Daily Mashriq


سینیٹ الیکشن‘ الزامات‘ سیاپے اور نتیجہ

سینیٹ الیکشن‘ الزامات‘ سیاپے اور نتیجہ

سینیٹ الیکشن بھی مکمل ہوگئے۔ نون لیگ ایوان بالا میں عددی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی مگر اتحادیوں کے تعاون کے بغیر ایوان کی سربراہی ممکن نہیں ہوگی۔ تحریک انصاف کے ہم خیال امیدوار مولانا سمیع الحق کو فقط تین ووٹ ملے۔ میاں نواز شریف کے برطانوی انویسٹر زبیر گل بھی پنجاب سے ہار گئے۔ متحدہ قومی موومنٹ میں دھڑے بندی کی وجہ اس کا بہادر آباد گروپ بیرسٹر فروغ نسیم کو سینیٹر بنوانے میں کامیاب ہوگیا انہیں پی آئی بی گروپ کے پوائنٹس بھی ملے مگر پی آئی بی کے امیدوار ٹیسوری کو بہادر آباد والوں نے دوسری ترجیح میں نہیں رکھا۔ پنجاب کی 12 میں سے 11نشستیں نون لیگ اور ایک پی ٹی آئی کو ملی۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کی 12 میں سے 10نشستیں لے لیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی پختونخوا سے دو دو سیٹیں لینے میں کامیاب رہیں۔ ایک نشست جماعت اسلامی کے حصے میں آئی۔ ایک جے یو آئی (ف) کے 5تحریک انصاف کو ملیں۔ 3مارچ کی شام ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے تجزیہ نگاروں میں سے کچھ نفسیاتی مریضوں جیسی گفتگو فرما رہے تھے ۔ سندھ میں ایم کیو ایم کے ’’حشر‘‘ پر اس کے حامیوں کا سوشل میڈیا پر سیاپا مقامی مہاجر نفرت کی سیاست کا خاصا تھا۔ ’’ پدرم سلطان بود‘‘ کی سوچ رکھنے والی ایم کیو ایم اور اس کے نسل پرست حامیوں کو اپنے گھر کے کج دیکھنا ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کو بھی اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ایم کیو ایم کے جن ارکان صوبائی اسمبلی نے پچھلے ایک سال کے دوران ایم کیو ایم سے ہجرت کرکے پی ایس پی (فقیر راحموں پیار سے اسے پولیس سروس آف پاکستان کہتے ہیں) میں شامل ہوئے تھے ان کے خلاف ایم کیو ایم کی طرف سے دی گئی نا اہلی کی درخواستوں پر فیصلہ کیوں نہیں کیاگیا۔ پی ایس پی نے پگاڑا لیگ سے تعاون کیا جس کی بدولت سید مظفر علی شاہ سینیٹر منتخب ہوگئے۔ خرید و فروخت کی اطلاعات پر تجزیہ کرتے تجزیہ نگاروں کی توپوں کارخ 3مارچ کی شام زرداری کی طرف رہا مگر وہ یہ نہیں بتا پائے کہ پنجاب سے پھر چودھری سرور آف پی ٹی آئی کیسے جیتے۔ 30ووٹ والا اگر44ووٹ لے تو سوال بنتا ہے ۔ شب بھر میں ایمان کی معراج پانے والے مشاہد حسین سید وفاقی دارالحکومت سے نون لیگ کے سینیٹر بن گئے۔ نون لیگ کے ہی اسد جونیجو وفاقی دارالحکومت کی دوسری نشست لے گئے۔ اسد جونیجو سابق وزیر اعظم مرحوم محمد خان جونیجو کے صاحبزادے ہیں۔اسحاق ڈار پنجاب سے سینیٹر منتخب ہوئے پنجاب کو ہی یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں سے ڈیرہ غازی خان کے سینکڑوں طلباء کا مستقبل تاریک کرنے والے عبدالکریم بھی ٹیکنو کریٹ نشست پر جیت گئے۔ ارب پتی حافظ عبدالکریم ان دنوں وفاقی وزیر مواصلات اور نون لیگ کے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ ویسے وہ ساجد میر کی مذہبی جماعت کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ نواز شریف کے برطانوی انویسٹر زبیر گل کو ان کے گروپ میں شامل جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی لے بیٹھے۔ انہوں نے ایک برطانوی کو ووٹ دینے کی بجائے نون لیگ کے ہی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رانا محمود الحسن کو ووٹ دے دئیے۔ بلوچستان سے نیشنل پارٹی اور پختونخوا میپ نے دو دو اور جے یو آئی ف نے ایک نشست حاصل کی جبکہ 6 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ انجمن سیاپا فروشان الیکٹرانک میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں زرداری نے اربوں روپے چلائے اس لئے 6آزاد امیدوار جیتے۔ زرداری چند ارب روپے پنجاب میں لگا کر ایک سیٹ نکال سکتے تھے کیونکہ پی پی پی کے امیدوار نے پنجاب میں 26ووٹ لئے جبکہ اس کے ارکان 6تھے۔ 20ووٹ خریدنے والی جماعت نے مزید 20ووٹ کیوں نہ خریدے اس راز سے سیاپا فروشوں کو پردہ اٹھانا چاہئے تاکہ سند رہے بوقت ضرورت کام بھی آئے۔پیپلز پارٹی نے سندھ سے معاشرے کے عام طبقوں سے تعلق رکھنے والے انور لعل دین اور کرشنا کو لہی کو سینیٹر بنوایا۔ متوسط طبقے کے دو ارکان رضا ربانی اور مولا بخش چانڈیو جبکہ مڈل کلاس کے بھی دو ارکان ڈاکٹر سکندر اور محترمہ زبیری کو سینیٹر بنوا دیا۔ یوں اگر حساب کیا جائے تو پی پی پی نے صرف سندھ سے 8معروف سیاسی کارکنوں کو سینیٹر بنوایا۔ جناب شوقین اور مصطفی کھوکھر کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ پختونخوا سے پی پی پی کے کامیاب ہونے والے ایک امیدوار بہرہ مند تنگی معروف سیاسی کارکن ہیں ان کے بھائی محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ شہید ہوئے تھے۔ اس حساب سے پیپلز پارٹی نے سیاسی عمل کا حصہ رہنے والے مختلف طبقات کے سیاسی کارکنوں کو ترجیح دی۔ پختونخوا سے ہی محترمہ روبینہ خالد دوسری بار بھی سینیٹر منتخب ہوئیں۔ پنجاب سے نون لیگ کے تمام سینیٹرز کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے ہے۔ تحریک انصاف نے بھی الحمدللہ اشرافیہ کو ہی نوازا۔ اعظم سواتی کا ٹرک ہوٹل ہے نا ایوب آفریدی کی بادامی باغ میں سرائے۔ چودھری سرور بھی لاہور میں نان چھولے نہیں بیچتے۔ بہر طور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عملیت پسند سیاسی کارکنوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی آگے رہی۔ نیشنل پارٹی پیچھے اور اچکزئی جماعت اس سے پیچھے۔ جے یو آئی (ف) کے طلحہ محمود ارب پتی شخصیت ہیں۔ کامران ٹیسوری کراچی میں گول گپے بیچتے ہیں یا فروغ نسیم کسی وکیل کے منشی ہیں۔ ٹیسوری بھی ارب پتی ہیں‘ فروغ نسیم کروڑوں میں فیس لینے والے قابل وکیل۔ 3تاریخ کے دو واقعات ہمیشہ سیاسی تاریخ کا حصہ رہیں گے اولاً یہ کہ 16سالہ جوان بیٹے کا جنازہ گھر میں رکھا تھا اور غمزدہ ماں محترمہ روبینہ قائم خانی ووٹ ڈالنے سندھ اسمبلی پہنچ گئیں جبکہ ہمارے عظیم لیڈر عمران خان کسی روحانیہ کے مشورہ پر ووٹ ڈالنے قومی اسمبلی نہ گئے۔ لال حویلی والے شیخ رشید بھی دن بھر سگار کا دھواں اڑاتے رہے مگر ووٹ ڈالنے نہ جاسکے۔ 3 مارچ کی شام سے ہی ایوان بالا کی سربراہی حاصل کرنے کے لئے پی پی پی اور نون لیگ کی دوڑ شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

متعلقہ خبریں