Daily Mashriq

جناب وزیراعظم! ان امور پر توجہ دیجئے

جناب وزیراعظم! ان امور پر توجہ دیجئے

سوموار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے نیکٹا کو خط لکھنے والی خاتون وزیر مملکت سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کابینہ کے اجلاس میں بات کرنے سے روک دیا۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، وزراء اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کریں۔ امر واقع یہ ہے کہ جس اقرباء پروری، اختیارات سے تجاوز اور دیگر خرابیوں کیخلاف تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں جدوجہد کرتی رہی حالیہ واقعہ اور چند دیگر واقعات کی وجہ سے نہ صرف حکومت اور پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ یہ تاثر بھی اُبھرا کہ تحریک انصاف کی صفوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بہت جلدی میں ہیں۔ مہینہ بھر قبل وزیراعظم کے ایک خصوصی معاون کے بھتیجے کو چند ماہ کے اندر ہی گریڈ اٹھارہ سے انیس میں ترقی دیکر نادرا میں ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ ان موصوف کی خدمات ایک خاص شعبہ کیلئے حاصل کی گئی تھی پھر جنرل شعبہ کی اہم پوسٹ پر تقرری کردی گئی۔ اسی طرح وفاقی حکومت کے ذیلی اداروں کے علاوہ صوبہ پنجاب میں بھی تحریک انصاف کے سرگرم کارکنوں کو اہم عہدوں پر فائز کرنے کا دستاویزی ریکارڈ موجود ہے۔ حال ہی میں پنجاب حکومت نے اپنی کارکردگی عوام تک پہنچانے کیلئے3ترجمانوں کیساتھ4کوآرڈی نیشن بھی مقرر کئے، یہ افراد تو تنخواہ نہیں لیں گے مگر سرکاری گاڑی، دفتر اور ٹیلیفون کی سہولتوں سے استفادہ کے حقدار ہوں گے، خود وفاقی کابینہ اور معاونین خصوصی ہیں غیرمنتخب افراد اہم عہدوں پر دکھائی دیتے ہیں۔ جناب عمران خان اپنی پوری سیاسی زندگی میں منتخب قیادت کی رہنمائی اور عوام دوست اقدام کو اپنی فہم کو مرکزی نکتہ بنا کر پیش کرتے رہے ہیں اوپر تلے ہونے والے چند واقعات کی وجہ سے حکومت پر تنقید پر ان کی پریشانی بجا طور پر درست ہے۔ ایک ایسی حکومت جس کی معاشی وداخلی پالیسیوں پر تحفظات سامنے آرہے ہیں اس طرح کے معاملات سے کیسے عہدہ برا ہوتی ہے اس حوالے سے ایک بات قابل توجہ معاملہ تو سوموار کو ہوا جب وزیراعظم نے خاتون وزیر مملکت کو کابینہ کے اجلاس میں بات کرنے سے روک دیا۔ اس مرحلہ پر یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ کیا جناب وزیراعظم اس امر کا بھی نوٹس لیں گے کہ ماضی میں حکومت اور اس کے ذیلی اداروں میں اہم عہدوں پر سیاسی کارکنوں کی تقرری کے حوالے سے وہ جس طرح تنقید کرتے رہے ہیں اب ان کی جماعت ماضی کی پیروی کر رہی ہے؟۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اب تک کے 10-9مہینوں کے دوران کوئی بڑا مالیاتی سکینڈل سامنے نہیں آیا، البتہ انتظامی کمزوریوں، فیصلہ سازی میں تاخیر اور منصوبہ بندی کے حوالے سے شکایات بہرطور موجود ہیں۔ پشاور میٹرو منصوبہ ایک شاہکار کی طرح منہ چڑھا رہا ہے۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ سیاسی نظام میں بالغ نظری اور وعدوں کے ایفا کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف سیاسی نظام اور حکومتی امور کے حوالے سے پچھلے 9ماہ کے دوران جو شکایات کرتی دکھائی دے رہی ہے اس حوالے سے یہ عرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ اکتوبر 2011ء سے 2018ء کے درمیانی عرصہ میں متحرک اپوزیشن کا کردار اداکرنے کیساتھ پی ٹی آئی کے پاس2013ء سے 2018ء تک صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بھی موجود تھی۔ ان برسوں میں اگر پارٹی کے اندر مختلف شعبوں کے حوالے سے ماہرین پر مشتمل تھنک ٹینک بنا کر مستقبل کے حوالے سے پیش بندی کر لی جاتی تو مختلف معاملات میں جو کمزوریاں اور تساہل سامنے آیا اس کا تدارک ممکن تھا۔ تحریک انصاف کی قیادت چھ سات سال تک جس شخصیت کو معاشی جادوگر بنا کر پیش کرتی رہی وہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے مکمل طور پر ناکام رہے۔ یہاں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں سے تعمیرنو اور خوشحالی کے دروازے کھل پائیںگے؟۔ اصولی طور پر دیکھا جائے تو معاشی پالیسیوں کے ضمن میں آئی ایم ایف کی شرائط مان لی گئی ہیں، عالمی مالیاتی ادارے کے مصر میں سربراہ کو لاکر بینک دولت آف پاکستان کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ مشیر خزانہ بھی اس شخصیت کو بنایا گیا جن کی اس منصب پر ماضی میں تقرری کوئی خوشگوار تجربہ نہیں بلکہ مشرف اور پیپلزپارٹی کے دور میں وہ وزیر خزانہ کے طور پر ناکام رہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہمارے معیشت دانوں میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کو یہ باور کروا سکیں کہ ایک پسماندہ مگر ترقی کے اہداف کی طرف بڑھتے ہوئے ملک کے حالات ومعاملات ترقی پذیر ممالک سے مختلف ہوتے ہیں۔ بہرطور یہ امر قابل توجہ ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم کی حیثیت سے جناب عمران خان کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ پچھلے سات آٹھ برسوں کے دوران ان کی جماعت عوام کو جس تعمیرنو کے وعدوں کے ایفا ہونے کا یقین دلاتی رہی اور تواتر کیساتھ کرپشن اقرباء پروری اور دیگر خرابیوں کے دائمی خاتمہ کا وعدہ کیا جاتا رہا وہ نہ صرف پورے ہوں بلکہ اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ سیاسی جماعت کا کام سماج کی اجتماعی بھلائی کچلے ہوئے طبقات کیلئے خیر کا باعث بننے والے منصوبے بنانا اور عمل کرنا ہوتا ہے ناکہ اپنے کارکنوں کو سرکاری منصبوں پر فائز کرنا۔ ہمیں امید ہے کہ جناب وزیراعظم نے اگلے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جن امور کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے اسے پارٹی پروگرام اور اپنی جدوجہد کے منافی قرار دیا ہے مستقبل میں نہ صرف سختی سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی وزیر، میئر یا پارٹی رہنما ہر اس عمل سے اجتناب برتے جس سے پارٹی اور حکومت کی سبکی ہو بلکہ اس پر بھی توجہ دی جائے گی کہ پچھلے آٹھ نو ماہ کے دوران جو شکایات سامنے آئی ہیں ان کا ازالہ بھی کیا جائے۔ یہاں ہم جناب وزیراعظم کی توجہ اس امر کی طرف دلانا بھی ضروری خیال کرتے ہیں کہ آمدن واخراجات میں عدم توازن سے سماجی امور پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی سیاسی ومعاشی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لیں تاکہ اصلاح احوال کی کوئی صورت بن سکے۔

متعلقہ خبریں