Daily Mashriq

دو عیدوں کا معاملہ

دو عیدوں کا معاملہ

بدقسمتی سے امسال بھی شوال کے چاند پر عدم اتفاق کی وجہ سے عیدالفطر دو دن منائی جارہی ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت نے پوپلزئی کی غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کے اعلان چاند اور منگل کو عیدالفطر منانے کی سرکاری طور پر تائید کردی جبکہ ملک کے دوسرے تین صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بدھ کو عیدالفطر منائی جائے گی۔ رویت ہلال کے معاملے پر یہ اختلاف عوام کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہی ٹانک سمیت متعدد شہروں کی مرکزی جامعہ مساجد سے شوال کا چاند دکھائی نہ دینے کے اعلانات ہوئے اور ان شہروں میں بھی بدھ کو عید ہوگی۔ وحدت کا جو تصور اسلامی تعلیمات اور عیدین کے حوالے سے سنایا پڑھایا جاتا ہے اس کے قدم قدم پر پاش پاش ہونے سے لوگوں کا دل گرفتہ ہونا بذات خود سوال ہے کہ آج کے جدید دور میں جب چاند کی تسخیر کے بعد نئے جہاں دریافت کرنے کا سائنسی تحقیقات جاری ہیں چاند دیکھنے کے معاملے میں اصول مختلف کیوں ہیں اور بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ چاند دیکھنا شرعی مسئلہ سے زیادہ علاقائی اور فرقہ وارانہ مسئلہ بن گیا ہے، یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کا فرض تھا کہ ان دستیاب شہادتوں جن کی بنیاد پر عید کا اعلان کیا گیا کا معاملہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے سامنے رکھتی اور اگر وفاقی رویت اجلاس کمیٹی کے اعلان رمضان میں کوئی کج تھا تو اس کی سزا لوگوں کو دینے کی بجائے اجتماعی شعور کیساتھ عید منانے کا فیصلہ ہوتا اور اگر رمضان کے آغاز میں ایک روزہ کم رکھا گیا تھا تو عید کے بعد اس کا کفارہ ادا کر دیتے روزہ دار، جناب پوپلزئی کا اعلان چاند ان کے پاس دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر ہے کیا ان شہادتوں پر صوبائی رویت ہلال کمیٹی اور وفاقی حکومت سے صوبائی حکومت نے کوئی مشاورت کی؟ بظاہر اس کا جواب نفی میں ہے، یہی وہ قابل توجہ معاملہ ہے۔ عیدالفطر انعام ہے روزہ داروں کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے، وہ دن جو مستحقین کی مدد کے حوالے سے اہم ترین دن ہے وہ بھی اختلاف کی نظر ہوگیا، خود صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی اس حوالے سے یکسوئی دکھائی نہیں دی۔ ہم دست بدستہ عرض گزار ہیں کہ چاند دیکھنے کے معاملے پر شخصی وگروہی جذباتیت کا شکار ہونے کی بجائے جدید علوم وتحقیق سے معاونت حاصل کرکے مستقبل میں اس تقسیم اور بدمزگی سے بچا جائے۔

امریکی شہریوں کے لئے نئی ویزا پالیسی

یہ امر حیران کن ہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان کیلئے امریکی شہریوں کو ملٹی پل ویزا جاری کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا جب امریکہ نے جنوبی ایشیاء میں اپنی سیاسی وسفارتی حکمت عملی کو ازسرنو وضع کرتے ہوئے پاکستان کو الگ تھلگ کر دیا ہے۔ خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ ایشیا اور خصوصاً جنوبی ایشیاء میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا توڑ کرنے کیلئے آنے والے دنوں میں جس حکمت عملی پر عمل کرے گا اس میں بھارت اس کا بڑا معاون ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ خطے میں امریکی ترجیحات اور پالیسیوں کے حوالے سے ٹرمپ حکومت جس طرح پاکستان کو نظرانداز کر رہی ہے اس پر دفتر خارجہ کے بابوؤں نے غور وفکر کی زحمت کی؟۔ پاکستانی عوام کے نزدیک خطے کے امور میں سات سمندر پار سے آنے والی طاقت سے زیادہ علاقائی تعاون ویکجہتی کی اہمیت ہے۔ امریکہ بنیادی طور پر روس اور چین کے معاشی وسیاسی مفادات اور اثر ورسوخ سے خوفزدہ ہے لیکن یہ بڑی طاقتوں کی باہمی چپقلش ہے۔ ہمیں یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ امریکیوں کیلئے ویزا پالیسی میں فراخدلانہ نرمی درست نہیں۔ تعلقات مساوی بنیادوں پر استوار ہونے چاہئیں۔ بجا ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث ہمیں سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو متوجہ کرنا ہوگا لیکن یہ صرف امریکی ہی کیوں فرانس، برطانیہ، جرمنی، روس اور چین کے شہریوں کیلئے بھی اسی طرح کی ویزا پالیسی کا اعلان کیا جانا چاہئے تاکہ پاکستان اس معاملے میں کسی واحد طاقت کے شہریوں اور سرمایہ کاروں کا محتاج نہ رہے۔

متعلقہ خبریں