Daily Mashriq


زندگی تو بے وفا ہے ۔۔۔۔

زندگی تو بے وفا ہے ۔۔۔۔

پاکستان ٹیلی وژن کی شہرت یافتہ اداکارہ عظمیٰ گیلانی کہ جن کے کریڈٹ پر لاتعداد ڈرامے آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں نقش ہیں۔ عظمیٰ گیلانی جو بہ یک وقت عارضہ قلب، کینسر اور ڈپریشن کی مریضہ تھیں، سے کسی نے سوال کیا کہ آپ سے ان تینوں بیماریوں میں سے کسی ایک بیماری کو واپس لیا جائے تو آپ کون سی بیماری سے جان چھڑانا چاہیں گی۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ میں کینسر کا شدید درد برداشت کرسکتی ہوں، دل کی نازک رگوں کا ٹوٹنا بھی قبول ہے لیکن ڈپریشن سے اگر میری جان چھوٹ جائے تو یہ میرے لئے زندگی کے مترادف ہوگا۔ یہ بات مجھے پشاور کے ایک بہت بڑے شاعر اور میرے دیرینہ دوست امجد بہزاد بتا رہے تھے کہ جو اس درجے کے شاعر ہیں

مت آ کہ شہر گرد یہ دوزخ مثال ہے

گرمی وہ پڑ رہی ہے کہ جینا محال ہے

موقع بھی ایسا کہ دل دکھی تھا۔ بہت ہی پیارے دوست پروفیسر شکیل مفتی کی نماز جنازہ کا انتظار ہو رہا تھا۔ بہت سے ریٹائرڈ اور حاضر سروس پروفیسرز جنازہ گاہ میں انتظار کر رہے تھے۔ شکیل مفتی ایک پیارا انسان تھا۔ میرا ان سے تعلق 1999سے ہے۔ گورنمنٹ کالج پبی میں ایک ساتھ تھے پھر گورنمنٹ کالج پشاور میں خوب ملاقاتیں رہیں۔ ایک اچھے استاد کے علاوہ ایک اچھے منتظم کے طور پر جانے جاتے تھے۔ گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد نمبر2 منڈیاں کے پرنسپل ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ہایئرایجوکیشن میں ایک اور اہم ذمہ داری سونپی گئی کہ جو انہیں راس نہ آئی اور وہ دل کے مریض ہوگئے، ساتھ ہی ڈپریشن کا شدید عارضہ بھی لاحق ہوگیا۔ بعدازاں انہیں کینسر بھی تشخیص ہوگیا۔ بیماریوں کی وجہ سے وہ خانہ نشین ہوگئے۔ ایک دن میں آفس میں تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ میں شکیل مفتی کا ڈرائیور ہوں اور شکیل صاحب کار میں بیٹھے ہیں میرا نتظار کر رہے ہیں۔ جب میں گاڑی میں ان سے ملنے گیا تو شدید حیرت ہوئی کہ موصوف جو ایک اوور ویٹ شخصیت کے مالک تھے بہت زیادہ کمزور ہو چکے تھے۔ میں نے اس ملاقات میں یہی محسوس کیا کہ شکیل شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ انہیں دل کی بیماری اور کینسر سے اتنا خوف نہیں ہے لیکن اپنی صحت سے وہ دلبرداشتہ تھے۔ ایک بھرپور زندگی گزارنے والے مفتی صاحب شدید تنہائی کا شکار تھے۔ ان کی خواہش بھی تھی کہ وہ دوستوں سے ملیں، گپ شپ لگائیں اور اپنا درد شیئر کریں۔ پہلے وہ ورسک روڈ پر رہائش پذیر تھے کچھ ماہ پہلے اپنے نئے گھر واپڈا کالونی شفٹ ہوگئے تھے۔ انسان کی اس سے بڑی عاجزی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد انسان دوستوں کو ترسے۔ عمرکے یوں تو کئی پڑاؤ ہیں جیسے بچپن کہ جس میں ہماری ناتوانیوں کا ازالہ ہمارے خاندان والے کرکے ہمیںاس قابل کر دیتے ہیں کہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ دوسرا پڑاؤ جوانی ہے کہ جس میں ہم اپنی تمام تر توانائیوں کیساتھ زندگی کے لطف کو محسوس کرتے ہیں۔ تیسرا پڑاؤ وہ ہے کہ جب ہم جوانی سے بڑھاپے کی جانب بڑھتے ہیں اور ہمیں احساس ہونے لگتا ہے کہ ہماری قوتیں ہم سے واپس لی جا رہی ہیں۔ شاید یہ انسانی زندگی کا سب سے عجیب پڑاؤ بھی ہے کہ ہم بچپن اور جوانی کی نسبت زیادہ شعور رکھتے ہیں۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر بہت کچھ سیکھ چکے ہوتے ہیں جو کبھی ہماری خواہشیں اور آرزوئیں ہوتی تھیں آج وہی چیزیں ہم حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ بچوں کو پال پوس کر اپنے اپنے استھان پر پہنچا چکے ہوتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کا گویا مشن پورا کر چکے ہوتے ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا زندگی صرف مشن ہی ہے یا کچھ اور بھی۔ کیونکہ زندگی کو مقصد سمجھ کرگزارتے وقت ہم زندگی سے ہی غافل ہوجاتے ہیں اور جب مشن کی یہ مصروفیت ختم ہوتی ہے تو جسم بھی ساتھ چھوڑنے کی تیاریاںکر چکا ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ انسان اپنے لئے کسی نئی زندگی کا آغاز بھی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ کام تو جوانی کے ایام میں کرنے کا ہوتا ہے۔ اب تو بچوں کے فیصلے ہی قبول کرنے ہوتے ہیں۔ سو ایسی حالت میں ڈپریشن کیونکر نہ ہو۔ ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو شاہ وگدا کو نہیں بخشتی بس ہوجاتی ہے۔ یہ ایسی بیماری ہے کہ انسان خود اپنے آپ سے جنگ کرنے لگتا ہے۔ انسان زندگی میں بہت سی جنگیں لڑتا ہے۔ ہارتا بھی ہے اور جیتتا بھی ہے لیکن خود سے ہار جانا کسی طور بھی شکست فاش سے کم نہیں۔ ہمارے ہاں نفسیات کی بیماریوں کو بیماری ہی نہیں سمجھا جاتا حالانکہ نفسیات ہی تو انسان میں سب کچھ ہے۔ اب خود سوچئے کہ ایک ریٹائرڈ بندے کو دل کا عارضہ بھی ہو اور کینسر کی شکایت بھی تو ان بیماریوں سے لڑنے کے ایک صحت مند دماغ کا ہونا تو ضروری ہے کہ جو اس میں جینے کی امنگ پیدا کرے، جب اپنا ہی دماغ ڈپریشن کی حالت میں منفی ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ معاملہ ایسا ہی ہے کہ اپنا ہی سپاہ سالار دشمنوں کی صفوں میںچلا گیا ہے۔ رات دیر تک میں اپنے دوست شکیل مفتی کے بارے میں سوچتا رہا، اس کی مسکراہٹ کو یاد کرتا رہا، اس کی صحت مند زندگی کو، اس کے بے داغ اور پیشہ ورانہ بلکہ قابل رشک کیریئر کو سوچتا رہا تو آنسو پلکوں کو بار بار بھگو جاتے تھے اور پھر سوچتا کہ موت کا ذائقہ تو ہر نفس نے چکھنا ہے کہ یہی مشیت ایزدی ہے اور یہی منشاء پروردگار ہے۔ اللہ میرے دوست کی مغفرت کرے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں