Daily Mashriq

یمن میں بیرونی مداخلت

یمن میں بیرونی مداخلت

یمن2011 سے اقتدار کی منتقلی کے ایسے جہنم میں دھکیلا گیا ہے کہ اب یہ خطہ جو پہلے ہی عرب دنیا میں غریب ترین تھا، اب ایتھوپیا بن چکا ہے، ایتھوپیا سے آنیوالی تصاویر اور اب یمن سے آنیوالی تصاویر میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ روح تڑپتی ہے لیکن یہ محض عمومی رویہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے عالمی برادری خصوصی طور پر مسلمان ممالک سے اپیل کی ہے کہ ایران کو یمن، شام اور بحرین میں دہشتگردوں کی امداد سے روکا جائے۔ عرب لیگ اور خلیجی ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ سلمان نے کہا کہ تہران مذکورہ ممالک میں مالی امداد کیساتھ ہتھیار بھی فراہم کر رہا ہے۔ ایران نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سارے الزامات من گھڑت ہیں۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو مگر خود ایران کے اندر سے یہ گواہی موجود ہے کہ ایران ایسا ہی کچھ کررہا ہے جس کی بات شاہ سلمان نے کی ہے۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر ایڈمرل علی فداوی نے جمعہ کے روز ایران کے چینل سے نشر ہونے والے انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ان کا ملک یمنی حوثیوں کی ہر ممکن مدد کررہا ہے۔ علی فداوی نے کہا ہے کہ یمن کی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران اتنی مدد نہیں کرپا رہا جتنی وہ چاہتا ہے۔ علی فداوی نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ایران کا اسلامی انقلاب بالکل اسی طرح یمن میں گھستا جس طرح وہ شام میں گیا ہے تو پھر تصور کریں کہ یمن کی کیا صورتحال ہوسکتی تھی؟ علی فداوی کا انٹرویو بی بی سی فارسی نے بھی رپورٹ کیا ہے۔ علی فداوی کے اس انٹرویو کی روشنی میں دیکھا جائے تو شاہ سلمان کی تشویش بالکل درست ہے کہ ایران دیگر ممالک میں دراندازی کا مرتکب ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑگیا ہے۔دنیا کے سارے ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا نظام منتخب کریں اور اس کے تحت زندگی گزاریں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ملک میں اپنے نظریات کی برآمد کیلئے دہشتگردوں کی مالی مدد کیساتھ ساتھ ان کو ہتھیار بھی فراہم کرے۔ یمن میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے اصل متاثرین یمنی ہی ہیں۔ سعودی عرب ہو یا ایران یہ تو پراکسی وار لڑ رہے ہیں مگر اس جنگ میں یمن کا حشر برا ہوگیا ہے۔ ہزاروں یمنی جان سے گئے جبکہ لاکھوں اپنے گھر بار کے ہوتے ہوئے بھی دربدر ہیں، کچھ ایسی ہی صورتحال شام کی ہے۔ اگر یمن اور شام میں رہنے والوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق دیدیا جاتا اور ایران مداخلت نہ کرتا تو یہاں پر بھی امن اور سکون ہوتا۔ ایرانی مداخلت کی پالیسی بنانے والے کیا یہ بتاسکتے ہیں کہ ان کی اس پالیسی سے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا۔ مداخلت کی اس پالیسی کا صرف اور صرف ایک نتیجہ نکلا ہے اور وہ ہے مسلمان ممالک کی تباہی۔ اس پورے قضئے میں خوشحال ترین مسلمان ممالک تباہی کا شکار ہوگئے ہیں جس سے مسلمانوں کی اجتماعی قوت ٹوٹ کر رہ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں اب پوری دنیا میں مسلمان ابتلا کا شکار ہیں۔ اسرائیل کے حوصلے پوری طرح بلند ہیں اور اب وہ پوری ڈھٹائی کیساتھ روز مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے۔ میانمار جیسے ممالک بھی اب شیر ہوچکے ہیں اور اس نے پوری روہنگیا نسل کو یا تو ملک بدر کر دیا ہے یا پھر مار دیا ہے۔ بھارت میں مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کے گوشے گوشے میں گجرات کا ری پلے ہونے کے اندیشے سامنے آرہے ہیں۔ اب دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں بچا ہے جہاں پر مسلمانوں پر نفرت انگیز حملے نہ ہو رہے ہوں۔ جب تک مسلمان متحد تھے، کسی کو بھی ایسا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ اس تناظر میں ایران کو سمجھنا چاہئے کہ اس کی مداخلت کی اس پالیسی کے مسلمانوں پر کتنے خطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی خطے میں جنگ جیسی صورتحال ہے اور کسی بھی لمحے یہ جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اگر ایران مسلم ممالک میں دراندازی اور مداخلت کی پالیسی پر نظرثانی کرلے تو عرب ممالک کا بھی سینکڑوں ارب ڈالر کا جنگی بجٹ مختصر ہوسکتا ہے جو مسلم امہ ہی کے کام آئے گا۔ اس سے ایران کو بھی دیگر اسلامی ممالک کی حمایت حاصل ہوگی اور وہ امریکا کی جانب سے عائد کردہ بے جا پابندیوں کا بھرپور مقابلہ کرسکے گا۔ ایران کی جانب سے مسلم ممالک میں مداخلت کو کہیں سے بھی عاقلانہ فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس سے ایران سمیت سارے ہی اسلامی ممالک کا سراسر نقصان ہے البتہ اس سے وہ سارے مغربی ممالک اور روس بہت خوش ہیں جو سینکڑوں ارب ڈالر کا اسلحہ اسلامی ممالک کو فروخت کر رہے ہیں اور جن کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح ان ممالک کے درمیان جنگ شروع ہو جائے۔ہم سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ کسی بھی قسم کا جذباتی اور عاجلانہ فیصلہ کرنے کے بجائے اس پر ٹھنڈے دل کیساتھ کوئی حکمت عملی ترتیب دیں جس سے خطے میں امن دوبارہ سے بحال ہوسکے۔ ہم ایران سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ مسلم ممالک میں مداخلت کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور یہود وہنود جیسے مشترکہ دشمنوں کیخلاف مسلمانوںکا بلاک تشکیل دینے میں اپنی قوتوں کو صرف کرے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ صورتحال کا سارا فائدہ اسرائیل اور امریکا کو پہنچ رہا ہے۔ امت مسلمہ کے سرکردہ ممالک کو حقائق کا جائزہ لیکر اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، قیام امن کیلئے بالخصوص پاکستان اور ترکی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں