Daily Mashriq

مسلم دنیا کے سیاپے اور پورا سچ

مسلم دنیا کے سیاپے اور پورا سچ

ہمارے کپتان نے اسلامی سربراہی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کی نفسیات کے عین مطابق امت مسلمہ کی درد سے بھری باتیں کیں۔ فلسطین کی آزادی، کشمیریوں پر بھارتی مظالم، گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ، مگر ہوا کیا۔ او آئی سی کے اعلامیہ میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں تھا۔ ہم لاکھ آمد آمد سے جی بہلاتے رہیں پر کڑوا سچ یہ ہے کہ مسلم امہ نام کی کوئی چیز دنیا میں وجود نہیں رکھتی۔ ایک مسجد میں ایک پیش نماز کے پیچھے نماز ادا کرسکنے والے درد دل کی دوا اس دوکان سے چاہتے ہیں جو نجانے کتنی صدیاں پہلے بند ہو چکی۔ شاعر تو کہہ سُنا گیا تھا۔ ’’وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے‘‘ ہم اگر شعر میں پوشیدہ پیغام کو سمجھ نہیں پائے تو قصور ہمارا ہے، وقت اور شاعر کا نہیں۔ ان کالموں میں پچھلے تیس پینتیس سالوں سے تواتر کیساتھ یہ عرض کرتا چلا آیا ہوں کہ برصغیر پاک وہند کے مسلمان بھی عجیب مخلوق ہیں۔ ساری اسلامی دنیا سے وکری سوچ کے مالک، ترکی میں جب عثمانی خلافت سے نجات کی تحریک چل رہی تھی تو متحدہ ہندوستان میں تحریک خلافت کا دور دورہ تھا اور تو اور گاندھی جی بھی اس تحریک پر لٹو ہوگئے۔آپ دیکھ لیجئے آج کی عرب دنیا میں مصر، اردن، مراکش اور خود فلسطین کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں، ترکی اور اسرائیل میں بھی سفارتی روابط پرجوش ہیں۔ ایران کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات آیت اللہ سید روح اللہ خمینی کے انقلاب ایران کی وجہ سے ختم ہوئے۔ ہمارے تو پاسپورٹ پر لکھا ہے ’’یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا پوری دنیا کیلئے کارآمد ہے‘‘۔ یعنی مسلم امہ کے ہندی ایڈیشن (پاک وہند کے مسلمانوں) کو کون سمجھائے اقوام کے درمیان تعلقات مذاہب کی بنیاد پر نہیں معاشی مفادات پر استوار ہوتے ہیں۔ معیشت اہم اور دنیاوی چیز ہے، وہ لوگ جو سالانہ کھربوں روپے کی وہ مصنوعات خریدتے ہوں جو یہودی سرمایہ کاروں کی صنعتوں میں تیار ہوتی ہوں جب مردہ باد اسرائیل کا نعرہ لگاتے ہیں تو ہنسی آتی ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کیجئے یا نہ کیجئے وہ ایک حقیقت ہے، ایسی حقیقت کہ خود فلسطینی صدر یہ کہہ رہے ہیں کہ فلسطین و اسرائیل تنازعہ کا واحد حل دوریاستی وجود کے اعتراف میں ہے۔ لیجئے اب فلسفہ بگارئیے اور مرگ بر اسرائیل کے نعروں سے جی بہلاتے رہئے۔ اسلامی کانفرنس کا حالیہ اجلاس کیوں ہوا؟ اس پر نقد ترین تبصرہ قطری وزیر خارجہ کا ہے۔ وہ کہتے ہیں پہلے سے تیار شدہ قرار دادوں کو ہی منظور کروانا مقصود تھا کچھ ممالک (انہوں نے نام لئے مگر میں ایک روٹی روزی والا قلم مزدور ہوں اسلئے نام نہیں لے رہا) امریکی ایجنڈے کو خطے میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ عراق کے صدر بولے، برادرکشی کی کسی نئی مہم جوئی سے صرف اور صرف اسرائیل اور امریکہ کو فائدہ ہوگا۔ اچھا ویسے لبنان، شام اور ایران تو او آئی سی کانفرنس میں مدعو ہی نہیں تھے۔ یوں اگر اب فقیر راحموں یہ کہیں کہ یہ او آئی سی کا نہیں انجمن ستائش باہمی ٹرمپ کا اجلاس تھا تو کچھ غلط بھی نہیں۔ پوری کانفرنس میں تین افراد نے میزبانوں کی توقعات کے یکسر اُلٹ گفتگو کی۔ پاکستانی وزیراعظم، قطری وزیر خارجہ اور عراقی صدر نے، باقی کے سارے سوار دہلی جا رہے تھے۔ اربوں روپے خرچ کرکے منعقد کئے جانے والے اس عالمی اسلامی میلے کا مسلمانان جہاں کو فائدہ کیا ہوا؟ سوال تلخ ہے مگر غور کی زحمت ضرور کیجئے۔ محتاط اندازے کے مطابق اس سربراہی کانفرنس پر سوا ارب ڈالر کی نقد رقم خرچ ہوئی۔ کیا اس رقم سے مجبور وبے نوا مسلمانوں کی مدد نہیں کی جاسکتی تھی؟۔ چلیں چھوڑیں آپ ناراض ہو کر کہہ دیں گے خرچہ کرنے والوں نے کیا، آپ کو کیا۔ لیکن صاحبو! سچ یہی ہے مسلم دنیا کے وسائل اللوں تللوں پر اُٹھتے ہیں یا برادرکشی کے پروگراموں پر، حرام ہے کہ کبھی کسی نے مسلم دنیا کی ابتری، غربت، جہالت اور دیگر مسائل بارے سنجیدگی سے سوچا ہو۔ سطحی جذباتیت اور سستی نعرے بازی، پچھلے ہزار سال کی تاریخ اُلٹ کر دیکھ لیجئے۔ خود کرنا کرانا کچھ نہیں اور روتے رہنا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کیخلاف سازشیں یہ کافر، وہ مشرک، فلاں غدار اور فلاں یہود ونصاری کا ایجنٹ ان بھاری بھر کم سستے فتوؤں کے سوا دامان مسلم میں اور کیا رکھا ہے۔ ستم یہ ہے کہ صبح وشام سیاپا یہ ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ خدا کے بندو! دشمنان اسلام کی مت ماری گئی ہے کہ وہ عقل وشعور، علم اور ترقی کو جوتے مارتی مخلوق کیخلاف سازشیں کرے؟ کیا ضرورت ہے، فقیر راحموں کی یہ بات درست ہے کہ سوکنوں والے سیاپے کی بجائے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک لیا کرے۔ اپنے حالات، ماضی قریب اور تاریخ کے اوراق الٹ لئے جائیں تاکہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تکلیف نہ ہو کہ اس گھر کو آگ گھر کے چراغوں سے ہی لگی ہے۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کو بند گلی میں دھکیلنے والے خود مسلمان حکمران اور ان کے مجاور طبقات ہیں۔ فرقہ واریت، جہالت وپسماندگی، یہ تین بڑے مسئلے ہیں اسلامی دنیا کے، رونا یہ ہے کہ دشمنان اسلام ہمیں متحد نہیں ہونے دیتے۔ ارے بھائی لوگو! پہلے ان کتابوں کو سمندر برد کرو جن کی عبارتیں وحدت اور شرف انسانی کی توہین کا زندہ ثبوت ہیں۔ اپنے وسائل برادرکشی اور بالادست طبقات کی عیاشی پر لٹانے کی بجائے ترقی وخوشحالی اور تحقیق پر صرف کرو۔ آج کی مسلم دنیا یہود نصاری کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کی سب سے بڑی خریدار ہے۔ ہے کسی میں اخلاقی جرأت کہ وہ مسلمان حکمرانوں سے دریافت کرے کہ پچھلے ایک سال کے دوران، امریکہ روس، چین، فرانس اور جرمنی سے مجموعی طور پر 37 ارب ڈالر کا اسلحہ کس نے خریدا؟ کیا یہ 37 ارب ڈالر ان مسلم ممالک کے عوام کی تعمیر وترقی پر صرف نہیں کئے جاسکتے تھے؟ ہے کوئی جو سوال کرنے کی جرأت کرے۔ بس رونے دھونے اور طے کردہ بدی کی قوتوں کو بددعائیں دینے کے سوا مسلمان کر بھی کیا سکتے ہیں۔

صاحب! سچ یہ ہے کہ حق زندگی ادا نہیں ہورہا بلکہ توہین آدمیت کا دور دورہ ہے، پوری مسلم دنیا میں۔

متعلقہ خبریں