کیا اپنی درستگی کی ضرورت نہیں

کیا اپنی درستگی کی ضرورت نہیں

کئی لوگ ایسے ہیں جن کی تنخواہوں کے بارے میں سن کر ہمارا دل دھک سے رہ جاتا ہے۔ ہمارا بل گیٹس سے یا ڈونلڈ ٹرمپ سے تو کوئی مقابلہ نہیں لیکن اس ملک میں‘ اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے اپنے معاملات کو سنبھالتے ہوئے اپنے ہی ارد گرد‘ اپنے جیسے لوگوں کی تنخواہوں کا سن کر آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہمارے قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں کے بارے میں چونکہ گفتگو ہوتی رہتی ہے تو کئی بار دماغ اس سوال میں اُلجھ جاتا ہے کہ ان لوگوں کی تنخواہوں کی زیادتی اس غریب ملک کیساتھ کس قدر ہے اور پھر یہ وہ لوگ ہیں جن کے منہ کو اس ملک کا خون بھی لگا ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کسی تنخواہ کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب جانتے ہیں وہ اس ملک کو کس کس طرح لوٹ رہے ہیں۔ وہ سرکاری افسران جو انہی سیاستدانوں کو انکار نہیں کر سکتے اور پھر اس انکار نہ کرسکنے کی مجبوری کو آہستہ آہستہ اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں جب کبھی بھی قانون کے شکنجے میں کسا جاتا ہے ہر جانب سے بڑی ہاہاکار مچتی ہے۔ وہی جرنلسٹس جو خود بھی کئی مراعات کے خواہشمند ہوتے ہیں اور جن کے نام کیساتھ خود انہی کے ہم عصروں نے کئی قسم کی مراعات کی کہانیاں لکھی ہوتی ہیں وہ اچانک ہی ان بیورو کریٹس کی کہانیاں لکھنے کو قلم نکال لیتے ہیں۔ میں کسی بیوروکریٹ کی جانب داری میں یہ باتیں نہیں کر رہی۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ پہلا پتھر وہی مارے جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ ہمارے ملک کا عالم تو یہ ہے کہ بڑے صاحب کے دروازے پر بیٹھا چپڑاسی بھی صاحب سے ملاقات کیلئے پیسے وصول کرتا ہے اور ایک مالی بھی پنیری کے پیسے وصول کرنے کے بعد بھی اسی گملے میں سے آدھی پنیری دوسروں کے گھر بیچ آتا ہے۔ اس ملک میں کسی ایک نام کے حوالے سے کہانیاں لکھی جانا اور اس کی کرپشن کی مثالیں دینا بڑا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ میں ان افسروں کو بھی جانتی ہوں جو خود اپنی ایمانداری کے قصے اتنا سینہ ٹھونک کے سناتے ہیں جیسے ان پر کبھی کوئی بات نہیں کر سکتا اور انتہائی اطمینان سے خشوع وخضوع سے نمازیں پڑھتے وہ اپنے آپ کو تقریباً جنتی تصور کرتے ہیں۔ان کیلئے حکومت کی جانب سے دی گئی Monetization کے باوجود سرکاری گاڑی کا استعمال بھی غلط نہیں ہوتا اور ایک کے بجائے کئی گاڑیاں بھی انہیں کم محسوس ہوتی ہیں۔ وہ سرکاری گاڑیوں کو ہی اپنے بچوں کی اردل میں مسلسل کھڑا رکھتے ہیں۔ بیگم صاحبہ الگ گاڑی استعمال کرتی ہیں۔ سارے معاملات سرکاری خرچ سے طے پاتے ہیں لیکن صاحب بہادر ایماندار ہوتے ہیں۔ پھر وہ بیوروکریٹس جنہیں نیب پکڑ لیتی ہے جو ان سے بہت آگے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں جن کیلئے دنیا ہی سب کچھ ہے اور وہ اپنا دین ایمان مکمل طور پر واضح کرچکے ہوتے ہیں۔ ان بیوروکریٹس کی بے ایمانی کی کہانیاں سنا کر یہ دل کو تسلی بھی دیتے ہیں اور شام کی گفتگو بھی دوست احباب سے کرتے ہیں۔
وہی جرنلسٹس‘ وہی بیوروکریٹس اور وہی معاشرے کے باقی ستون۔ ہم میں سے کون الگ ہے‘ کیا دکاندار تھوڑی ڈنڈی مارنے کو درست تصور نہیں کرتا‘ کیا ٹرک ڈرائیور اپنے حصے کی بے ایمانی نہیں کرتا۔ یہ اپنی اپنی طاقت اور قدرت کے جھمیلے ہیں۔ پریشانیاں ہیں‘ ہر چھوٹا چور‘ بڑے چور سے خائف ہے۔ ہر چھوٹا ڈاکو بڑے ڈاکو کی غیبت کرتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم سب موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کچھ بندشیں تربیت کی ہیں جن میں ہم جیسے لوگ الجھے رہتے ہیں۔ دنیا والوں کا خوف محسوس ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ دنیا میں کسی کو کچھ پتا نہ چلے گا تو شاید اس برائی سے اتنی جھجھک بھی محسوس نہ ہو۔ ہم عجیب سے لوگ ہیں اور بحیثیت قوم تباہ ہو چکے ہیں۔ اس وقت ہمیں اپنی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنی روح شیطان کے ہاتھوں فروخت کرچکے ہیں اور ہمیں اس بات کا ابھی تک شاید اندازہ ہی نہیں۔ ہم بھول ہی چکے ہیں معاملات کبھی بہتر ہی ہوا کرتے تھے۔ کبھی بچے گلیوں میں بے خطر کھیلا کرتے تھے۔ کبھی دھوپ کی شدت ایسی تیز نہ تھی‘ کبھی دوپہر کو ساتھ والوں کی دیوار پر چڑھ کر خوبانی چرانا ہی شرارت تھا‘ کبھی سائیکل چلانا ہی مکمل آزادی کی دلیل تھا۔ اب ہمارے بچے منشیات کیلئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ انہیں سکولوں اور کالجوں میں ہی بہت آسانی سے منشیات مل جاتی ہیں۔ ہماری بچیاں اب گلیوں میں باہر نکل نہیں سکتیں کیونکہ ان کیلئے درندے تیار بیٹھے ہو تے ہیں اور اس معاشرے کا گند ہمیں ہڑپ کر لینے کیلئے بے چین ہے۔ میں سوچتی ہوں ہم کیسے ان لوگوں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ یہ سیاستدان‘ یہ بیوروکریٹ‘ یہ سب لوگ جنہیں ہم اپنے بھی گناہوں کے ذمہ دار ٹھہرا کر سمندر کی کسی اتھاہ گہرائی میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ کیا یہ لوگ ہمارے اندر موجود خواہشات کی سیاہی دھو سکتے ہیں۔ کیا ہم میں سے ہر ایک کو اپنی درستگی کی ضرورت نہیں۔

اداریہ