Daily Mashriq

رمضان رخصت علتیں باقی ، رحمان پورگلگت کے مسائل

رمضان رخصت علتیں باقی ، رحمان پورگلگت کے مسائل

افسوس اس بات کا ہے کہ رمضان المبارک گزر گیا مگر علتیں باقی ہیں، روزے کے دوران بھی ملاوٹ، جلعسازی، ذخیرہ اندوزی، بدمعاملگی، غیبت، جھوٹ، فریب اور دغابازی سے ہم باز نہ آئے، مالک کائنات جیسی علیم وبصیر ذات کی توبہ استغفار کی حکمت ہی اس لئے رکھی ہے بلکہ یقیناً اس کی ضرورت اس لئے ہے کہ بندہ بشر باز آنے والا نہیں مگر جب باز آئے اور مالک کائنات سے رجوع کرے تو جس وقت اور جس لمحہ رجوع کرے معافی تلافی ہو جاتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو توبہ واستغفار لازم کر لینا چاہئے اور بندہ بشر کو ہر وقت اپنی غلطی پر ندامت اور بخشنے والے پروردگار سے بخشش کا مکمل یقین رکھتے ہوئے اپنے آپ کو علتوں سے نکالنے کی پوری کوشش کرتے رہنا چاہئے۔صدام حسین لنڈی کوتل سے شکایت کرتے ہیں کہ ان کے علاقے کے سارے گرلز سکول بند ہیں، حکام سے شکایت کریں تو دھمکیاں دیتے ہیں اور وارنٹ نکالتے ہیں۔ یقین تو نہیں آتا کہ چوری اور سینہ زوری والی بات ہوگی، بہرحال ایک محترم قاری کی شکایت کو بلاثبوت جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا۔ مشیر تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ اس الزام کی تحقیقات ضرور کروائیں، اگر صداقت ہو تو سخت کارروائی کی جائے۔ مسئلہ اہم اور قابل توجہ ہے لیکن شکوک وشبہات کے باعث اس پر زیادہ تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ تحقیقات ہی سے بہتر حل سامنے آسکتا ہے۔ایک قاری نے بڑی اچھی بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کا طرزعمل ہمارے معاشرے اور تعلیمی نظام کے ناقص ونامکمل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے جو معاشرے کو اعلیٰ تنخواہ دار ڈاکٹر تو دیتے ہیں لیکن مسیحا نہیں۔ واضح رہے کہ یہ میسج ان دنوں ملا تھا جب ڈاکٹر احتجاج اور ہڑتال پر تھے۔ ڈاکٹر ہمارے معاشرے کے جوہر قابل ہوتے ہیں، اپنا خون جلا کر محنت کر کے وہ ڈاکٹر بنتے ہیں، اس کے بعد بھی وہ پڑھتے اور پڑھتے ہی رہتے ہیں، ڈاکٹرز ہمارے لئے قابل احترام ہوتے ہیں، وہ اچھے ڈاکٹر نہ بھی ہوں تب بھی مسیحا ہیں، خود ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ یہ معاشرہ یہ قوم یہ لوگ ان کو کتنی عزت واحترام دیتے ہیں، وہ بھی اگر اپنے روئیے میں تھوڑی سی تبدیلی لائیں اور کلینک کی طرح ہسپتالوں میں بھی مریضوں کیساتھ اپنا رویہ بہتر کریں، ہمدردی کا راستہ اپنائیں تو واقعی میں مسیحا کہلائیں۔ مسیحائی بڑا منصب ہوتا ہے، اسے بڑی ظرف اور عاجزی سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے وگرنہ ڈاکٹر تو ڈنگروں کے معالج کو بھی کہا جاتا ہے۔ سلوتری کوئی عیب دار پیشہ نہیں، مویشی بھی جاندار اور مخلوق خدا ہیں، ان کا علاج کرنا بھی عبادت ہے، مقصود حقارت وتذلیل نہ تھی تقابل تھا۔ایک قاریہ نے واقعی ایک سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے ان کا کہنا ہے کہ سالانہ امتحانات میں شامل ہوکر سند حاصل کرنے والوں کے نمبر کم آتے تھے جبکہ بی ایس پروگرام سمسٹر نظام کا ہونے سے نمبر بہت ہی اعلیٰ آتے ہیں۔ جب آسامیوں کیلئے این ٹی ایس ٹیسٹ میں ٹیچنگ یا دیگر کے ٹیسٹ کے بعد جب میرٹ بنتا ہے تو بی ایس کے طلبہ اگر صرف پاس نمر بھی لیں تو ان کا میرٹ بڑھ جاتا ہے اور سالانہ نظام والے ٹیسٹ میں زیادہ نمبر لینے کے باوجود پیچھے رہ جاتے ہیں، کسی قسم کا کوٹہ مختص کرنے کی تجویز بھی مناسب نہیں اور نہ ہی کوئی الگ فارمولہ کی تجویز دی جاسکتی ہے۔ مسئلہ جائز اور قابل توجہ ہے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ بی ایس کے طلبہ سے مسلسل کام لیا جاتا ہے اور مسلسل محنت اور حاضریاں پوری کرنے کی شرط کے باعث وہ بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں اور ان کے متنوع مضامین بھی ان کو امتحان اور انٹرویو میں فائدہ دیتے ہیں یہ سب کچھ نظام کی وجہ سے ہے جن کو اس نظام کے تحت تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ ملا ان کا کیا قصور۔ اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ جدید طرزتعلیم کے باعث سینئر ٹیچرز اپنی کمزوری کا احساس کرتے ہوئے خود ہی قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے رہی ہیں۔ وگرنہ بی ایس کے نظام امتحانات اور سالانہ نظام کے امیدواروں کا مقابلہ واقعی مشکل ہے۔ خوشی ومسرت کا باعث امر یہ ہے کہ میرے ایک قاری نے گلگت بلتستان سے میسج کیا ہے جہاں اخبار غالباً دوسرے دن پہنچتا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ان کا یونین رحمان پور میں زندگی کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ بجلی، سکول، مرکزصحت جیسے بنیادی ضروریات وسہولیات یا تو موجود نہیں یا پھر ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ جب بھی اس طرح کا کوئی پیغام موصول ہوتا ہے تو میں سوچتی ہوں ایک ہم ہیں کہ خاص سہولیات، آسائش اور بہتر ملازمت کے باوجود بھی ناشکری سے باز نہیں آتے اور ایک ہمارے وہ بہن بھائی ہیں جو سخت حالات میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک ہی ملک میں یہ تفاوت یہ امتیاز اور یہ ناانصافیاں ہی ہیں جو محرومیوں اور اندھیروں کو جنم دیتے ہیں مگر اس کے باوجود ہم شہری لوگ ہی ناشکرے اور غیرمطمئن ہیں۔ وہ جن کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی، وہ پھر بھی مطمئن اور مسرور زندگی گزارتے ہیں جس دن ان کو ہمارے برابر کی سہولیات ملیں اس وقت وہ کتنے مطمئن اور مسرور ہوں گے۔ میرے خیال میں تو شہر کی یہ چکاچوند مصنوعی اور ان کی زندگی حقیقی ہے، یہ تو میرا خیال ہے ورنہ حق تو ان کا ہمارے ہی برابر بنتا ہے اور یہ حق ان کو دینا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں