Daily Mashriq


 قومی حماقتوں کا انجام

قومی حماقتوں کا انجام

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشادکا کہنا ہے کہ اس بارنئے سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے جتنے بھی انتخابات کرائے ہیں ان سب میں ایسے مسائل پیدا نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیاں اس کے ایکٹ سے انحراف کرتے ہوئے بنائی گئیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حلقہ بندیوںکو کالعدم قرار دیا جا رہا ہے۔سب کو شکایت ہے کہ حلقہ بندیاں صحیح طریقے سے نہیں ہوئی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ حلقہ بندیوں میں گڑ بڑ ہوئی ہے، جوڑ توڑ ہوئی ہے اور اسی لیے اس حوالے سے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔کاغذات نامزدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کنور دلشاد نے کہا کہ پرانا کاغذات نامزدگی کا فارم جامع تھا اور اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں تھی۔پرانے فارم سے عوام کو پتہ چلتا تھا کہ ان کا نمائندہ کہاں کھڑا ہے۔ میں کہوں گا کہ بدنیتی پر یہ فارم تبدیل کیا گیا اور یہ نیا فارم الیکشن قوانین سے انحراف کرتا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن محسوس کر رہے ہیں کہ کوئی قوت الیکشن میں تاخیر چاہتی ہے اسی لئے بروقت الیکشن کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔بعض لوگ یہ شبہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل سے خاصی پریشانی ہے اس لئے بروقت الیکشن میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے سنے گئے ہیںتحریک انصاف قدرے تاخیر سے الیکشن چاہتی ہے اور وہ اس حوالے سے پرویز خٹک کے خط کا حوالہ دیتے ہیں۔بلوچستان کی اسمبلی میں جو قرارداد منظور کی گئی اس کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے قرارداد منظور نہیں کی اس سے یہ قرارداد منظور کرائی گئی ہے۔سچائی کیا ہے خدا جانے لیکن بات اس حد تک درست ضرور ہے کہ کچھ حلقے انتخابات میں تاخیر کرانا چاہتے ہیں لیکن یہ بیل منڈھے چڑھتے دکھائی نہیں دیتی جس کی مختلف وجوہات ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ ملک میں اس وقت ایک ایسا نگران وزیر اعظم ہے جس کی امانت، دیانت اور صداقت شک و شبے سے بالاتر ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں بروقت انتخابات کے حق میں ہیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی بروقت انتخابات کرانا چاہتا ہے۔در حقیقت تشویشناک معاملات کچھ اور ہیں۔حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی نگران وزرائے اعلیٰ پر اپوزیشن لیڈرز اور وزرائے اعلیٰ کا کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکنا۔تحریک انصاف کی طرف سے ایک نام پر صاد کرنا اور پھر ایک نہیں دو بار یو ٹرن لے لینا اس امر کا ثبوت ہے کہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے بدترین بد گمانیاں موجود ہیں اور یہ بد گمانیاں الیکشن کے دوران خون خرابے پر منتج ہو سکتی ہیں۔اس حوالے سے کنور دلشاد کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ الیکشن کمیشن نے آج تک جتنے بھی انتخابات کرائے ان میں ایسے مسائل پیدا نہیں ہوئے جیسے مسائل اس بار سامنے آ رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت خود کو پاک پوتر اور باقی سب کو چور ڈاکو بنا کر پیش کر رہی ہے حالانکہ انہی چور ڈاکو جماعتوں کے ’’ فرشتہ صفت‘‘ لوگ دھڑا دھڑ ’’ پاک صاف‘‘ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔ان میں سے کسی ایک شخص کو بھی نہیں کہا گیا کہ پہلے کیریکٹر سر ٹیفکیٹ جمع کرائو پھر پارٹی میں لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کریں گے۔اس منڈی میں اس شخص کی بھی بولی لگی جسپر چالیس سال پہلے ڈکیتی کیس درج تھا۔خان صاحب نے تو اسے تحریک انصاف کا دوپٹہ پہنا کر اس کے ساتھ تصویر بھی بنوا لی تھی لیکن جب سوشل میڈیا پر شور اٹھا تو پھر اسے پارٹی سے نکالا گیا۔دوست محمد کھوسہ پر شک ہے کہ اس نے ایک اداکارہ کو غائب کرایا۔سات سال سے اس خاتون کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں لیکن دوست محمد کھوسہ کا باپ پارٹی ترجمان فواد چوہدری کو چیلنج کر رہا ہے کہ وہ کون ہوتا ہے اس کے بیٹے کو تحریک انصاف میں شامل ہونے سے روکنے والا۔اب یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ تو نواز شریف یا شہباز شریف کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔مسلم لیگ ن تو کھوسوں کو پارٹی سے نکال باہر کر چکی ہے لیکن خان صاحب ایسے دھتکارے ہوئے لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرتے جا رہے ہیں۔کیا یہ لوگ پاکستان کو کرپشن فری بنائیں گے؟ کیا انہی لوگوں کے ساتھ مل کر کپتان نیا پاکستان بنائیں گے؟ کیا ایسے لوگوں کے ساتھ مل کر وہ پاکستان کوایک محفوظ ملک بنائیں گے؟ تحریک انصاف میں بہت اچھے اور صاف ستھرے لوگ ہیں۔ان با کردار لوگوں نے کیا اسی لئے جدوجہد کی کہ شیریں مزاری جیسی با اصول خاتون کو بولنا پڑا کہ پارٹی میں قاتلوں اور عزت لوٹنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔نچوڑ وہی ہے جو ہم پہلے بھی نکالتے رہے ہیں کہ پاکستان میں اب سیاست گالی بن جائے گی اورگلی کوچوں ،چوراہوں میں وہ منظر دیکھنے کو ملیں گے جو ہماری آنکھوں نے پچھلے پچاس سالوں میں نہیں دیکھے۔ اقتدار جس کو بھی ملا وہ اس سے تھوڑے ہی عرصے میں خدا کی پناہ مانگے گا۔لکھ لیں کوئی بھی اب شرافت کی سیاست نہیں کر سکے گا۔جمہوریت نے ایک عشرہ ضرور پورا کیا لیکن اسے اس قدر بدبودار اور سڑاند زدہ کر دیا گیا ہے کہ جو با کردار لوگ دل سے سیاست کو خدمت اور عبادت سمجھ کر اس میں آئے وہ سیاست سے الگ ہو کر اپنی آل اولاد کو بھی یہ وصیت کر کے مریں گے کہ اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔اب اللہ جانے یہ سب طے شدہ تھا یا ہماری قومی حماقتوں کا عبرتناک انجام ہے۔

متعلقہ خبریں