Daily Mashriq


بھارتی اپوزیشن کا مطالبہ

بھارتی اپوزیشن کا مطالبہ

بھارت میں اپوزیشن کی دو اہم جماعتوں کا نگریس اور سی پی آئی ایم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کرے ، پاکستان جو مذاکرات کیلئے ہمہ وقت آمادگی کا اظہار کرتا ہے اُس سے فائدہ اٹھایا جائے ، کیونکہ حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر سمیت پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کو بات چیت سے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستانی ہمیشہ سے ہمسایہ ہونے کے ناتے بھارت کے ساتھ اپنے تمام تنازعات بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کرنے کا خواہشمند رہا ہے اور اس ضمن میں دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا خواہشمند ہے ، مگر بھارت کے جنگ پسند حکمران نہ صرف اس حوالے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں اس ظلم و جو ر کا بازار بھی گرم کر رکھا ہے ۔ حالانکہ کشمیری عوام مقبوضہ وادی پر اس کے تسلط کو کسی بھی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ بھارت کے سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے مرکزی رہنما سلمان خورشید نے اپنے ایک انٹر ویومیں بھارتی وزیر اعظم نریندری مودی پر الزام عاید کیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں پاکستانی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں نہ تو حکومت کو اعتماد میں لیا ہے نہ ہی اپوزیشن کو سچ بتایا ہے ، پاکستان سے تعلقات کے بارے میں مودی حکومت کی پالیسی اپنے خاتمے پر پہنچ گئی ہے ، یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کوئی متبادل نہیں ہے بھارت خارجہ پالیسی کے حوالے سے دنیا پر اپنی گرفت کھور ہا ہے ، دوسری جانب حزب اختلاف کی ایک اور بڑی جماعت سی پی آئی ایم کا بھی یہی خیال ہے کہ پاکستان کے حوالے سے حکومت کی کوئی پالیسی ہی نہیں ہے ۔ مذکورہ پارٹی کے ترجمان جریدے پیپلز ڈیمو کریسی کے تازہ شمار ے میں حکومت سے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔ ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے اس بیان کی بھی حمایت کی ہے کہ خون خرابہ روکنے کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت ضروری ہے ۔ بھارت کے اندر سے اتنی اہم آوازیں اٹھنے کے بعد مودی حکومت کو ان تجاویز پر سنجید گی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ اصول عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ جنگ وجدل سے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے ، خصوصاً جبکہ دونوں ملک ایٹمی قوت ہیں اور دونوں کے جوہری اثاثے ڈیٹرینٹ کے طور پر جنگ سے ایک دوسرے کو باز رکھنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔ ایسے میں صرف اور صرف مذاکرات ہی واحد راستہ رہ جاتے ہیں جو بہتر تعلقات کا باعث بن سکتے ہیں ، امید ہے بھارتی حکمران اپنی ہٹ دھرمی ترک کر کے مذاکرات کی راہ اختیار کریں گے ۔

متعلقہ خبریں