سینٹ انتخابات

سینٹ انتخابات

سینیٹ انتخابات کے کامیاب انعقاد سے ملک میں جمہوریت کی جڑیں مزید مضبوط ہوگئیں۔ حالانکہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سیاسی صورتحال میں بعض اہم تبدیلیوں کے بعد یہ تاثر عام ہو چلا تھا کہ سینٹ کے انتخابات سے قبل ہی حکومت کاخاتمہ ہوسکتا ہے اور اس مقصد کے لئے اسمبلیوں تک کو تحلیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ تاثر اس لئے بھی تقویت پکڑتا رہا کہ اپوزیشن کی بعض جماعتیں تواتر کے ساتھ اس قسم کا پروپیگنڈہ کرنے کی راہ پر گامزن تھیں کہ کچھ بھی ہو جائے بر سر اقتدار جماعت یعنی مسلم لیگ(ن) کو سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیابی کی راہ میں روڑے اٹکائے جائیں گے تاکہ وہ آئین میں من پسند تبدیلیاں کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ دیکھا جائے تو یہ نظریہ اتنا بے بنیاد بھی نہیں تھا کیونکہ موجودہ صورتحال اسی نہج پر جاتی دکھائی دے رہی ہے یعنی اگر انتخابات کا انعقاد تو نہیں روکا جاسکا تاہم لیگ (ن) کو عدالتی فیصلے کے تحت بطور جماعت سینٹ انتخابات سے باہر نکالنے میں ضرور کامیابی حاصل کرلی گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ لیگی امیدواروں کو آزاد امیدواروں کے طور پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت مل تو گئی ہے اور لیگی حلقے بڑے دھڑلے سے یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ مخالفین کے تمام ہتھکنڈے ناکامی سے دو چار ہوگئے ہیں۔ جبکہ گزشتہ روز وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے ایک اہم پارٹی اجلاس میں بعض اراکین کو یہ شکایت کرتے بھی سنا گیا کہ انہیں نامعلوم ٹیلی فون کالز موصول ہو رہی ہیں جس پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اس لئے اب بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ آزاد امیدواروں کے طور پر جو لیگی حمایت یافتہ اراکین سینٹ کے لئے منتخب ہوچکے ہیں وہ آئینی تقاضوں کے مطابق جب تک اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے لیگ (ن) میں باقاعدہ شمولیت کے لئے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ نہ کریں تب تک حالات کوئی بھی رخ اختیار کرسکتے ہیں اور یوں لیگ(ن) کے اوپر یقین اور بے یقینی کی تلوار لٹکتی رہے گی۔ اگرچہ حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے اور پارٹی کے اہم رہنما پر امید ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی مبینہ سازشیں مکمل طور پر ناکامی سے دو چار ہوچکی ہیں۔ سینٹ کے انتخابات میں بعض اپ سیٹ بھی دیکھنے کو ملے جبکہ بعض رہنمائوں کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کا ایک بار پھر اعادہ کیاگیا ہے اور انتخابات سے پہلے ہی ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے جو خبریں آتی رہی ہیں ان کی تصدیق ہوئی ہے۔ عمران خان نے اسے شرمناک قرار دیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی اس حوالے سے اپنے بیان میں تشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ بعض سیاسی رہنمائوں کے بیانات سے یہ مترشح ہوا ہے کہ ایک ووٹ کی قیمت 8کروڑ تک پہنچ گئی تھی جو سیاسی طور پر قابل غور اور چشم کشا ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ جو لوگ ایک ایک ووٹ کروڑوں کاخرید کر مجموعی طور پر اربوں روپے خرچ کرکے ایوان بالا میں براجمان ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں ان سے ملک و قوم کی خدمت کی توقع تو ایک طرف خدشہ اس بات کا ہے کہ کہیں وہ خدانخواستہ آگے جا کر قوم و ملک کو قابل فروخت ہی گرداننا نہ شروع کردیں۔ انتخابات میں سب سے بڑا اپ سیٹ ایم کیو ایم کو برداشت کرنا پڑا ہے جو سینٹ انتخابات سے قبل ہی دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے بڑی مشکل سے صرف ایک نشست نکال سکی ہے۔ پارٹی کے ایک دھڑے کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج ایم کیو ایم کا نظریہ ہار گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی پیپلز پارٹی نے گہری چال چل کر بہتر نتائج حاصل کئے ہیں جبکہ حکمران تحریک انصاف کے حوالے سے ایک بار پھر اپنے سابق حلیفوں کے ساتھ چال چلنے کی خبریں آئیں لیکن اس کے باوجود وہ مولانا سمیع الحق کو کامیاب کرانے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ اسی طرح لیگ (ن) کے تین ایم پی ایز کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیاگیا ہے۔ اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اور سینٹ کے موجودہ چیئر مین رضا ربانی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جہاں وہ بڑی مشکل سے اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکے۔ بہر حال اب جبکہ سینٹ انتخابات بالآخر تکمیل پذیر ہوگئے ہیں آگے دو اہم مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلا مرحلہ تو چیئر مین سینٹ کے انتخاب کا ہے ۔ نظر بہ ظاہر تو لیگ (ن) اکثریتی جماعت ہونے کے ناتے بعض حلیفوں کے ساتھ مل کر یہ مرحلہ طے کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے جبکہ لیگ (ن) کے موجودہ حلیفوں یعنی مولانا فضل الرحمن اور اچکزئی کے ساتھ ساتھ بزنجو وغیرہ کی مدد سے یہ مرحلہ مکمل کیا جاسکتا ہے اور فاٹا کے ساتھ تعلق رکھنے والے ارکان کی بھی خاصی اہمیت ہوگی جبکہ فاٹا ارکان کا ٹریک ریکارڈ ہمیشہ حکمران جماعت کے ساتھ تعاون پر مبنی ہوتا ہے تاہم جو قوتیں لیگ (ن) کو سینیٹ کے انتخابات سے باہر رکھنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں بعض تجزیہ کاروں کے مطابق وہ اب بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہوئے صورتحال کو تبدیل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرسکتی ہیں ۔ جبکہ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے اور اس کے بارے میں بعض باخبر حلقے اشارے بھی دے رہے ہیں کہ لیگ (ن) چیئر مین کا عہدہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کو پیش کر کے باہمی تعاون کی راہ اختیار کر سکتی ہے تاکہ آئین میں اہم ترامیم کی راہ ہموار کی جا سکے ۔ اس لئے اب یہ دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ، تاہم اگر ایسا ہوا بھی تو آئین میں ممکنہ ترامیم اتنی بھی آسان نہیں ہوں گی اور نہ صرف تحریک انصاف بلکہ جماعت اسلامی بھی اس حوالے سے پارلیمنٹ میںسخت موقف اختیار کر نے کے علاوہ عوامی سطح پر احتجاج کی راہ بھی اختیار کرسکتی ہیں ۔ سینیٹ انتخابات کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اگر چہ ملک کے اندر پہلے بھی یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی طرح سینیٹ کے انتخابات بھی عوامی ووٹوں کے ذریعے کرائے جائیں جبکہ اب عمران خان اور بعض دوسرے رہنما تو اتر کے ساتھ یہ مطالبات کر رہے ہیں کہ ہارس ٹریڈنگ سے نجات کیلئے سینیٹ انتخابات بھی عام انتخابات کی طرز پر کرائے جائیں اور انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر وہ 2018کے انتخابات میں بر سر اقتدار آگئے تو وہ اس حوالے سے قانون سازی کریں گے ۔ ان کی یہ خواہش بہر حا ل اگر مگر کی کیفیت لئے ہوئے ہے یعنی اگر وہ بر سر اقتدار آبھی گئے تو سینیٹ میں اس حوالے سے کسی بھی ترمیم کیلئے ان کے پاس وہ طاقت نہیں ہوگی ۔ اگرچہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے یقینا ایک بہتر تجویز ہے اور اصولاً اس کے ساتھ عدم اتفاق کا کوئی جواز بھی نہیں دکھائی دیتا ۔ مگر ایسی کسی بھی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اتفاق رائے یا پھر اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کن کردار ادا کرنا لازمی ہے ، اور جہاں تک 2018ء کے انتخابات کا تعلق ہے تو ہنوز دلی دورا ست والی ہی کیفیت ہے ۔ جبکہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ارکان سینیٹ اس قسم کی کسی بھی ترمیم کی اس وقت تک حمایت پر آمادہ ہوں گے جب تک ترمیم لانے والی کسی بھی حکومت کو وہاں بھی اکثر یت حاصل نہ ہو ۔ اس لئے اس سوچ اور خواہش کو پذیرائی ملتی ہے یا نہیں یہ بھی آنے والا وقت بتائے گا اور لیگ (ن) بھی آگے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے اس کیلئے بھی تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا ۔

اداریہ