Daily Mashriq

فلسطین میں 24 سال بعد سعودی عرب سے مختلف دن پر عید

فلسطین میں 24 سال بعد سعودی عرب سے مختلف دن پر عید

غزہ: فلسطین میں چاند دیکھنے میں تضادات کی وجہ سے 1994 کے بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب سے مختلف دن پر عید مناائی جارہی ہے۔

خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بعض فلسطینی شہریوں نے کہا کہ یہ فیصلہ شاید امریکا کی جانب سے اسرائیل- فلسطین امن منصوبہ پیش کرنے سے پہلے سیاسی تناظر میں لیا گیا۔

فلسطینی حکام کی جانب سے عیدالفطر سے متعلق اس دعوے کو مسترد کیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر فلسطین میں سعودی عرب سے مختلف دن پر عید منانے پر مذاق بھی اڑایا گیا۔

یروشلم اور دیگر فلسطینی علاقوں کے مرکزی مفتی نے سرکاری میڈیا پر پیر (3 جون) کو تصدیق کی تھی کہ شوال کا چاند نظر نہیں آیا اور عید 5 جون (آج ) منائی جائے گی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں عیدالفطر کل (4 جون کو) منائی گئی تھی جبکہ ایران میں آج منائی جارہی ہے۔

یروشلم میں سپریم اسلامک کونسل کے سربراہ عکرمہ صابری نے کہا کہ 1994 میں فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سعودی عرب سے مختلف دن پر عید منائی جارہی ہے۔

انہوں نے مذکورہ فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ' فلسطین میں ہمارے پاس سعودی عرب جیسے آلات موجود نہیں اور ہمارے ملک کی جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے چاند دیکھنے میں مدد نہیں ملتی۔

عکرمہ صابری نے سیاسی مسائل کے دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ سعودی عرب کے قریبی اتحادی ملک مصر میں بھی آج عید منائی جائے گی۔

دوسری جانب فلسطین کے ایک گروپ نے مفتی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے 4 جون کو عید منانے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ فلسطین کی جانب سے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اسرائیل کی حمایت کا الزام عائد کیا جارہا ہے اور وہ امریکا کے امن منصوبے کو بلاک کرنا چاہ رہے ہیں۔

سعودی عرب مذکورہ مسئلے پر بحرین میں 26-25 جون کو امریکا کی جانب سے منعقد کردہ اقتصادی کانفرنس میں شرکت کرے گا لیکن فلسطین نے کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے اور دیگر عرب ممالک سے بھی یہی اصرار کیا ہے۔

بعض فلسطینی شہریوں نے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شبہ ظاہر کیا کہ علیحدہ عید منانے کا فیصلہ ایک پیغام تھا۔

فیس بک پر صارف علی ماؤزی نے اس فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ امریکا کی اس ڈیل آف سنچری کی موجودہ فضا میں جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں وہ غلط ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین میں قیام امن سےمتعلق منصوبے کو ڈیل آف سنچری کہا جاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں