Daily Mashriq

پشاور میں سوئمنگ پول کسی نعمت سے کم نہیں

پشاور میں سوئمنگ پول کسی نعمت سے کم نہیں

صرف پشاور اور خیبر پختونخوا ہی نہیں پورے کا پورا ملک سخت گرمی کی لپیٹ میں ہے، میرے شہر میں گرمی بلا کی ہے، یوں ڈربے نما گھروں میں مقید رہنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ گھرو ں کی عورتیں اور بڑے بوڑھے تو کسی طور گزارہ کررہے ہیں اور سخت گرمی میںگھروں سے نکلنے کا کوئی چارہ ہی نہیں، یوں گھروں میں دبکے بیٹھنے میں ہی عافیت ہے لیکن یہ تو عورتوں اور بزرگوں کی مجبوری ہوسکتی ہے۔ نوجوانوں کو تو اس گرمی کا توڑ بھی چاہئے اور آؤٹنگ بھی لہٰذہ وہ گھروں سے باہر نکل جاتے ہیں اور ان کی اکثر کوشش ہوتی ہے کہ دریاؤںکا رخ کیا جائے۔ پہلا آپشن تو دریائے سندھ اور دریائے کابل کا سنگم اٹک پل کے پاس پکنک پوائنٹ ’’کنڈ پارک‘‘ ہے اور دوسرا چوائس سردریاب ہے اس کے علاوہ بھی جہاں جہاں دریائے کابل پر پکنک منائی جاسکتی ہے یا نہایا جا سکتا ہے ہر اس مقام پر یہ منچلے نوجوان پہنچ ہی جاتے ہیں چونکہ اس موسم میں دریاؤں میں پانی کا بھاؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہوتا اور دوسرا منچلے نوجوان پکنک منانے میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں تو پھر انجام سنگین حادثہ پر ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں کا دریا میں نہانے کے اناڑی پن اور دریاؤں پر کسی قسم کے لائف سیونگ سکواڈ کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ ڈوب جاتے ہیں، والدین کی بسیار تلاش کے بعد غوطہ خور کئی دنوں بعد ان کی نعشیں ہی نکال پاتے ہیں۔اس طرح کے دل ہلا دینے والے حادثات کی وجہ سے اکثر والدین نوجوانوں کو دوستوں کیساتھ گرمی کے دنوں میں دریاؤں پر جانے سے منع کر دیتے ہیں، اب متبادل کے طور پر سوئمنگ پول ہی رہ جاتے ہیں جو قدرے محفوظ ہوتے ہیں، یہاں پر پانی کا زور بھی اتنا نہیں ہوتا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہاں لائف سیونگ سکواڈ ہر دم موجود ہوتا ہے۔ سو نوجوان والدین کو منا ہی لیتے ہیں کہ ہم نے کم ازکم شہر کے پارکوں میں بنے سوئمنگ پول میں ہی نہانے دیا جائے۔ پشاور شہر کے چند ہی پارک ایسے ہیں کہ جہاں پر نہانے کیلئے سوئمنگ پول موجود ہیں ان میں شاہی باغ، حیات آباد فیز ٹو کا مصنوعی سوئمنگ پول ہے اور خوشحال پارک قدرتی شامل ہیں۔ یاد رہے یہ سب کے سب پول صرف مردوں کیلئے ہیں عورتوں کیلئے اس طرح کی سہولت میرے علم میں نہیں۔ خوشحال پارک کا تو صدیوں پرانا سوئمنگ پول ہے اور قدرتی بھی ہے اس میں ہر وقت صاف اور شفاء والا پانی ہوتا ہے اور برسوں پہلے سے لوگ دور دور سے یہاں گرمی کی وجہ سے لگنے والی مختلف بیماریوں سے نجات کیلئے نہانے آتے ہیں۔ ان میں گرمی دانے اور خارش وغیرہ قابل ذکر ہیں جبکہ شاہی باغ کا سوئمنگ پول خالصتاً ضلعی انتظامیہ کے اخراجات سے بنایا گیا اور انہی اخراجات سے اس کی دیکھ بھال بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں پر جدید طرز کے پھسلن کے سلائیڈ بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ یہاں پر عمر کے لحاظ سے تین مختلف قسم کے سوئمنگ پول ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمر کے بچے، پانچ سے دس سال کی عمر کے بچے اور تیسرا اس سے بڑے بچے اور جوان بھی نہا سکتے ہیں۔ ہر ایک کیلئے سلائیڈ یا ڈھلوان بھی مختلف سائز کی ہے۔ پشاور سٹیڈیم میں بھی سوئمنگ پول ہیں لیکن وہ اکثر بند ملیں گے جس کی کئی وجوہات ہیں ان میں بارہا انتظامیہ اور سوئمنگ کی تنظیموں کے درمیان نورا کشتی کی وجہ ہوتی ہے۔سوئمنگ پول چاہے حکومت کا ہو یا غیرسرکاری گرمی کے موسم میں نوجوانوں اور بچوں کا سوئمنگ پول پر جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں اور مزے سے نہانے کا شوق بھی اور ان کی خواہش صحت مند روئیے کی علامت ہیں۔ ایک تو گرمی اور اوپر سے گرمی کی چھٹیاں بھی ہوں تو یوں بچے گھروں میں کہاں قید رہتے ہیں۔ والدین کی تو پوری کوشش ہوتی ہے کہ بچے گھروں میں ہی رہیں اور ان ڈور گیمیں کھیلیں یا ٹی وی دیکھتے رہیں۔ ان سب گیموں سے صرف ذہنی ورزش ہی ہوتی ہے جسمانی ورزش نہیں ہو پاتی جس سے چھٹیاں گزر جانے کے بعد بچے ڈھیلے ڈھیلے اور لیزی ہو جاتے ہیں، اس طرح چھٹیاں ختم ہوجانے پر جب سکول جاتے ہیں تو نڈھال، لاغر، سست اور کمزور لگتے ہیں۔ یوں گرمی کی چھٹیوں میں سوئمنگ پول جانا اور نہانا جسمانی ورزش کا ایک انمول متبادل ذریعہ ہے۔ بچوں کو سوئمنگ پول ضرور جانے دیں لیکن والدین خاص خیال رکھیں کہ بچوں کو کبھی بھی اکیلا یا دوستوں کیساتھ نہ جانے دیں کیونکہ بچے اکثر شرارتی ہوتے ہیں اور ایسی ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ دوسرے دوست کو ڈبو دینے سے بھی گریز نہیں کرتے یا لمبی ڈبکی دے دیتے ہیں جس سے سانس بند بھی ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ کو چاہئے کہ جن لوگوں کو کسی قسم کی جلدی بیماری یا خارش وپھوڑے وغیرہ ہوں انہیں پول استعمال نہ کرنے دینا چاہئے۔ سوئمنگ پول استعمال کرنے کیلئے علیحدہ کپڑے استعمال کریں اور جن کپڑوں میں آئے ہیں وہ جراثیم سے بھرے ہوتے ہیں انہیں استعمال کرنے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ بڑوں کو چھوٹے بچوں کے پول میں جانے سے منع کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ دھڑم چوکھڑیاں مچاتے ہیں جس سے بچے حراساں ہوسکتے ہیں، چھوٹے بچوں کو آسانی سے سیکھنے میں دشواری ہوتی ہے اور ان کا اعتماد بحال ہو نہیں پاتا۔ دس سال کے کم عمر بچوں کیلئے پول کے اوپر شیڈ بھی ہونا چاہئے کیونکہ ان کی نازک جلد اتنی تیز اورکڑی دھوپ کا سامنا نہیں کرسکتی اور براہ راست دھوپ کو برداشت نہیں کرسکتی۔ بچوں کیساتھ آنے والے والدین کیلئے بیٹھنے کیلئے بھی معقول اور سایہ دار انتظام ہونا چاہئے اور پینے کیلئے صاف اور ٹھنڈا پانی ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں