کر افطاری دستر خوان کا اہتمام کرتے ہیں ، خوش آئند بات یہ ہے کہ مسلمان تو ایک طرف اب کی بار سکھ برادری نے بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے افطار دسترخوان بچھانے کا اہتمام کر رکھا ہے جن کی تصویر یں اور وڈیو نہ صرف سوشل میڈیا پروائر ل ہوچکی ہیں بلکہ مختلف چینلز نے بھی اس افطار دستر خوان کے بارے میں پروگرام نشر کئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ایک کرمفرما عبدالرئوف روہیلہ نے ہشتنگری کے مقام پر مولوی جی ہسپتال کے بالمقابل روٹری کلب کے زیر اہتمام افطار دستر خوان کا اہتمام کیا ہے جہاں وہ خود اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ روزانہ موجود ہوتے ہیں ، اسی طرح گزشتہ روز ایک افطار ڈنر پر جاتے ہوئے میں نے گل بہار کے علاقے میں ٹی ٹی سی کے قریب فٹ پاتھ پر بعض نیکو کاروں کو افطار دسترخوان بچھاتے دیکھا ، ان میں سفید ریش بزرگ بھی تھے اور نوجوان بھی جو افطاری کا سامان سجانے میںمصروف تھے ، ممکن ہے کہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی نیک اور خد ا ترس افراد اسی نیک کام میں مصروف ہوں جن کے بارے میں میری معلومات زیادہ نہیں ہیں ، بہر حال اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جہاں معاشرے میں ناجائز منافع خوروں نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے وہاں اللہ کے نیک بندوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے دامے ، درمے ، سخنے بندگان خدا کی خدمت کر رہے ہیں ، علامہ اقبال نے بھی تو کہا تھا
کوئی ایسی طرز طواف تو مجھے اے چراغ حرم بتا
کہ تر ے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سر شت سکندری

اداریہ