Daily Mashriq

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

بڑا جی خوش ہوا حالی سے مل کر

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

مولانا الطاف حسین حالی نے اس شعر میں خود اپنی تعریف کر کے کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا، ہاں اگر ایسی حرکت کوئی نثرنگار کرے تو اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہو جائے جبکہ شعرا کو ایسا کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور اکثر بلکہ بیشتر شاعروں کے ہاں خود تعریفی کے حوالے سے شعر کہنا عام سی بات ہے جسے ادب وشاعری میں شاعرانہ تعلی کہا جاتا ہے، اس لئے اگر کوئی شاعر اس قسم کی بڑھک مارتا ہے اور اس حوالے سے کہا ہوا شعر بھی خوبصورت ہو تو محفل شعر وادب یا پھر مشاعرے میں اس کی خوب توصیف ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں کچھ برسوں سے سیاست کے میدان میں بھی اسی قسم کی ’’سیاسی تعلی‘‘ کا استعمال کیا جا رہا ہے جس پر اگر بڑھک مارنے کے ہنگام کسی لیڈر کے ’’پجاری‘‘ خود بخوب تالیاں پیٹ لیتے ہیں اور اسے داد دیتے ہیں تو بعد میں یہی بیانات حالات بدلتے ہی اس شخص کیلئے سوہان روح بن جاتے ہیں کیونکہ بدقسمتی سے سیاسی زندگی میں صورتحال اس طرح بدل چکی ہے کہ مولانا حالی کے محولہ بالا شعر کا دوسرا مصرعہ استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ اب وہ دور نہیں رہا اور غالباً یہ ایوبی آمریت کے آخری دور تک ہی تھا یا شاید کچھ بعد تک کہ سیاسی رہنماؤں کے اندر اختلافات تو ہوتے تھے مگر یہ سیاست کی حد تک تھے جبکہ ذاتی طور پر ان کے بیچ میں مراسم پر رشک آتا تھا، مگر پھر حالات نے کروٹ کیا لی کہ سیاسی اختلافات سیاسی مخاصمت میں تبدیل ہوتے چلے گئے اور پھر یہ لوگ ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے تک کے روادار نہ رہے، گویا صورتحال مرحوم مقبول عامر کے اس شعر کے مانند تھی کہ

میں جنگ جیت کے تم کو معاف کردوںگا

تمہاری سوچ سے بڑھ کر یہ دل کشادہ ہے

پھر حالات میں بدلاؤ آتا گیا اور وہ بڑے قد کے سیاستدان جن میں نوابزادہ نصراللہ خان، خان عبدالولی خان، سردار شوکت حیات، ممتاز دولتانہ، غوث بخش بزنجو، نواب اکبر بگٹی اور اسی قبیل کے سیاسی زعماء دنیا سے اٹھ گئے تو پیچھے وسیع النظری کا مظاہرہ کرنے والے بہت کم رہ گئے اور ذاتی اناؤں کے اسیروں کی فوج ظفر موج سیاست پر حاوی ہوتی گئی۔ جن کا کام ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک کہنا، ملک دشمن قرار دینا اور اسی قسم کے القابات سے ایک دوسرے کو نوازنا اب عام سی بات ہوگئی ہے۔ تاہم آج کے کالم کی اصل غرض وغایت کچھ اور ہے وہ سیاسی مارکیٹ میں لگنے والا ایک اور نعرہ یا بڑھک ہے جو وفاقی وزیر واٹرریسورسز فیصل واوڈا نے ماری ہے، جس نے چند برس پہلے کی کچھ اور بڑھکوں کی یاد دلا دی ہے، فیصل واوڈا نے لندن جا کر نعرہ مستانہ بلند کیا ہے کہ اسحاق ڈار اور شہباز شریف کو واپس لینے آیا ہوں، ان کے گلے میں ہاتھ ڈال کر ساتھ لے جاؤںگا، فیصل واوڈا نے اور بھی بہت سی باتیں کی ہیں اور انہی کی وجہ سے ماضی میں شہباز شریف کی وہ بڑھکیں یا د آگئیں ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد زرداری کو لاہور کے ایک چوک میں الٹا نہ لٹکایا تو میرا نام بدل دینا، اگرچہ انہیں اقتدار بھی ملا اور ان کے پاس اختیارات بھی تھے مگر اختیارات کیساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں جو آئینی تقاضوں کے دائرے میں محدود ہوجاتی ہیں، اسلئے نہ تو وہ زرداری کو لاہور کے کسی چوک میں لٹکانے میں کامیاب ہوسکے نہ ہی ان کا نام بدلنے کی نوبت آئی۔ اسی طرح اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے بھی بہت سے وعدے کئے تھے مگر آج اس کے بالکل الٹ ہو رہا ہے اور تو اور خود واوڈا اور ان کے لیڈر ایم کیو ایم کے لیڈر الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے ’’ثبوت‘‘ لیکر لندن میں متعلقہ حکام سے ملے تھے اور الطاف حسین پر کئی طرح کے الزامات عاید کرتے ہوئے چاہا تھا کہ انگلینڈ کی حکومت الطاف حسین کو لندن سے بے دخل کر دے مگر آج تک اس کو اس کے گھر سے بے دخل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، الٹا اب اسی الطاف حسین کی جماعت ایم کیو ایم کو اپنی حکومت میں اہم وزارتیں دینے پر مجبور ہوچکے ہیں، اس لئے سیانوں نے کہا ہے کہ بڑا بول نہ بولیں کسی بھی وقت گلے میں اٹک سکتا ہے، بقول حبیب جالب

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

ویسے بھی فیصل واوڈا کیخلاف حال ہی میں لندن میں جائیدادیں بنانے اور انہیں ڈکلیئر نہ کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں جن کی جانچ پرکھ ابھی باقی ہے اگرچہ وہ اس سے انکار کر رہے ہیں تاہم یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا، بہرحال انہوں نے لندن جا کر جو بڑھک ماری ہے اس قسم کی بڑبولیاں ہماری سیاسی تاریخ کا پہلے بھی حصہ رہی ہیں اور جہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے ان کے حوالے سے تو پارٹی کا بھی موقف ہے کہ وہ بجٹ سے پہلے وطن واپس آجائیں گے اس لئے ان کے گلے (گریبان) میں ہاتھ ڈالنے کی تو فی الحال نوبت نہیں آئی چہ جائیکہ وہ بجٹ سے پہلے واپس نہ لوٹیں، البتہ اسحاق ڈار کا معاملہ کچھ الگ ضرور ہے ۔اللہ کرے کہ فیصل واوڈا اپنے دعوے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں سرخرو ہو جائیں، تاہم گزارش ہے کہ اب ہماری سیاسی قیادت کو بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی زبانوں پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ بعد میں انہیں بھی شہباز شریف کی طرح طعنے نہ سننے پڑیں۔

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں؟

متعلقہ خبریں