Daily Mashriq

ایمنسٹی اسکیم کے بعد کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، وزیراعظم

ایمنسٹی اسکیم کے بعد کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، وزیراعظم

اسلام آباد: حکومت نے حال ہی میں اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اثاثے رجسٹر نہ کروانے والے دولت مند افراد کے احتساب کا فیصلہ کیا ہے۔

بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اجلاس میں مذکورہ فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، مشیر کامرس عبدالرزاق داؤد، وزیر برائے ریونیو حماد اظہر، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی، ہمایوں اختر اور دیگر شریک تھے۔

بجٹ تجاویز سے متعلق اجلاس میں شریک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ موجودہ ایمنسٹی اسکیم آخری ہوگی جس کے بعد اندرون اور بیرون ملک اثاثے چھپانے والے افراد کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دولت کی کچھ نشاندہیوں کی سخت نگرانی کی جائے گی جس کے بعد ایف بی آر شاہانہ زندگی گزارنے والے، پوش علاقوں عالی شان گھر،لگژری گاڑیوں اور اکثر غیر ملکی دورے کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرے گا۔

چیئرمین ایف بی ار شبر زیدی نے ریونیو حاصل کرنے سے متعلق ٹیکس اور بجٹ تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی، اسی طرح سیکریٹری خزانہ نے بھی بجٹ اخراجات پر پریزینٹیشن دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کم آمدن والے طبقے پر زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے امیر طبقے پر ٹیکس عائد کیے جانے چاہیئیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو بجٹ کی تیاری سے متعلق تجاویز کے لیے کاروباری افراد اور صنعت کاروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کرنے کی ہدایت جاری کی۔

اجلاس میں برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس کی شرح صفر کرنے کے مسئلے پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی اور سیکریٹری خزانہ کو برآمد کنندگان نے ملاقات کی ہدایت دی گئی۔

حکومت کی جانب سے برآمدات پر جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی ) کی شرح کو صفر برقرار رکھنے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

بنی گالہ میں منعقد گزشتہ اجلاس میں جی ایس ٹی کی شرح صفر برقرار رکھنےسے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا تاہم مقامی صنعتوں اور کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے سے متعلق کرنے سے متعلق غور کیا گیا تھا کیونکہ کمپنیوں کی مقامی فروخت اور برآمد کی اصل مقدار کا تعین کرنا بہت مشکل ہے۔

خیال رہے کہ کاروباری افراد کو 2005 سے ٹیکس کی صفر شرح کی سہولت حاصل ہے۔ 2009 سے 2015 تک یہ سہولت ختم کردی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں