Daily Mashriq


سرزمین سخت جاں

سرزمین سخت جاں

میرا ملک پاکستان بھی کتنا سخت جان ہے۔ ستر برسوں تک اسے جس طرح نوچا کھسوٹا گیا، اس کی سا لمیت پر بری طرح سے وار کئے گئے، اس کے وسائل پر منظم انداز میں ڈاکے ڈالے گئے اس کے باوجود یہ قائم ہے اور دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے تو اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟جب بھی اس نکتے پر غور کیا تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ اس کا قیام اللہ کی طرف سے ایک معجزہ تھا اور اس کی حفاظت خود اللہ کرتا رہا کیونکہ اسے اسلام کی ایسی پناہ گاہ کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا جس میں مسلمان امن، سُکھ اور چین کی زندگی گزار سکیں اور ساری دنیا کے مشرک مل کر بھی اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اس ملک کو اللہ نے ایک ایسی مشرک ریاست کے وجود سے الگ کر کے تشکیل دیا تھا جس میں کروڑوں مشرک اللہ کی وحدانیت کے منکر ہیں۔ جس میں دن رات پتھر کے بتوں کی پوجا ہوتی ہے اور جس کے طول وعرض میں اذانوں سے زیادہ بھجنوںکی آوازیں گونجتی ہیں۔اس ملک پاکستان کی تشکیل اللہ نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں کی۔ یہ وہ رات ہے جس میں اللہ کے حکم سے فرشتے زمین پر اُترتے اور اس کے بندوں میں اللہ کی رحمتیں تقسیم کرتے ہیں۔ گویا جس رات یہ ملک معرض وجود میں آیا، اس رات اللہ کے کروڑوں نام لیواؤں کیساتھ ساتھ ملائکہ بھی اس سرزمین پر موجود تھے اور ان میں اللہ کی رحمتیں تقسیم کر رہے تھے۔ آج ستر برس گزر چکے ہیں، لوٹنے والے اسے لوٹ لوٹ کر تھک گئے لیکن اس کے باوجود آج بھی اس ملک کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ یہ ملک عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ بھارت جیسے دشمن کو کاؤنٹر کرنے کیلئے پاکستان کو میزائلوں کی ضرورت تھی جو شمالی کوریا نے پوری کر دی۔ اس کے بعد پاکستان نے خود میزائل سازی شروع کی، دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔ آج شاہین، حتف، غوری اس نہج پر ہیں کہ بھارت کا چپہ چپہ ان میزائلوں کی زد میں ہے اور ان کی دہشت کی وجہ سے بھارت کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہیں ہوتی۔ اس پروگرام کیلئے اللہ نے جس طرح پاکستانی سائنسدانوں کیلئے آسانیاں پیدا کیں اس سے اس سوچ کو اور تقویت ملتی ہے کہ اس ملک پر اللہ کا خاص کرم ہے اور یہ تمام تر بندوبست اسی غفور الرحیم آقا کی طرف سے ہے۔ایک وہ زمانہ تھا جب پاکستان جرمنی جیسے ملک کو قرضہ دیتا تھا۔ زرعی میدان میں اس کا طوطی بولتا تھا۔ عوامی جمہوریہ چین جو آج زراعت میں فقید المثال ترقی کر چکا ہے ساٹھ کی دہائی میں پاکستان سے فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے پاکستان کی مدد کا محتاج تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں چین نے سرکاری طور پر پاکستان سے درخواست کی کہ وہ زرعی ماہرین کا وفد بیجنگ بھیجے جو چینی کسانوں کی تربیت کرے۔ پاکستان کے زرعی ماہرین نے کشادہ دلی سے چینی دوستوں کی مدد کی تو چین کی زراعت بہتر ہونے لگی اور یہ اس میدان میں آگے ہی آگے بڑھتا گیا اور آج چینی اناج، سبزیاں اور پھل سوا ارب سے زائد چینیوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد دنیا بھر میں ایکسپورٹ بھی کئے جا رہے ہیں۔ اور یہ دارالخلافہ جسے ہم اسلام آباد کے نام سے جانتے ہیں ساٹھ کی دہائی میں ایک جنگل بیابان تھا۔ ایوب خان نے دارالحکومت کراچی سے منتقل کرنے کی ٹھانی تو ان کی نظر انتخاب اسلام آباد پر ٹھہر گئی۔ اس کا ماسٹر پلان اتنا خوبصورت تھا کہ جب یہ شہر بنا اور آباد ہونا شروع ہوا تو دنیا حیران وششدر رہ گئی۔ آج اس کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں ہوتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارتی دارالحکومت دہلی کی بات کریں تو یہ راولپنڈی کے مقابلے کا بھی نہیں ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ دنیا میں ستاون اسلامی ممالک ہیں اور پاکستان پوری ملت اسلامیہ کی آرزوؤں اور اُمیدوں کا مرکز ہے۔ دنیا کا یہ واحد اسلامی ملک ہے جو حرمین شریفین کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن اسلام دشمنوں کی نظریں مکہ اور مدینہ پر ہیں انہیں پاکستان کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ یہ اللہ کا خاص رحم وکرم ہے جن اسلام دشمن طاقتوں نے عراق کو لہو میں ڈبو دیا، افغانستان کو تاخت وتاراج کر کے رکھ دیا، شام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی، لیبیا کے وجود پر تازیانے برسائے، انہیں پاکستان پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہیں ہوتی۔ سترکی دہائی میں جن ملکوں نے اسلامی بلاک بنانے کی بات کی تھی ان سب ملکوں کیساتھ امریکہ اور اسرائیل نے کیا کیا؟ واحد پاکستان ایسا ملک ہے جس کے خاتمے کی خواہش کرنیوالے بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہ کر سکے حالانکہ جن ملکوں کو تاخت وتاراج کیا گیا وہ معاشی اعتبار سے پاکستان سے بہت آگے تھے۔ ایک طبقہ دلیل دیتا ہے کہ ہم معاشی طور پر مضبوط ہو جائیں تو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، سڑکوں اور پلوں کے ذریعے ترقی اور آگے بڑھنے کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ طبقہ بھول جاتا ہے کہ جب روس کو شکست وریخت کا سامنا کرنا پڑا اس وقت سڑکوں اور پلوں کے اعتبار سے وہ امریکہ کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملک تھا۔ اس کے پاس سب کچھ تھا بجز لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے۔ وہ نظریہ جس کے تحت انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں پاکستانی فوج کے جوان چونڈہ میں بھارتی ٹینکوں کے آگے جسموں سے بم باندھ کر لیٹ گئے تھے اگر روسیوں کے پاس بھی ہوتا تو امریکہ تو کیا پوری دنیا مل کر بھی اسے زیر نہیں کر سکتی تھی۔ سو جذبے اور نظرئیے ہی قوموں کو زندہ رکھتے اور سر بلند کرتے ہیں۔ مادی ترقی کے وہ پیمانے ہرگز نہیں جس کا ذکر ہمارے کچھ نادان دوست کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں