کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

پشاور میں چڑیا گھر کی تعمیر ایک احسن اقدام ہے یہاں لوگوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ کوئی تفریحی مقام ہی نہیں جہاں بندہ ڈھنگ سے فیملی کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے جاسکے اس لیے جب چڑیا گھر کو عوام کے لیے کھول دیا گیا تو ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ چلو بچوں اور بڑوں کے لیے پشاور میںایک تفریحی مقام کااضافہ تو ہوا جہاں تھوڑی دیر کے لیے لوگ بھانت بھانت کے جانور وں کو دیکھ کر اللہ پاک کی قدرت کا نظارہ کرسکتے ہیں:
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
اب چند دنوں سے اس قسم کی خبریں پڑھنے اور سننے کو مل رہی ہیں کہ ہم لوگوں نے بے زبان جانوروں پر بھی تیر ستم آزمانے شروع کردیے ہیں۔ چڑیا گھر کے اندر محفوظ پنجروں اور لوہے کی سلاخوں کے پیچھے موجود جانور بھی حضرت انسان کی دل آزاری سے محفوظ نہیں ہیں۔ یاروں نے ان بے زبانوں پر پتھر برسانے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اب تک کئی جانور زخمی ہوچکے ہیں۔ ایک ہرن کے مرنے کی بھی اطلاع ہے۔ کہتے ہیں جنگل کا بادشاہ شیر بیچارہ بھی بھیگی بلی بنا اپنے پنجرے میں دبکا رہتا ہے کسی ستم ظریف نے ایک ریچھ کو نسوار کھلادی جس کی وجہ سے وہ اپنے ہوش و حواس ہی کھو بیٹھا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے پنجرے سے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔ یہ صورتحال ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کیا ہم اخلاقی طور پر اتنے گرچکے ہیں کہ اللہ پاک کی مخلوق ہم سے اپنے پنجروں میں بھی محفوظ نہیں ہے!ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ چڑیاگھر میں موجود عملہ جانوروں کی حفاظت کرنے سے کیوں معذور ہے۔کیا وہاں مناسب تعداد میں محافظ موجود نہیں ہیں ؟یا پھر ساری حفاظتی تدابیر کے باوجود لوگوں کا ہجوم ساری رکاوٹیں توڑتا ہوا جانوروں کو پتھر مارنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہتے ہیں ایک شریف سا بندر دھوپ سینک رہا تھا کہ ایک منچلے نے اسے پتھر مارا۔ بیچارے کو پتھر لگا تو وہ اپنی جگہ سے چھلانگ کر اچھلااور درد سے تڑپنے لگا۔ یہ تماشا دیکھ کر پنجرے کے باہر کھڑے لوگ قہقہے لگاتے رہے ۔ ہماری موٹی عقل میں جو بات آتی ہے وہ یہی ہے کہ ہم لوگ ان دینی تعلیمات و احکامات سے باخبر نہیں ہیں جو جانوروں کے حوالے سے قرآن پاک ، احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ موجود ہیں۔ ان لوگوں کو اللہ اور رسولﷺ کے احکامات سے روشناس کرانا بہت ضرور ی ہے خیر سے ہماری مساجد آباد ہیں۔ لوگ نمازیں بھی خوب پڑھتے ہیں علمائے کرام اس حوالے سے اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرسکتے ہیں اگر عام لوگوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پرندوں اور جانوروں کے حقوق کے حوالے سے آگاہ کردیا جائے تو چڑیا گھر میں رہنے والے معصوم جانور سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ سب جاندار جن میں انسان ، پرندے ، جانور اور کیڑے مکوڑے شامل ہیں سب اللہ پاک کی تخلیق اور مخلوق ہیں اور ہمارے پیارے دین نے ہمیں ان کے احترام کا درس دیا ہے تمام بنی نوع انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جانوروں کے احترام کو یقینی بنائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھے ۔ قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ میں جانوروں کے ساتھ پیار ، ہمدردی ومہربانی کے بہت سے واقعات موجود ہیں ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ ان کے کھانے پینے کا خیال رکھنا انہیں سہولتیں فراہم کرنا نبی کریمﷺ کے لائے ہوئے دین کا کلمہ پڑھنے والوں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ قرآن پاک میں کئی مقامات پر جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی بات کی گئی ہے ۔قرآن پاک میں سورۃ الانعام کی آیت نمبر 38میں اللہ پاک فرماتا ہے: ’’ اور جتنے قسم کے جانور زمین پر چلنے والے ہیںاور جتنے قسم کے پرندے ہیںکہ اپنے دونوں پروں سے اڑتے ہیںان میں کوئی قسم ایسی نہیں کہ جو تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوںہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کیے جائیں گے۔ )القرآن 6:38)اگر قرآنی تعلیمات کے مطابق پرندے اور جانور ہماری ہی طرح کے گرو ہ ہیں یعنی ہماری طرح سانس لیتے ہیں یہ موسمی اثرات سے متاثر ہوتے ہیں یہ بھی ہماری طرح دکھ درد تکلیف محسوس کرتے ہیں انہیں بھی اپنے بچوں سے اتنا ہی پیار ہوتا ہے جتنا پیار ہم اپنی اولاد سے کرتے ہیں تو یقینا ہمیں اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے ان کا ہر طرح سے خیال رکھنا چاہیے ۔نبی کریم ﷺ نے جانوروں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کا بار بار کہا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک چڑیا کے ساتھ بھی رحم دلی کا مظاہرہ کرے گا تو قیامت کے دن اللہ پاک اس پر رحم کرے گا۔ابو دائود کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک اونٹ کے قریب سے گزرے وہ اتنا کمزور اور لاغر تھا کہ اس کی پشت اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہوئی تھی اسے دیکھ کر آپ نے فرمایا : ’’ ان جانوروں کے حوالے سے اللہ پاک سے ڈرتے رہو یہ تو بے زبان ہیں‘‘ یعنی یہ بول نہیں سکتے اپنا دکھ بیان نہیں کرسکتے لیکن یہ اپنا دکھ درد اسی طرح محسوس کرتے ہیں جس طرح انسان!یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم لوگوں کو اس حوالے سے تعلیم دیں جانوروں کے حقوق پر بات کریں میڈیا بھی اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ نے آپ سے پوچھا : اے اللہ کے پیغمبر ﷺ کیا جانوروں کی خدمت کرنے کا ہمیں اجر ملے گا؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ یقینا ہر جاندار کی خدمت کرنے کا اجر و ثواب ملے گا۔

اداریہ